🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3649. -- باب: السواد
-- باب: سواد (عراق کے زرخیز علاقے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18377
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَمَّا وَفَدَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عُمَرَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَنَاسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِجَرِيرٍ: يَا جَرِيرُ وَاللهِ لَوْمَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَرَدَّهُ وَكَانَ جَعَلَ رُبْعَ السَّوَادِ لِبَجِيلَةَ فَأَخَذُوا الْخَرَاجَ ثَلَاثَ سِنِينَ، فَرَدَّهُ وَأَعْطَاهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب جریر بن عبداللہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما اور کچھ مسلمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں تقسیم کرنے والا اور (اس کا) جواب دہ نہ ہوتا تو تم پہلی تقسیم پر ہی باقی رہتے، لیکن میں مسلمانوں پر واپس کرنا چاہتا ہوں اور لوٹا بھی دیا اور سواد کا چوتھائی حصہ بجیلہ کے پاس تھا۔ انہوں نے تین سال جزیہ وصول کیا، ان سے واپس لے کر اسی دینار عطا کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18377]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18378
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: كُنَّا رُبْعَ النَّاسِ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، فَأَعْطَانَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذْنَاهُ ثَلَاثَ سِنِينَ، ثُمَّ وَفَدَ جَرِيرٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، فَأَرَى أَنْ تَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَفَعَلَ، وَأَجَازَهُ بِثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ قادسیہ کے دن ہم لوگوں کا چوتھائی حصہ تھے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں سواد کا چوتھائی حصہ عطا کر دیا، ہم نے تین سال تک جزیہ وصول کیا۔ اس کے بعد جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا وفد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: اگر مجھے تقسیم کے بارے میں پوچھے جانے کا ڈر نہ ہوتا تو تمہیں اسی تقسیم پر باقی رکھتا، لیکن میرے خیال میں تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو۔ انہوں نے ایسا کر لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی دینار انعام میں دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18378]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18379
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَعْطَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَرِيرًا وَقَوْمَهُ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذَهُ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ جَرِيرًا وَفَدَ إِلَى عُمَرَ مَعَ عَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا جَرِيرُ لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ أَرَى أَنْ تَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمْ وَأَعْطَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کو سواد کا چوتھائی حصہ عطا کر دیا۔ انہوں نے دو یا تین سال جزیہ وصول کیا، پھر جریر اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: ”اے جریر! اگر تقسیم کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کیا جاتا تو میں تمہیں اسی حالت پر برقرار رکھتا۔ لیکن اب تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو۔“ تو جریر رضی اللہ عنہ نے سواد کا چوتھائی حصہ واپس کر دیا، اس کے عوض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسّی دینار عطا کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18379]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18380
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِجَرِيرٍ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ الْعِرَاقَ وَلَكَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ بَعْدَ الْخُمُسِ مِنْ كُلِّ أَرْضٍ وَشَيْءٍ. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالَّذِي قَبْلَهُ مَوْصُولٌ، وَلَيْسَ فِي الْآثَارِ الَّتِي رُوِّينَاهَا وَلَمْ نَرُدَّهَا فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ أَصَحُّ مِنْهُ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ⦗٢٢٩⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دِلَالَةٌ إِذْ أَعْطَى جَرِيرًا الْبَجَلِيَّ عِوَضًا مِنْ سَهْمِهِ، وَالْمَرْأَةَ عِوَضًا مِنْ سَهْمِ أَبِيهَا أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ الَّذِينَ أَوْجَفُوا عَلَيْهِ، فَتَرَكُوا حُقُوقَهُمْ مِنْهُ، فَجَعَلَهُ وَقْفًا لِلْمُسْلِمِينَ، وَهَذَا حَلَالٌ لِلْإِمَامِ لَوِ افْتُتِحَ الْيَوْمَ أَرْضٌ عَنْوَةً فَأَحْصَى مَنِ افْتَتَحَهَا وَطَابُوا أَنْفُسًا عَنْ حُقُوقِهِمْ مِنْهَا أَنْ يَجْعَلَهَا الْإِمَامُ وَقْفًا، وَحُقُوقُهُمْ مِنْهَا الْأَرْبَعَةُ الْأَخْمَاسِ وَيُوَفَّى أَهْلُ الْخُمُسِ حَقَّهُمْ، إِلَّا أَنْ يَدَعَ الْبَالِغُونَ مِنْهُمْ حُقُوقَهُمْ فَيَكُونَ ذَلِكَ لَهُ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَرْضِ كَالْحُكْمِ فِي الْمَالِ، وَقَدْ سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَقَسَمَ أَرْبَعَةَ الْأَخْمَاسِ بَيْنَ الْمُوجِفِينَ، ثُمَّ جَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْهُمْ، فَخَيَّرَهُمْ بَيْنَ الْأَمْوَالِ وَالسَّبْيِ، فَقَالُوا: خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا فَنَخْتَارُ أَحْسَابَنَا، فَتَرَكَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّهُ وَحَقَّ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْمُهَاجِرُونَ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْأَنْصَارُ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَبَقِيَ قَوْمٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْآخِرِينَ وَالْفَتْحِيِّينَ فَأَمَرَ فَعَرَفَ عَلَى كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ:" ائْتُونِي بِطِيبِ أَنْفُسِ مَنْ بَقِيَ فَمَنْ كَرِهَ فَلَهُ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْإِبِلِ" إِلَى وَقْتٍ ذَكَرَهُ فَجَاءُوا بِطِيبِ أَنْفُسِهِمْ إِلَّا الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ فَإِنَّهُمَا أَبَيَا لِيُعَيِّرَا هَوَازِنَ، فَلَمْ يُكْرِهْهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، حَتَّى كَانَا هُمَا تَرَكَا بَعْدَ أَنْ خَدَعَ عُيَيْنَةُ عَنْ حَقِّهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّ مَنْ طَابَ نَفْسُهُ عَنْ حَقِّهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا أَوْلَى الْأُمُورِ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَنَا فِي السَّوَادِ وَفُتُوحِهِ إِنْ كَانَتْ عَنْوَةً، وَهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَمْرِ هَوَازِنَ قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ عراق جائیں گے؟ آپ کو چوتھائی یا تہائی حصہ خمس کے بعد ہر زمین اور ہر چیز سے دیا جائے گا۔“
یہ روایت منقطع ہے اور اس سے پہلے والی موصول ہے، اور سواد عراق کے بارے میں جو آثار ہم نے روایت کیے ہیں ان میں اس سے زیادہ صحیح کوئی نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصے کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصے کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کوئی زمین لڑائی سے فتح ہو اور وہ فاتحین کو شمار کر لے اور وہ اپنی خوشی سے اپنے حقوق چھوڑ دیں تو امام اسے وقف کر دے، ان کا حق اس میں چار پانچویں حصے ہیں اور خمس والوں کو ان کا حق پورا دیا جائے، الا یہ کہ ان میں سے بالغ لوگ اپنے حقوق چھوڑ دیں تو یہ امام کے لیے ہو گا۔ اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کر دیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انہوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے، ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، بعد والے مہاجرین اور فتح (مکہ) کے موقع پر مسلمان ہونے والوں میں سے کچھ لوگ باقی رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دس پر ایک شخص کو نگران مقرر کیا، پھر فرمایا: ”جو باقی رہ گئے ہیں ان کی دلی رضامندی میرے پاس لاؤ، جو ناپسند کرے تو اس کے لیے میرے ذمہ اتنے اتنے اونٹ ہیں۔“ ایک وقت تک جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعین فرمایا، اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس پر مجبور نہیں فرمایا، یہاں تک کہ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ دیا، جبکہ عیینہ کو اس کے حق کے بارے میں دھوکا دیا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ہوازن) کے حوالے ان لوگوں کا حق کر دیا جنہوں نے اپنی خوشی سے اپنا حق چھوڑ دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک سواد اور اس کی فتوحات کے بارے میں، اگر وہ لڑائی سے ہوئی تھیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں یہی سب سے مناسب بات ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18380]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18381
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَبْ لِيَ ابْنَةَ بَقِيلَةَ. قَالَ:" هِيَ لَكَ". فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَبُوهَا فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ احْكُمْ مَا شِئْتَ. قَالَ: أَلْفُ دِرْهَمٍ. قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا. قَالُوا لَهُ: لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا لَأَخَذَهَا. قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ؟. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ هَكَذَا، وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ⦗٢٣٠⦘ وَالْمَشْهُورُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ، وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ فِي آخِرِ غَزْوَةِ تَبُوكَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیرہ شہر میرے سامنے کتوں کی کچلیوں کی مانند ظاہر کیا گیا اور تم اس کو فتح کرو گے۔“ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے نبی! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دے دی۔ پھر اس کا باپ آیا، کہنے لگا: کیا فروخت کرو گے؟ اس نے پوچھا: کتنے کی؟ اس نے کہا: جو چاہو فیصلہ کر لو۔ اس نے کہا: ہزار درہم۔ اس نے کہا: میں نے خرید لی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر وہ تیس ہزار بھی مانگتا تب بھی وہ خرید لیتے۔ اس نے کہا: کیا ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہے؟
اس روایت کو سفیان سے اس طرح بیان کرنے میں ابن ابی عمر منفرد ہیں، دوسروں نے اسے سفیان سے علی بن زید بن جدعان کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
(ب) مشہور یہ ہے کہ یہ حدیث خریم بن اوس سے ہے، یہ وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عورت دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18381]
تخریج الحدیث: «موضوع»

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3650. -- باب: قدر الخراج الذي وضع على السواد
-- باب: سواد کے علاقے پر مقرر کردہ خراج کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18382
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى الْكُوفَةِ، وَبَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَعَلَى الْجُيُوشِ، وَبَعَثَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الْقَضَاءِ وَعَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مِسَاحَةِ الْأَرْضِ، وَجَعَلَ بَيْنَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، شَطْرُهَا وَسَوَاقِطُهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَالنِّصْفُ بَيْنَ هَذَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَنْزَلْتُكُمْ وَإِيَّايَ مِنْ هَذَا الْمَالِ كَمَنْزِلَةِ وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ، {مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦] ، وَمَا أَرَى قَرْيَةً يُؤْخَذُ مِنْهَا كُلَّ يَوْمٍ شَاةٌ إِلَّا كَانَ ذَلِكَ سَرِيعًا فِي خَرَابِهَا. قَالَ: فَوَضَعَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عَلَى جَرِيبِ الْكَرْمِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، وَعَلَى جَرِيبِ النَّخْلِ أَظُنُّهُ قَالَ: ثَمَانِيَةً، وَعَلَى جَرِيبِ الْقَصَبِ سِتَّةَ دَرَاهِمَ، وَعَلَى جَرِيبِ الْبُرِّ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ، وَعَلَى جَرِيبِ الشَّعِيرِ دِرْهَمَيْنِ، وَعَلَى رُءُوسِهِمْ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ كُلَّ سَنَةٍ، وَعَطَّلَ مِنْ ذَلِكَ مِنَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، وَفِيمَا يُخْتَلَفُ بِهِ مِنْ تِجَارَاتِهِمْ نِصْفَ الْعُشْرِ. قَالَ: ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَازَ ذَلِكَ وَرَضِيَ بِهِ، وَقِيلَ لِعُمَرَ رَضَيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ نَأْخُذُ مِنْ تُجَّارِ الْحَرْبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ يَأْخُذُونَ مِنْكُمْ إِذَا أَتَيْتُمْ بِلَادَهُمْ؟ قَالُوا: الْعُشْرَ. قَالَ: فَكَذَلِكَ خُذُوا مِنْهُمْ. وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَقَالَ: وَعَلَى جَرِيبِ النَّخْلِ ثَمَانِيَةٌ وَعَلَى جَرِيبِ الْقَصَبِ سِتَّةٌ لَمْ يَشُكَّ.
لاحق بن حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہم کو کوفہ روانہ کیا تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی ڈیوٹی نماز اور لشکروں پر تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کو قاضی اور بیت المال کا عہدہ سونپا گیا اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو زمین کے متعلقہ ذمہ داری دی گئی۔ ان کے لیے ایک دن میں ایک بکری دی گئی۔ نصف سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اور باقی نصف دونوں ساتھیوں کو دی گئی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس مال پر مقرر کیا ہے جیسے یتیم کے مال کا انسان والی ہوتا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] ”اور یتیموں کی آزمائش کرو یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ جائیں، اگر تم ان میں بھلائی پاؤ تو ان کے مال ان کے سپرد کر دو اور تم ان کے مال زیادتی اور جلدبازی سے نہ کھاؤ کہ وہ بڑے ہوجائیں اور جو کوئی غنی ہو تو وہ اس سے بچے اور جو کوئی فقیر ہو انصاف کے ساتھ کھائے۔“
میرے خیال میں جس بستی سے ہر روز ایک بکری وصول کی جائے تو یہ اس کی جلد بربادی کا سبب بن جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے انگور کی فصل والوں پر دس درہم اور کھجور کے باغ والوں کے ذمہ آٹھ درہم اور «القَضْبِ» (ایک درخت کا نام) کے کھیت والوں پر چھ درہم اور گندم کی فصل والے کسانوں پر چار درہم اور جو کی فصل پر دو درہم مقرر فرمائے۔ ہر انسان سے سال میں 24 درہم وصول کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو چھوڑ رکھا تھا اور مختلف قسم کی تجارت کرنے والوں پر نصف عشر تھا۔ پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، انہوں نے اجازت دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہم حربی تاجروں سے کتنا ٹیکس لیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو وہ تم سے کتنا وصول کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: دسواں حصہ۔ فرمایا: تم بھی ان سے اسی طرح لو۔
(ب) سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کھجور کے باغ پر آٹھ درہم اور «القَضْبِ» کے کھیت پر چھ درہم مقرر فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18382]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18383
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَمَسَحَ السَّوَادَ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ جَرِيبٍ عَامِرٍ أَوْ غَامِرٍ حَيْثُ يَنَالُهُ الْمَاءُ قَفِيزًا أَوْ دِرْهَمًا، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْحِنْطَةَ وَالشَّعِيرَ وَضَعَ عَلَى كُلِّ جَرِيبِ الْكَرْمِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ وَعَلَى جَرِيبِ الرِّطَابِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ.
حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو سواد نامی جگہ بھیجا تو انہوں نے ہر آباد اور ویران کھیت پر جہاں تک پانی پہنچتا ہو، ایک «قَفِيز» (پیمانہ) اور درہم مقرر کیا۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی گندم اور جو کا اور ہر انگور والے کھیت پر دس درہم اور تر کھجوروں پر پانچ درہم مقرر فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18383]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18384
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَضَعَ عَلَى النَّخْلِ عَلَى الدِّفْلَتَيْنِ دِرْهَمًا، وَعَلَى الْفَارِسِيَّةِ دِرْهَمًا.
ابان بن تغلب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ردی کھجوروں اور فارسی کھجوروں پر ایک درہم مقرر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18384]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18385
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنَعَتِ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا، وَمَنَعَتِ الشَّامُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا، وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ". شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ. قَالَ يَحْيَى: يُرِيدُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْقَفِيزَ وَالدِّرْهَمَ قَبْلَ أَنْ يَضَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْأَرْضِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ يَعِيشَ وَإِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عراقیوں نے درہم اور قفیز (پیمانہ) کو روک لیا اور شامیوں نے مد اور دینار کو روک لیا، مصر نے اردب (چوبیس صاع کا پیمانہ) اور دینار کو روک لیا اور تم وہیں لوٹ آؤ گے جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی“، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خون اور گوشت اس بات پر گواہ ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: اس حدیث سے ان کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قفیز اور درہم کا ذکر کیا، اس سے پہلے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے زمین والوں پر مقرر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18385]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢٨٩٦»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3651. -- باب: من رأى قسمة الأراضي المغنومة ومن لم يرها
-- باب: اس شخص کا بیان جو مالِ غنیمت میں ملنے والی زمینوں کی تقسیم کا قائل ہے اور جو اس کا قائل نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18386
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، وَهَبَهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ فَقَالَ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو.
سالم بن مطیع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مالِ غنیمت میں سونا چاندی حاصل نہ ہوا بلکہ اونٹ، گائے، سامان اور باغ ملے۔ پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی قریٰ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غلام تھا جس کو مدعم کہا جاتا تھا، یہ بنو ضباب کے ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا۔ ایک مرتبہ مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اچانک اس کو نامعلوم جانب سے آنے والا تیر لگا جس سے وہ فوت ہو گیا۔ لوگوں نے کہا: مبارک ہو، یہ شخص جنتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک وہ چادر جس کو اس نے جنگ خیبر کے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اٹھایا تھا، وہ اس پر آگ بن کر لپٹی ہوئی ہے۔“ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک یا دو تسمے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، اس نے کہا: یہ مجھے ملے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18386]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں