🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3258. -- باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص
-- باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16052
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَزْرَةُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ ابْنُ أَبِي الْحُنَيْنِ: سَعْدَوَيْهِ: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، يَعْنِي فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ" فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ فَأَبَى أَنْ يَعْفُوَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ كَذَا رَوَاهُ هُشَيْمٌ، ⦗٩٨⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَقَالَ فِيهِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ أَشْوَعَ فَقَالَ ابْنُ أَشْوَعَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ فَقَالَ حَبِيبٌ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَمَرَهُ بِالْعَفْوِ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَتَلَ أَخِي فَهُوَ فِي النَّارِ، فَإِنْ قَتَلْتُهُ فَأَنَا مِثْلُهُ؟ قَالَ: قَتَلَ أَخَاكَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَأَمَرْتُكَ فَعَصَيْتَنِي فَأَنْتَ فِي النَّارِ إِنْ عَصَيْتَنِي وَقَدْ قِيلَ: إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْقَاتِلَ قَالَ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، وَذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ: فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَقَتَلْتَهُ وَأَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ فَأَنْتَ مِثْلُهُ وَالَّذِي قَالَهُ حَبِيبٌ أَوِ ابْنُ أَشْوَعَ بَيِّنٌ.
علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تاکہ اس سے قصاص لیا جائے، اس کی گردن میں ایک تسمہ تھا جس سے اسے کھینچا جا رہا تھا۔ جب وہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔“ تو ایک شخص اس آدمی سے ملا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اسماعیل فرماتے ہیں: میں نے یہ بات حبیب بن ابی ثابت کو بتائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ابن اشوع نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ اس نے انکار کر دیا تھا۔
اور ابو عوانہ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن اشوع سے کہا تو ابن اشوع نے فرمایا: میں نے یہ بات حبیب کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کیا ہے کہ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی کو قتل کر دیا، وہ جہنم میں ہے، اگر میں اسے قتل کر دوں تو کیا میں بھی اس جیسا ہوں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے بھائی کو قتل کیا وہ جہنمی ہے اور اگر تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی تو تو بھی جہنم میں جائے گا۔“
اور ایک قول یہ بھی ہے یہ اس وجہ سے فرمایا: کیونکہ قاتل نے یہ کہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: اگر وہ سچا ہے اور تو نے اسے قتل کر دیا اور تو جانتا بھی ہے کہ وہ سچا ہے تو تو بھی اس جیسا ہو جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16052]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16053
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْفَامِيُّ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ قَالَ: إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا، فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ أَخِي فَقَتَلَهُ، قَالَ:" اعْفُ عَنْهُ" فَأَبَى، قَالَ:" فَخُذِ الدِّيَةَ" قَالَ: مَا أُرِيدُ الدِّيَةَ قَالَ: فَأَعَادَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ" فَأَبَى، قَالَ:" خُذِ الدِّيَةَ" فَأَبَى، فَأَعَادَ الْحَدِيثَ قَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" خُذِ الدِّيَةَ" فَأَبَى، فَلَمَّا أَبَى إِلَّا أَنْ يَقْتُلَ قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ"، قَالَ: فَأَصْنَعُ مَاذَا؟ قَالَ:" تَعْفُو عَنْهُ" قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.
علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھیں ان کے والد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص کو لایا گیا، اس کے گلے میں تسمہ باندھا ہوا تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ اور میرا بھائی ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھایا اور میرے بھائی کے سر پر مارا اور اسے قتل کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو۔“ انھوں نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو۔“ کہنے لگا: مجھے دیت بھی نہیں چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی اور دیت کا کہا تو اس نے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تو بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ تو وہ کہنے لگا: پھر میں کیا کروں؟ فرمایا: ”معاف کر دے۔“ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اسے اس کے تسمے سے پکڑ کر واپس لے جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16053]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16054
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ هَارُونَ السِّمَّرِيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عُمَرَ الْعَائِذِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ فَتَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَهُ:" تَعَالَ أَتَعْفُو؟" مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ مِثْلَ قَوْلِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الرَّابِعَةِ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ" قَالَ: فَتَرَكَهُ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، وَقَالَ فِيهِ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عَوْفٍ:" يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ.
علقمہ بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ایک قاتل کو لایا گیا جس سے قصاص طلب کیا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولیوں سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم دیت لینا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے لے جاؤ۔“ جب وہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ بلایا اور پھر معافی اور دیت کا پوچھا تو انہوں نے وہی جواب دیا، تین مرتبہ ایسا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا: ”اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ تیرا گناہ اور تیرے صاحب کا گناہ اپنے سر لے لے گا۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو گھسیٹ رہا تھا۔ اور یحییٰ قطان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اس کا گناہ اور تیرے صاحب کا گناہ اپنے سر لے لے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16054]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16055
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا ابْنُ شُعَيْبٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَقَّ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاسْتَعْدَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَلَّا، إِنَّا سَنُرْضِيكَ قَالَ: وَأَلَحَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَأَكَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى أَبْرَمَهُ، فَقَالَ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ قَالَ: وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَصَّدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً" فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: فَإِنِّي أَدَعُهَا لِلَّهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا جَرَمَ، وَاللهِ لَا تَخِيبُ، وَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ.
ابوسفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے ایک انصاری کے دانت توڑ دیے۔ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ انصاری کہنے لگا: اس نے میرے دانت توڑ دیے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہرگز نہیں۔ آپ کو راضی کریں گے، ہم تو، انصاری نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اصرار کیا اور ان کے پیچھے پڑا رہا یہاں تک کہ انہیں تنگ کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: اپنے آدمی کے ساتھ جو چاہو کرو۔ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس بیٹھے تھے، فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو بھی کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی ہے، وہ اسے صدقہ کرتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے درجات بلند فرماتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔“
وہ انصاری سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، تو وہ انصاری کہنے لگا: میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16055]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16056
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أُصِيبَ بِجَسَدِهِ بِقَدْرِ نِصْفِ دِيَتِهِ فَعَفَا كُفِّرَ عَنْهُ نِصْفُ سَيِّئَاتِهِ، وَإِنْ كَانَ ثُلُثًا أَوْ رُبُعًا فَعَلَى قَدْرِ ذَلِكَ" فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللهِ لَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ: وَاللهِ لَسَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا مُنْقَطِعٌ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس فرمایا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ”جس کو نصف دیت کے برابر اگر کوئی جسمانی تکلیف پہنچائی گئی اور اس نے معاف کر دیا تو یہ اس کی آدھی غلطیوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور جس کو ثلث یا ربع دیت کے برابر تکلیف پہنچی تو اس کے لیے یہ ربع یا ثلث گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔“ وہ شخص کہنے لگا: کیا واقعی آپ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16056]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ منقطع»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3259. -- باب: لا عقوبة على كل من كان عليه قصاص فعفي عنه في دم ولا جرح
-- باب: جس پر جان یا زخم کا قصاص واجب ہو اور اسے معاف کر دیا جائے تو اس پر کوئی (مزید) سزا نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16057
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ ضَرَبَ صَفْوَانُ بْنُ مُعَطَّلٍ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ بِالسَّيْفِ ضَرْبًا شَدِيدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُقْطَعْ صَفْوَانُ، وَعَفَا حَسَّانُ بَعْدَ أَنْ بَرِئَ فَلَمْ يُعَاقِبْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْوَانَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو تلوار سے سخت ضرب لگائی تھی، تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ (کا ہاتھ) نہیں کاٹا گیا، اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے صحت یاب ہونے کے بعد معاف کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کو کوئی سزا نہیں دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: Q16057]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16057
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَبُو أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَعَدَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ، لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، بِالسَّيْفِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً، وَصَاحَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَاسْتَغَاثَ النَّاسَ عَلَى صَفْوَانَ، وَفَرَّ صَفْوَانُ، وَجَاءَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْدَاهُ عَلَى صَفْوَانَ فِي ضَرْبَتِهِ إِيَّاهُ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَهَبَ لَهُ ضَرْبَةَ صَفْوَانَ إِيَّاهُ، فَوَهَبَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَاضَهُ مِنْهَا حَائِطًا مِنْ نَخْلٍ عَظِيمٍ وَجَارِيَةً رُومِيَّةً، وَيُقَالُ: قِبْطِيَّةً.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حدیثِ افک میں فرماتی ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو تلوار سے مارا، حسان رضی اللہ عنہ چیخے تو لوگ صفوان رضی اللہ عنہ کو پکڑنے کے لیے آئے، صفوان رضی اللہ عنہ بھاگ گئے۔ حسان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور صفوان رضی اللہ عنہ سے بدلہ طلب کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”صفوان کا بدلہ مجھے ہبہ کر دو۔“ تو انہوں نے ہبہ کر دیا اور اس کے عوض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کو ایک بڑے کھجور کے باغ کی دیوار اور ایک لونڈی دی جو رومی تھی اور کہا جاتا ہے کہ قبطی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16057]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16058
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَا: سُئِلَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ رَجُلٍ يَضْرِبُ الْآخَرَ بِالسَّيْفِ فِي غَضِبٍ، مَا يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: قَدْ ضَرَبَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الضُّرُوبَ فَلَمْ يَقْطَعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو غصے میں دوسرے کو تلوار سے مارتا ہے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟ فرمایا: صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16058]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3260. -- باب:
-- باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16059
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الصُّبْحِ وَفِي يَدِهِ دِرَّتُهُ يُوقِظُ بِهَا النَّاسَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَطْعِمُوهُ وَاسْقُوهُ وَأَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي، أَعْفُو إِنْ شِئْتُ، وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ.
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کے وقت اپنا کوڑا لے کر نکلتے جس سے لوگوں کو بیدار کرتے۔ ابن ملجم نے آپ کو مارا تو آپ نے فرمایا: ”اسے کھلاؤ پلاؤ اور اچھے قیدی کی طرح اسے رکھو۔ اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا خود ولی ہوں، چاہے اسے معاف کر دوں چاہے اس سے قصاص لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16059]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3261. -- باب: ما جاء في قتل الغيلة في عفو الأولياء
-- باب: دھوکے سے قتل کرنے (قتلِ غیلہ) میں مقتول کے ورثاء کے معاف کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16060
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" مَنْ عَفَا مِنْ ذِي سَهْمٍ فَعَفْوُهُ عَفْوٌ قَدْ أَجَازَ عُمَرُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الْعَفْوَ مِنْ أَحَدِ الْأَوْلِيَاءِ، وَلَمْ يَسْأَلَا أَقَتْلَ غِيلَةٍ كَانَ ذَلِكَ أَمْ غَيْرَهُ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ مِنْ غَيْرِ نَائِرَةٍ هُوَ إِلَى الْإِمَامِ لَا يَنْتَظِرُ بِهِ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ، قَالَ: وَاحْتَجَّ لَهُمْ بَعْضُ مَنْ يَعْرِفُ مَذَاهِبَهُمْ بِأَثَرِ مِجْذَرِ بْنِ ⦗١٠١⦘ زِيَادٍ، وَلَوْ كَانَ حَدِيثُهُ مِمَّا يَثْبُتُ قُلْنَا بِهِ، فَإِنْ ثَبَتَ فَهُوَ كَمَا قَالُوا، وَلَا أَعْرِفُهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا ثَابِتًا، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ فَكُلُّ مَقْتُولٍ قَتَلَهُ غَيْرُ الْمُحَارِبِ فَالْقَتْلُ فِيهِ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ مِنْ قِبَلِ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا} [الإسراء: ٣٣] ، وَقَالَ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ١٧٨] قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا بَلَغَنَا قِصَّةُ مِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ، مِنْ حَدِيثِ الْوَاقِدِيِّ مُنْقَطِعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حماد، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے ذی سہم سے درگزر کر دیا تو اس کا معاف کرنا معافی ہے۔ عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے اولیاء میں سے ایک کے معاف کرنے کی اجازت دی ہے اور یہ نہیں پوچھا کہ یہ قتل دھوکے سے تھا یا کسی اور طرح۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو دوسرے شخص کو بغیر بغض کے قتل کر دے کہ وہ امام کی طرف ہے۔ وہ ولی مقتول کا بھی انتظار نہ کرے اور انہوں نے دلیل مجذر بن زیاد والے واقعہ سے لی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت ہو تب یہ بات ہے، ورنہ آج تک مجھے نہیں پتا چلا کہ یہ روایت بھی ثابت ہے اور اس کو ولی مقتول کی طرف لوٹانا اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا﴾ [سورة الإسراء: 33] ”کہ جو مظلوم قتل کیا جائے تو اس کا ولی اس کی جگہ سلطان ہے۔“
اور فرمایا: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 178]
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ قصہ مجذر بن زیاد جو حدیثِ واقدی سے ہے منقطع اور ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16060]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قول ابراهيم فقط»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں