🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3645. -- باب: الحميل لا يورث إذا عتق حتى تقوم بنسبه بينة من المسلمين
-- باب: مجہول النسب قیدی اگر آزاد ہو جائے تو اسے اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے نسب پر کوئی شرعی گواہی قائم نہ ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18338
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، مِثْلَهُ.
قاضی شریح رحمہ اللہ سے (دوسری سند کے ساتھ) بھی اسی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18338]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18339
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ ⦗٢٢٠⦘ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَمِيلِ، فَقَالُوا فِيهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ:" مَا نَرَى أَنْ نُوَرِّثَ مَالَ اللهِ إِلَّا بِالْبَيِّنَاتِ".
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قیدی کے بارے میں مشورہ لیا، انہوں نے اس کے بارے میں بات کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے مال کا وارث صرف دلیل کے ذریعے بناتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18339]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18340
قَالَ: وَأنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا يُوَرَّثُ الْحَمِيلُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ". وَهَذِهِ الْأَسَانِيدُ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ قیدی کو صرف دلیل کی بنا پر وارث بنایا جائے گا۔
سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے مروی یہ تمام اسانید ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18340]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3646. -- باب: المبارزة
-- باب: مبارزت (میدانِ جنگ میں تن بہ تن مقابلے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18341
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا بَأْسَ بِالْمُبَارَزَةِ، قَدْ بَارَزَ يَوْمَ بَدْرٍ عُبَيْدَةُ وَحَمْزَةُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انفرادی مقابلے (مبارزت) میں کوئی حرج نہیں، غزوہ بدر کے دن سیدنا عبیدہ، سیدنا حمزہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مبارزت کی تھی۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18341]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18341
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقْسِمُ قَسَمًا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: ١٩] نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةَ وَعَلِيٍّ وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَعُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ،.
قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ”یہ دو شخص جن سے انھوں نے اللہ کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بدر کے دن مقابلہ کیا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ، عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور عتبہ و شیبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں اور ولید بن عتبہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18341]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18342
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ، عَنْ هُشَيْمٍ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، زَادَ فِيهِ: اخْتَصَمُوا فِي الْحَجِّ يَوْمَ بَدْرٍ. وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، فَذَكَرَهُ.
ثوری رحمہ اللہ، ابو ہاشم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ بدر کے دن انہوں نے حج کے بارے میں جھگڑا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18342]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18343
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ بَدْرٍ قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً فَقَالَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ مِنَ الْأَنْصَارِ شَبَبَةٌ، فَقَالَ عُتْبَةُ: لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا حَمْزَةُ، قُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ". فَقَتَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حارثہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بدر کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ اور اس کے بھائی اور اس کے بیٹے ولید نے غیرت سے مقابلے کی دعوت دی کہ کون مقابلہ کرے گا۔ انصاری جوان مقابلے میں آئے۔ عتبہ نے کہا: ان کا ہم نے قصد نہیں کیا، بلکہ ہمارے مقابلے میں ہمارے چچا کے بیٹے یعنی بنو عبدالمطلب آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی، حمزہ، عبیدہ بن حارث (رضی اللہ عنہم)! کھڑے ہو جاؤ۔“ اللہ رب العزت نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کر ڈالا اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، ستر کافر ہم نے قتل کیے اور ستر ہی قیدی بنائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18343]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18344
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا، فَذَكَرُوا قِصَّةَ بَدْرٍ وَفِيهَا: ثُمَّ خَرَجَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ فَدَعَوْا إِلَى الْبِرَازِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ثَلَاثَةٌ، فَقَالُوا: مِمَّنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: رَهْطٌ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالُوا: مَا بِنَا إِلَيْكُمْ حَاجَةٌ. ثُمَّ نَادَى مُنَادِيهِمْ: يَا مُحَمَّدُ أَخْرِجْ إِلَيْنَا أَكْفَاءَنَا مِنْ قَوْمِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا حَمْزَةُ، قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا عُبَيْدَةُ". فَلَمَّا قَامُوا وَدَنَوْا مِنْهُمْ قَالُوا: مِمَّنْ أَنْتُمْ؟ قَالَ حَمْزَةُ: أَنَا حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَقَالَ عُبَيْدَةُ: أَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ. فَقَالُوا: نَعَمْ أَكْفَاءٌ كِرَامٌ، فَبَارَزَ عُبَيْدَةُ عُتْبَةَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ كِلَاهُمَا أَثْبَتَ صَاحِبَهُ، وَبَارَزَ حَمْزَةُ شَيْبَةَ فَقَتَلَهُ مَكَانَهُ، وَبَارَزَ عَلِيٌّ الْوَلِيدَ فَقَتَلَهُ مَكَانَهُ، ثُمَّ كَرَّا عَلَى عُتْبَةَ فَذَفَفَا عَلَيْهِ وَاحْتَمَلَا صَاحِبَهُمَا فَحَازُوهُ إِلَى الرَّحْلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَارَزَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَرْحَبًا يَوْمَ خَيْبَرَ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَارَزَ يَوْمَئِذٍ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَاسِرًا.
عبداللہ بن ابی بکر اور ان کے علاوہ دوسرے بدر کے قصے کا ذکر کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نکلے اور مقابلہ کی دعوت دی تو تین انصاری جوان ان کے مقابلہ میں آئے۔ انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: انصاری لوگ۔ وہ کہنے لگے: ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آواز دینے والے نے آواز دی: اے محمد! ہماری طرف ہمارے برابر کے لوگ نکالو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حمزہ، علی اور عبیدہ کھڑے ہو جاؤ۔“ جب وہ ان کے قریب گئے تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حمزہ بن عبدالمطلب ہوں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں علی بن ابی طالب ہوں۔ عبیدہ کہنے لگے: میں عبیدہ بن حارث ہوں۔ انہوں نے کہا: برابر کے معزز لوگ ہیں۔ حضرت عبیدہ نے عتبہ کا مقابلہ کیا، ان کے درمیان دو واروں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو شدید زخمی کر دیا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کا مقابلہ کیا۔ اسی جگہ ہی اسے قتل کر ڈالا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولید کا مقابلہ کیا۔ اسے بھی قتل کر ڈالا۔ پھر دونوں عتبہ پر پلٹے اور اس کا کام تمام کر دیا اور اپنے ساتھی کو اٹھا کر خیمے میں لے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے مرحب کا مقابلہ کیا اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے یاسر کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18344]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، أَحَدُ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِ خَيْبَرَ وَقَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لِهَذَا؟" فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ. قَالَ:" قُمْ إِلَيْهِ، اللهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي كَيْفِيَّةِ قِتَالِهِمَا، قَالَ: وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: خَرَجَ يَاسِرٌ فَبَرَزَ لَهُ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَمَّا خَرَجَ إِلَيْهِ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَقْتُلُ ابْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلِ ابْنُكِ يَقْتُلُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ". فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ، ثُمَّ الْتَقَيَا فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ، قَالَ: وَكَانَ ذَكَرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ قَتَلَ يَاسِرًا كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ هُوَ قَتَلَ مَرْحَبًا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی اپنے اسلحہ سے لیس ہو کر اشعار پڑھتے ہوئے نکلا، وہ کہہ رہا تھا: کون میرا مقابلہ کرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون اس کے مقابلے میں آئے گا؟“ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں اس کو موت کے گھاٹ اتاروں گا؛ کیونکہ اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ۔“ اور دعا دی: «اللَّهُمَّ أَعِنْهُ» ”اے اللہ! اس کی مدد فرما۔“ ان دونوں کی لڑائی کی کیفیت کو اس نے حدیث میں ذکر کیا، کہتے ہیں کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: پھر یاسر نکلا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کا مقابلہ کیا۔ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نکلے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے بیٹے کو قتل کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو تیرا بیٹا ہی اس کو قتل کرے گا۔“ پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے، پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: اس طرح اس نے ذکر کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یاسر کو قتل کیا اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کو قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18345]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٨»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18346
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُوهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ". قَالَ: فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ، ⦗٢٢٢⦘ قَالَ: فَبَصَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ قَالَ: فَبَرَزَ مَرْحَبٌ وَهُوَ يَقُولُ:.
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، (پھر) ایک لمبی حدیث ذکر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔“ وہ (سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں انہیں پکڑ کر لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن ڈالا تو وہ تندرست ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں دے دیا۔ تو مرحب نے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مقابلے کی دعوت دی، اس نے کہا: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب جنگیں بھڑک کر سامنے آجاتی ہیں۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں یہ کہتے ہوئے آئے: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ، كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ، أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ» ”میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے۔ جو جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہے میں انہیں سندرہ کے بڑے پیمانے سے پورا پورا ناپ کر دیتا ہوں۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی وار میں مرحب کا سر تلوار سے پھاڑ ڈالا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ فتح تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18346]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں