🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3646. -- باب: المبارزة
-- باب: مبارزت (میدانِ جنگ میں تن بہ تن مقابلے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18347
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْأَزْدِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي خَيْبَرَ، وَذَكَرَ خُرُوجَ مَرْحَبٍ وَرَجْزَهُ، وَقَوْلَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أُكِيلُهُمْ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ: فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَبَدَرَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضَرَبَهُ فَقَدَّ الْحَجَرَ وَالْمِغْفَرَ وَرَأْسَهُ وَوَقَعَ فِي الْأَضْرَاسِ وَأَخَذَ الْمَدِينَةَ.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے خیبر اور مرحب کے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلنے کا تذکرہ کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات بھی اس کے ہم معنیٰ ہے، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں بہت زیادہ قتل کرنے والا ہوں۔“
راوی کہتے ہیں: ان میں دو واروں کا تبادلہ ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہل کرتے ہوئے تلوار ماری، جس نے پتھر، ٹوپ اور سر کو پھاڑ ڈالا اور داڑھوں تک جا پہنچی، اور (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے) شہر فتح کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18347]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ فَذَكَرَ بَعْضَ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِاللِّوَاءِ فَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَمَسَحَهُمَا ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَفُتِحَ لَهُ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ صَاحِبَ مَرْحَبٍ.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خیبر کا دن ہوا، (راوی نے) قصے کا بعض حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا منگوایا اور علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، ان کی آنکھیں خراب تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا، پھر علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا، جن کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔ عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ مرحب کا مقابلہ کرنے والے وہی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18348]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18349
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ السَّاجِيُّ، وَبَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُسَيْنٍ الْأَشْقَرُ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ حَسَنٍ الْأَشْقَرِ بِمَعْنَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَارَزَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ.
ابو قابوس اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرحب کا سر لے کر آیا۔ «قال الشافعي» ”امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا“: خندق کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبدود کا مقابلہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18349]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٢٢٣⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: خَرَجَ، يَعْنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ، فَنَادَى: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: أَنَا لَهَا يَا نَبِيَّ اللهِ. فَقَالَ:" إِنَّهُ عَمْرٌو اجْلِسْ". وَنَادَى عَمْرٌو: أَلَا رَجُلٌ؟ وَهُوَ يُؤَنِّبُهُمْ وَيَقُولُ: أَيْنَ جَنَّتُكُمُ الَّتِي تَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنْكُمْ دَخَلَهَا؟ أَفَلَا يَبْرُزُ إِلِيَّ رَجُلٌ؟ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ:" اجْلِسْ". ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ وَذَكَرَ شِعْرًا، فَقَامَ عَلِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا. فَقَالَ:" إِنَّهُ عَمْرٌو". قَالَ: وَإِنْ كَانَ عَمْرًا. فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشَى إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ وَذَكَرَ شِعْرًا فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا عَلِيٌّ. قَالَ: ابْنُ عَبْدِ مَنَافٍ؟ فَقَالَ: أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. فَقَالَ: غَيْرُكَ يَا ابْنَ أَخِي مِنْ أَعْمَامِكَ مَنْ هُوَ أَسَنُّ مِنْكَ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَكِنِّي وَاللهِ مَا أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ. فَغَضِبَ فَنَزَلَ وَسَلَّ سَيْفَهُ كَأَنَّهُ شُعْلَةُ نَارٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ نَحْوَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا، وَاسْتَقْبَلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَرَقَتِهِ فَضَرَبَهُ عَمْرٌو فِي الدَّرَقَةِ، فَقَدَّهَا وَأَثْبَتَ فِيهَا السَّيْفَ وَأَصَابَ رَأْسَهُ فَشَجَّهُ، وَضَرَبَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ فَسَقَطَ وَثَارَ الْعَجَاجُ، وَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّكْبِيرَ، فَعَرَفَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَتَلَهُ.
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ خندق کے دن عمرو بن عبد ود نکلا، اس نے مقابلہ کی دعوت دی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوہے میں ڈھکے ہوئے تھے، کہنے لگے: ”اے اللہ کے نبی! میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرو ہے، بیٹھ جاؤ۔“ عمرو نے پھر آواز دی: ”کیا کوئی مرد نہیں ہے؟“ وہ ان کو متنبہ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”تمہاری وہ جنت کہاں ہے جس کا تم گمان کرتے ہو؟ کہ تم میں سے جو قتل کیا جائے وہ اس میں داخل ہو جائے گا، کیا کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کرے گا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر تیسری مرتبہ اس نے آواز دی اور اشعار پڑھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے: ”اے اللہ کے رسول! میں مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عمرو ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اگرچہ عمرو ہی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی تو وہ چل کر اس کے پاس گئے اور اشعار پڑھے۔ عمرو نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں علی ہوں۔“ اس نے کہا: ”ابن عبد مناف؟“ انہوں نے کہا: ”میں علی بن ابی طالب ہوں۔“ اس نے کہا: ”اے بھتیجے! کیا تیرے چچاؤں میں سے تیرے علاوہ کوئی بڑی عمر کا نہیں ہے؟ کیونکہ میں تیرا خون بہانا ناپسند کرتا ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”لیکن اللہ کی قسم! میں تجھے قتل کرنے میں کراہت محسوس نہیں کرتا۔“ وہ غصے سے نیچے اتر پڑا اور اپنی تلوار کو سونتا گویا کہ وہ آگ کا شعلہ ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب غصے کی حالت میں آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا سامنا اپنی ڈھال کے ذریعے کیا۔ عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو تلوار نے ڈھال کو توڑ ڈالا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سر بھی زخمی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے کندھے پر تلوار ماری، وہ گر پڑا اور گرد و غبار اڑنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کی آواز سنی تو پہچان گئے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18350]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3647. -- باب: ما جاء في نقل الرءوس
-- باب: (مقتولین کے) سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18351
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ بَعَثَا عُقْبَةَ بَرِيدًا إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَأْسِ يَنَاقٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُمْ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ، قَالَ: أَفَاسْتِنَانٌ بِفَارِسَ وَالرُّومِ؟ لَا يُحْمَلْ إِلِيَّ رَأْسٌ، فَإِنَّمَا يَكْفِي الْكِتَابُ وَالْخَبَرُ.
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف یناق بطریق شام کا سر دے کر روانہ کیا۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے انکار کردیا۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ہمارے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم فارس اور روم کی سنت کو اختیار کرنے والے ہو؟ میری جانب کوئی سر نہ لایا جائے، صرف خط اور خبر ہی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18351]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: هَاجَرْنَا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ قُدِمَ عَلَيْنَا بِرَأْسِ يَنَاقٍ الْبِطْرِيقِ، وَلَمْ تَكُنْ لَنَا بِهِ حَاجَةٌ، إِنَّمَا هَذِهِ سُنَّةُ الْعَجَمِ.
معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہجرت کی، ہم ان کے پاس ہی تھے، جس وقت وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا کہ ہمارے پاس یناق بطریق کا سر لایا گیا ہے، حالانکہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18352]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18353
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَأْسٍ فَقَالَ: بَغَيْتُمْ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٢٢٤⦘ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لَنَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: لَمْ يُحْمَلْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسٌ إِلَى الْمَدِينَةِ قَطُّ، وَلَا يَوْمَ بَدْرٍ، وَحُمِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَرِهَ ذَلِكَ. قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ حُمِلَتْ إِلَيْهِ الرُّءُوسُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ..
عبدالکریم جزری فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سر لایا گیا تو فرمانے لگے: تم نے سرکشی کی ہے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں کبھی سر نہیں لایا گیا، نہ ہی بدر کے دن، جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے ناپسند کیا، کہتے ہیں: سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سر لائے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18353]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18354
قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ فَقَالَ:" مَنْ جَاءَ بِرَأْسٍ فَلَهُ عَلَى اللهِ مَا تَمَنَّى". فَجَاءَهُ رَجُلَانِ بِرَأْسٍ فَاخْتَصَمَا فِيهِ، فَقَضَى بِهِ لِأَحَدِهِمَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. فَهَذَا حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ إِنْ ثَبَتَ تَحْرِيضٌ عَلَى قَتْلِ الْعَدُوِّ، وَلَيْسَ فِيهِ نَقْلُ الرَّأْسِ مِنْ بِلَادِ الشِّرْكِ إِلَى بِلَادِ الْإِسْلَامِ.
بشیر بن عقبہ، ابو نضرہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سر لے کر آئے اس کے لیے وہی چیز ہے جو وہ اللہ سے خواہش کرے۔“ دو آدمی ایک سر لے کر آئے اور اس کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کے لیے فیصلہ کر دیا۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت بھی ہو جائے تو صرف دشمنوں کے قتل پر ابھارنا مقصود ہے نہ کہ سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔
یہ حدیث منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18354]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3648. -- باب: لا تباع جيفة مشرك
-- باب: مشرک کی لاش فروخت نہیں کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18355
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَشْتَرُوهُ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوا جِيفَةَ مُشْرِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مسلمانوں نے مشرکین کے بڑے آدمیوں میں سے کسی کو پکڑ کر قتل کردیا، مشرکین نے ان سے کہا کہ وہ اس کو فروخت کردیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مشرک مردار کو فروخت کرنے“ سے منع کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18355]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18356
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ حَجَّاجٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قُتِلَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، فَبَعَثَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ ابْعَثْ إِلَيْنَا بِجَسَدِهِ وَنُعْطِيَكَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا خَيْرَ فِي جَسَدِهِ وَلَا فِي ثَمَنِهِ".
مقسم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ مشرکین کا ایک آدمی غزوہ احزاب میں قتل کر دیا گیا تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کا جسم ہمیں واپس کر دیں ہم آپ کو بارہ ہزار دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے جسم اور قیمت میں بھلائی نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18356]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں