🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3654. -- باب: من رخص في شراء أرض الخراج
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کی اجازت دی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَسَنٍ، أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اشْتَرَيَا قِطْعَةً مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ.
عبداللہ بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نے جزیہ کی زمین کا ایک ٹکڑا خریدا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18406]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18407
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اشْتَرَى قِطْعَةً مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ.
حجاج بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جزیہ والی زمین کا ایک قطعہ خریدا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18407]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18408
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ اشْتَرَى أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْحِيرَةِ يُقَالُ لَهَا زُبَا قَالَ: وَقَالَ الْحَكَمُ: وَكَانُوا يُرَخِّصُونَ فِي شِرَاءِ أَرْضِ الْحِيرَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ صُلْحٌ. قَالَ يَحْيَى: وَسَأَلْتُ حَسَنَ بْنَ صَالِحٍ فَكَرِهَ شِرَاءَ أَرْضِ الْخَرَاجِ الَّتِي أُخِذَتْ عَنْوَةً فَوُضِعَ عَلَيْهَا الْخَرَاجُ فَلَمْ يَرَ بَأْسًا بِشِرَاءِ أَرْضِ أَهْلِ الصُّلْحِ.
حکم رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حیرہ کی زمین خریدی جس کو زت کہا جاتا تھا اور حیرہ کی زمین خریدنے کی رخصت تھی کیونکہ یہ صلح کی زمین تھی۔ (ب) یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے خراج والی زمین کو خریدنے کو ناپسند فرمایا، جس کو لڑائی سے حاصل کیا گیا ہو اور اس پر جزیہ لاگو کیا گیا ہو اور صلح کی زمین خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18408]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3655. -- باب: من أسلم من أهل الصلح سقط الخراج عن أرضه
-- باب: اہلِ صلح میں سے جو شخص اسلام لے آئے اس کی زمین سے خراج ساقط ہو جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18409
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَكَرَهُ، فَقَالَ فِيهِ: وَلَا خَرَاجَ عَلَى مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ. وَقَدْ رُوِّينَا فِيهِ حَدِيثًا مُسْنَدًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا صَدَقَةٌ وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ مَعَ غَيْرِهِ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.
داؤد بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کو خط لکھا، جس میں یہ تحریر تھا کہ جو اسلام قبول کرے اس کی زمین پر خراج نہیں ہے اور ایک مسند روایت ہے کہ ”صرف اس کے ذمہ زکوٰۃ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18409]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3656. -- باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها
-- باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18410
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: اشْتَرَى عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ثُمَّ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهَا؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ: فَهَؤُلَاءِ أَهْلُهَا - لِلْمُسْلِمِينَ - أَبِعْتُمُوهُ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: اذْهَبْ فَاطْلُبْ مَالَكَ.
بکر بن عامر حضرت عامر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے خراج والی زمین خریدی، پھر آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے کس سے خریدی ہے؟ کہنے لگے: زمین والوں سے۔ فرمایا: یہ (مسلمان) زمین والے ہیں۔ (پھر مسلمانوں سے پوچھا:) کیا تم نے اسے کچھ فروخت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: جا کر اپنا مال واپس لے لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18410]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18411
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ عَشَرَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ أَرْضِ السَّوَادِ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ لِقَضْبِ دَوَابَّ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَرَيْتَهَا مِنْ أَصْحَابِهَا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: رُحْ إِلِيَّ. قَالَ: فَرُحْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ، أَبِعْتُمُوهُ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: ابْتَغِ مَالَكَ حَيْثُ وَضَعْتَهُ.
شعبی رحمہ اللہ حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سواد کی زمین سے دس ایکڑ زمین فرات کے کنارے خریدی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ ہوا تو انہوں نے پوچھا: کیا آپ نے ان زمین والوں سے خریدی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگے: میرے پاس آؤ۔ میں ان کے پاس گیا تو فرمایا: کیا تم نے ان کو کچھ فروخت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: اپنا مال لو جس کو دے رکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18411]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18412
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ نَهَرِ الْمَلِكِ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ أَوْ كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِ اخْتَارَتْ أَرْضَهَا وَأَدَّتْ مَا عَلَى أَرْضِهَا فَخَلُّوا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَرْضِهَا، وَإِلَّا خَلُّوا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَبَيْنَ أَرَضِيهِمْ.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل نہر سے ایک عورت مسلمان ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھا: اگر وہ اپنی زمین کو اختیار کرے اور جزیہ ادا کرے تو اس کو زمین دے دو، ورنہ زمین سے فارغ کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18412]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18413
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا حَفْصُ بْنُ ⦗٢٣٩⦘ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ تَرَكَاهُ يَقُومُ بِخَرَاجِهِ فِي أَرْضِهِ.
ابو عون ثقفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما اہلِ سواد کے افراد کو چھوڑ دیتے، جب وہ اسلام قبول کر لیتے تو فرماتے: وہ اپنی زمین پر ہی رہیں اور خراج ادا کرتے رہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18413]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18414
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: أَسْلَمَ الرَّقِيلُ فَأَعْطَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَهُ بِخَرَاجِهَا وَفَرَضَ لَهُ أَلْفَيْنِ.
حضرت جابر، عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ رقیل نے اسلام قبول کر لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خراج والی زمین عطا کر دی اور ان کے لیے دو ہزار وظیفہ مقرر کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18414]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18415
قَالَ: وَثَنَا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى سَعْدٍ يُقْطِعُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ أَرْضًا فَأَقْطَعَهُ أَرْضًا لِبَنِي الرَّقِيلِ، فَأَتَى ابْنُ الرَّقِيلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَامَ صَالَحْتُمُونَا؟ قَالَ: عَلَى أَنْ تُؤَدُّوا إِلَيْنَا الْجِزْيَةَ وَلَكُمْ أَرْضُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ. قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقَطَعْتَ أَرْضِي لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ: فَكَتَبَ إِلَى سَعْدٍ رُدَّ عَلَيْهِ أَرْضَهُ، ثُمَّ دَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ فَفَرَضَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَبْعَمِائَةٍ وَجَعَلَ عَطَاءَهُ فِي خَثْعَمٍ، وَقَالَ: إِنْ أَقَمْتَ فِي أَرْضِكَ أَدَّيْتَ عَنْهَا مَا كُنْتَ تُؤَدِّي. وَهَذَا فِي إِسْنَادِهِ ضِعْفٌ، فَإِنْ ثَبَتَ كَانَ قَوْلُهُ: وَلَكُمْ أَرْضُكُمْ، مَحْمُولًا عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ وَلَكُمْ أَرْضُكُمُ الَّتِي كَانَتْ لَكُمْ تَزْرَعُونَهَا وَتُعْطُونَ خَرَاجَهَا، وَذَلِكَ فِيمَا أُخِذَ عَنْوَةً إِلَّا تَرَكَهُ لَمْ يَسْقُطْ عَنْهُ خَرَاجُهَا حِينَ أَسْلَمَ، وَفِي الصُّلْحِ يَسْقُطُ.
بنو زہرہ کے ایک شیخ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ زمین عطا کرو تو انہوں نے بنو رقیل کی زمین دے دی۔ ابن رقیل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کس بات پر آپ نے ہمارے ساتھ صلح کی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم جزیہ ادا کرو، زمین، مال اور اولاد تمہارے پاس ہی رہیں گے۔ اس نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے میری زمین سعید بن زید کو دے دی ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اس کی زمین واپس کر دو۔ پھر اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گیا؛ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے سات سو وظیفہ مقرر فرما دیا اور اس کا وظیفہ خثعم قبیلہ میں رکھا اور فرمایا: اگر تم اپنی زمین پر رہے تو اتنا جزیہ ادا کرتے رہنا جتنا دیا کرتے تھے۔
اس روایت کی سند میں کمزوری ہے۔
(ب) اگر یہ ثابت ہو تو یہ قول «وَلَكُمْ أَرْضُكُمْ» ”وہ زمین جس میں تم کھیتی باڑی کرتے ہو اور جزیہ ادا کرتے ہو“ اور یہ زمین زبردستی ان سے لی گئی۔ دیکھیں مسلمان ہونے کے بعد بھی خراج ختم نہ ہوا حالانکہ صلح کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18415]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں