السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3651. -- باب: من رأى قسمة الأراضي المغنومة ومن لم يرها
-- باب: اس شخص کا بیان جو مالِ غنیمت میں ملنے والی زمینوں کی تقسیم کا قائل ہے اور جو اس کا قائل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18387
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٣٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الْأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجْلُوا مِنْهَا وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا، وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَكْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا فَلَا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلَا عَهْدَ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا فِيهِ مَالٌ وَحُلِيٌّ لِحُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّ حُيَيٍّ:" مَا فَعَلَ مَسْكُ حُيَيٍّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنَ النَّضِيرِ؟" فَقَالَ: أَذْهَبَتْهُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ. فَقَالَ:" الْعَهْدُ قَرِيبٌ وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ". فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الزُّبَيْرِ فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ، وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ خَرِبَةً فَقَالَ:" قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَهُنَا". فَذَهَبُوا وَطَافُوا فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فِي الْخَرِبَةِ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَيْ حَقِيقٍ وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَسَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ بِالنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوا وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمْ مِنْهَا فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ نُصْلِحُهَا وَنَقُومُ عَلَيْهَا. وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانٌ يَقُومُونَ عَلَيْهَا، وَكَانُوا لَا يَفْرُغُونَ أَنْ يَقُومُوا عَلَيْهَا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ عَنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَأْتِيهِمْ كُلَّ عَامٍ فَيَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ خَرْصِهِ وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، قَالَ:" يَا أَعْدَاءَ اللهِ تُطْعِمُونَِي السُّحْتَ؟ وَاللهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ وَلَأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لَا أَعْدِلَ بَيْنَكُمْ". فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ. قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِ صَفِيَّةَ خُضْرَةً فَقَالَ:" يَا صَفِيَّةُ مَا هَذِهِ الْخُضْرَةُ". فَقَالَتْ: كَانَ رَأْسِي فِي حِجْرِ ابْنِ حَقِيقٍ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَطَمَنِي وَقَالَ: تَمَنَّيْنَ مَلِكَ يَثْرِبَ. قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلِيَّ، قَتَلَ زَوْجِي وَأَبِي فَمَازَالَ يَعْتَذِرُ إِلِيَّ وَيَقُولُ:" إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ"، حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ كُلَّ عَامٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَشُّوا الْمُسْلِمِينَ وَأَلْقَوَا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ فَفَدَعُوا يَدَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ كَانَ لَهُ سَهْمٌ مِنْ خَيْبَرَ⦗٢٣٣⦘ فَلْيَحْضُرْ حَتَّى نَقْسِمَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ فَقَالَ رَئِيسُهُمْ: لَا تُخْرِجْنَا، دَعْنَا نَكُونُ فِيهَا كَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَئِيسِهِمْ: أَتُرَاهُ سَقَطَ عَنِّي قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكَ إِذَا رَقَصَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ نَحْوَ الشَّامِ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا". وَقَسَمَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ مَنْ كَانَ شَهِدَ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ.
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے جنگ کرتے ہوئے انہیں قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زمین، زراعت اور کھجوروں کے باغات پر قبضہ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ جو ان کی سواریاں لے جا سکیں وہ ان کا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سونا چاندی ہے۔ وہ وہاں سے چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط رکھی کہ وہ کسی چیز کو نہیں چھپائیں گے۔ اگر انہوں نے کسی چیز کو چھپایا تو ان کا ذمہ اور کوئی عہد نہیں ہے۔ پھر بھی انہوں نے مال سے بھری ہوئی ایک کھال چھپا دی اور حیی بن اخطب کے زیورات، جو وہ خیبر لے کر آیا تھا بنو نضیر کی جلا وطنی کے موقع پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیی کے چچا سے پوچھا: ”حیی کی مال سے بھری ہوئی وہ مشک کہاں ہے جو بنو نضیر سے لے کر آیا تھا؟“ اس نے کہا: جنگوں اور اخراجات نے اس کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عہد قریب ہے اور مال اس سے بھی زیادہ ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، جس نے اسے سزا دی اور حیی اس سے پہلے ایک ویرانے میں داخل ہوا تھا۔ کہتے ہیں: میں نے حیی کو دیکھا کہ وہ اس ویرانے میں گھوم رہا تھا، وہاں گئے تو انہوں نے ویرانے میں مال کو پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا۔ ان میں سے ایک سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی بن اخطب کا خاوند تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا اور ان کے مالوں کو وعدہ کی خلاف ورزی کی بنا پر تقسیم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہمیں اس زمین پر برقرار رکھیے، ہم کھیتی باڑی کریں اور اس کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس غلام بھی نہ تھے جو اس کا خیال رکھتے اور نہ خود ہی فارغ تھے کہ وہاں ٹھہر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر اس شرط پر دیا کہ ہر کھیتی، کھجور اور چیز کا نصف ان کا ہو گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال ان کے پاس آتے، پیداوار کا اندازہ لگاتے، پھر انہیں نصف کا ذمہ دار ٹھہراتے۔ انہوں نے اندازہ کی سختی کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو رشوت دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! تم مجھے حرام کھلاتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے اپنی جانب سب سے زیادہ محبوب شخص کے پاس سے آیا ہوں لیکن تمہاری عادت مجھے بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ بری لگتی ہے۔ تمہارا بغض اور ان کی محبت مجھے اس بات پر نہ ابھارے کہ میں عدل نہ کر سکوں۔ انہوں نے کہا: اسی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ میں سبز نشان دیکھا تو پوچھا: ”اے صفیہ! یہ کیا ہے؟“ کہتی ہیں کہ میں حقیق کے بیٹے کی گود میں سر رکھ کر سوئی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ چاند میری گود میں گر پڑا ہے۔ میں نے اس کو بتایا تو اس نے مجھے تھپڑ دے مارا اور کہا: تو یثرب کے بادشاہ کی تمنا کرتی ہے۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ اور خاوند کو قتل کیا تھا، وہ مجھ سے معذرت کرتے رہے اور فرمایا: ”تیرے باپ نے عربوں کو میرے خلاف بھڑکایا اور یہ کیا اور وہ کیا۔“ یہاں تک کہ میرے دل سے وہ بات ختم ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر عورت کو ہر سال اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے مسلمانوں سے دھوکا کیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک گھر کی چھت سے نیچے پھینک دیا اور ان کے ہاتھوں کے جوڑ نکال دیے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کا خیبر میں حصہ ہو وہ آئے کہ ہم ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دی۔ ان کے سردار نے کہا: آپ ہمیں جلا وطن نہ کریں۔ بلکہ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں برقرار رکھا ویسے ہی رہنے دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سردار سے یہ بات کہی: کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھول گیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تیری کیا حالت ہوگی جب تیری سواری تجھے تین دن تک شام کی جانب لے کر جائے گی؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ والوں میں جو غزوہ خیبر میں موجود تھے ان کے حصے تقسیم کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18387]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18388
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا، جَمَعَ كُلَّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ، فَكَانَ النِّصْفُ سِهَامًا لِلْمُسْلِمِينَ وَسَهْمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَزَلَ النِّصْفَ لِمَا يَنُوبُهُ مِنَ الْأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّهُ افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً وَبَعْضَهَا صُلْحًا، فَمَا قَسَمَ بَيْنَهُمْ هُوَ مَا افْتَتَحَهُ عَنْوَةً، وَمَا تَرَكَهُ لِنَوَائِبِهِ هُوَ مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ.
بشیر بن یسار نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا اور مالِ غنیمت کو 36 حصوں میں تقسیم کر دیا اور تمام حصے سو میں تقسیم کیے۔ نصف حصے مسلمانوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے اور نصف حصے پیش آنے والے امور اور ہنگامی ضروریات کے لیے الگ کر لیے۔
شیخ فرماتے ہیں: خیبر کا بعض حصہ لڑائی کی وجہ سے حاصل ہوا اور کچھ حصہ صلح کے ساتھ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم کیا وہ تھا جو لڑائی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور جو اپنی ہنگامی ضروریات کے لیے چھوڑا وہ تھا جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18388]
شیخ فرماتے ہیں: خیبر کا بعض حصہ لڑائی کی وجہ سے حاصل ہوا اور کچھ حصہ صلح کے ساتھ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم کیا وہ تھا جو لڑائی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور جو اپنی ہنگامی ضروریات کے لیے چھوڑا وہ تھا جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18388]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18389
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا بعض حصہ لڑائی کے ذریعے فتح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18389]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا افْتُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر بعد میں آنے والے مسلمان نہ ہوتے تو ہر فتح ہونے والی بستی کو ہم تقسیم کر دیتے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18390]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٣٣٤-٣١٢٥»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18391
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ النَّاسَ يَبَابًا لَا شَيْءَ لَهُمْ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا عِنْدَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَسْتَطِيبُ قُلُوبَهُمْ، ثُمَّ يَقِفُهَا لِلْمُسْلِمِينَ نَظَرًا لَهُمْ.
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: اگر میں لوگوں کو اس حالت میں نہ چھوڑوں کہ ان کے لیے کوئی چیز نہ ہو، جو بستی بھی فتح ہو تو میں اسے تقسیم کر دوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک، واللہ اعلم، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ان کے دلوں کی رضامندی حاصل کرتے، پھر مسلمانوں کے مفاد کے پیش نظر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18391]
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک، واللہ اعلم، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ان کے دلوں کی رضامندی حاصل کرتے، پھر مسلمانوں کے مفاد کے پیش نظر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18391]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18392
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ ⦗٢٣٤⦘ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ: أَصَابَ النَّاسَ فَتْحٌ بِالشَّامِ فِيهِمْ بِلَالٌ، وَأَظُنُّهُ ذَكَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَذَا الْفَيْءَ الَّذِي أَصَبْنَا لَكَ خُمُسُهُ وَلَنَا مَا بَقِيَ، لَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْهُ شَيْءٌ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَا قُلْتُمْ وَلَكِنِّي أَقِفُهَا لِلْمُسْلِمِينَ، فَرَاجَعُوهُ الْكِتَابَ وَرَاجَعَهُمْ يَأْبَوْنَ وَيَأْبَى، فَلَمَّا أَبَوْا قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اللهُمَّ اكْفِنِي بِلَالًا وَأَصْحَابَ بِلَالٍ، قَالَ: فَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى مَاتُوا جَمِيعًا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَا قُلْتُمْ، لَيْسَ يُرِيدُ بِهِ إِنْكَارَ مَا احْتَجُّوا بِهِ مِنْ قِسْمَةِ خَيْبَرَ، فَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ لَيْسَتِ الْمَصْلَحَةُ فِيمَا قُلْتُمْ وَإِنَّمَا الْمَصْلَحَةُ فِي أَنْ أَقِفَهَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَجَعَلَ يَأْبَى قِسْمَتَهَا لِمَا كَانَ يَرْجُو مِنْ تَطْيِيبِهِمْ ذَلِكَ وَجَعَلُوا يَأْبَوْنَ لِمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الْحَقِّ، فَلَمَّا أَبَوْا لَمْ يُبْرِمْ عَلَيْهِمُ الْحُكْمَ بِإِخْرَاجِهَا مِنْ أَيْدِيهِمْ وَوَقْفِهَا، وَلَكِنْ دَعَا عَلَيْهِمْ حَيْثُ خَالَفُوهُ فِيمَا رَأَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ وَهُمْ لَوْ وَافَقُوهُ وَافَقَهُ أَفْنَاءُ النَّاسِ وَأَتْبَاعُهُمْ. وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْقَسْمِ فِي فَتْحِ مِصْرَ أَنَّهُ رَأَى ذَلِكَ وَرَأَى الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِسْمَتَهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ.
جریر بن حازم کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کو شام کی فتح نصیب ہوئی، جن میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، میرا گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مالِ فئے میں سے پانچواں حصہ آپ کا اور باقی ہمارا ہے، کسی اور کا کوئی حصہ نہیں، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے موقع پر کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: تمہاری بات درست نہیں بلکہ میں اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔ انہوں نے دوبارہ خط لکھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی دوبارہ جواب دیا، وہ انکار کرتے رہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی انکار کرتے رہے۔ جب انہوں نے انکار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ان کے خلاف بددعا کی اور فرمایا: اے اللہ! مجھے بلال اور بلال کے ساتھیوں سے کافی ہو جا۔ راوی کہتے ہیں: ابھی ان پر سال نہیں گزرا تھا کہ وہ سب فوت ہو گئے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول ”تمہاری بات درست نہیں“ سے ان کی مراد خیبر کی تقسیم کا انکار نہیں جس سے انہوں نے دلیل لی تھی، کیونکہ اسے ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں، بلکہ غالباً ان کی مراد یہ تھی کہ مصلحت تمہاری بات میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ میں اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تقسیم کرنے سے انکار کیا؛ کیونکہ وہ ان کی دلی رضامندی کی امید رکھتے تھے اور انہوں نے بھی انکار کیا؛ کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔ جب انہوں نے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمین ان کے ہاتھوں سے نکال کر وقف کرنے کا حکم ان پر نافذ نہیں کیا، لیکن ان کے خلاف بددعا کی، کیونکہ انہوں نے اس مصلحت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی جو انہوں نے دیکھی تھی۔ اگر وہ ان کی موافقت کرتے تو عام لوگ اور ان کے پیروکار بھی ان کی موافقت کرتے۔
یہ حدیث مرسل ہے، واللہ اعلم۔
(ب) فتح مصر کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہی رائے تھی اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی یہ رائے تھی کہ اس کو تقسیم کر دیا جائے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18392]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول ”تمہاری بات درست نہیں“ سے ان کی مراد خیبر کی تقسیم کا انکار نہیں جس سے انہوں نے دلیل لی تھی، کیونکہ اسے ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں، بلکہ غالباً ان کی مراد یہ تھی کہ مصلحت تمہاری بات میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ میں اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تقسیم کرنے سے انکار کیا؛ کیونکہ وہ ان کی دلی رضامندی کی امید رکھتے تھے اور انہوں نے بھی انکار کیا؛ کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔ جب انہوں نے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمین ان کے ہاتھوں سے نکال کر وقف کرنے کا حکم ان پر نافذ نہیں کیا، لیکن ان کے خلاف بددعا کی، کیونکہ انہوں نے اس مصلحت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی جو انہوں نے دیکھی تھی۔ اگر وہ ان کی موافقت کرتے تو عام لوگ اور ان کے پیروکار بھی ان کی موافقت کرتے۔
یہ حدیث مرسل ہے، واللہ اعلم۔
(ب) فتح مصر کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہی رائے تھی اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی یہ رائے تھی کہ اس کو تقسیم کر دیا جائے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18392]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، ثنا الْمُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا قَرْيَةٍ افْتَتَحَهَا اللهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ افْتَتَحَهَا الْمُسْلِمُونَ عَنْوَةً فَخُمُسُهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَبَقِيَّتُهَا لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهَا". قَالَ أَبُو الْفَضْلِ الدُّورِيُّ: أَبُو سَلَمَةَ هَذَا هُوَ عِنْدِي صَاحِبُ الطَّعَامِ أَوْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بستی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فتح کریں تو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، اور جس بستی کو جنگ کے ذریعے فتح کریں، اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور باقی حصہ لڑائی کرنے والوں کا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18393]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3652. -- باب: الأرض إذا كانت صلحا رقابها لأهلها وعليها خراج يؤدونه فأخذها منهم مسلم بكراء
-- باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: Q18394
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا بَأْسَ كَمَا يَسْتَأْجِرُ مِنْهُمْ إِبِلَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ وَرَقِيقَهُمْ وَمَا دَفَعَ إِلَيْهِمْ أَوْ إِلَى السُّلْطَانِ بِوِكَالَتِهِمْ، فَلَيْسَ بِصَغَارٍ عَلَيْهِ إِنَّمَا هُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ يُؤَدِّيهِ ⦗235⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْحَدِيثُ الَّذِي يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُؤَدِّيَ خَرَاجًا وَلَا لِمُشْرِكٍ أَنْ يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، إِنَّمَا هُوَ خَرَاجُ الْجِزْيَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدِ اتَّخَذَ أَرْضَ الْخَرَاجِ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْوَرَعِ وَالدِّينِ وَكَرِهَهُ قَوْمٌ احْتِيَاطًا قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْكَرَاهِيَةُ فَفِيمَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے وہ ان (کافروں) سے ان کے اونٹ، ان کے گھر اور ان کے غلام کرائے پر لیتا ہے، اور جو کچھ وہ انہیں یا ان کی وکالت کی بنا پر حاکم کو ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے ذلت کی بات نہیں، بلکہ یہ تو ایک قرض ہے جو اس کے ذمے ہے اور وہ اسے ادا کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور وہ حدیث جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جاتی ہے کہ: ’کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ خراج ادا کرے اور نہ کسی مشرک کے لیے (مناسب ہے) کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہو۔‘ تو اس سے مراد صرف جزیہ کا خراج ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اہل تقویٰ اور دین داروں میں سے کچھ لوگوں نے خراجی زمین لی ہے، اور کچھ لوگوں نے احتیاطاً اسے ناپسند کیا ہے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی کراہت، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18394]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور وہ حدیث جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جاتی ہے کہ: ’کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ خراج ادا کرے اور نہ کسی مشرک کے لیے (مناسب ہے) کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہو۔‘ تو اس سے مراد صرف جزیہ کا خراج ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اہل تقویٰ اور دین داروں میں سے کچھ لوگوں نے خراجی زمین لی ہے، اور کچھ لوگوں نے احتیاطاً اسے ناپسند کیا ہے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی کراہت، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18394]
حدیث نمبر: 18394
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابو عبداللہ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے جزیہ اپنی گردن میں باندھ لیا تو وہ اس (طریقے) سے بری ہو گیا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18394]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18395
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ، وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَهُ" قَالَ سِنَانٌ: فَسَمِعَ مِنِّي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ لِي: أَشَبِيبٌ حَدَّثَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا قَدِمْتَ فَسَلْهُ فَلْيَكْتُبْ إِلِيَّ بِالْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَتَبَ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِي ابْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَيْتُهُ، فَلَمَّا قَرَأَهُ تَرَكَ مَا فِي يَدَيْهِ مِنَ الْأَرْضِ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الْيَزَنِيُّ، لَيْسَ هُوَ صَاحِبَ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ إِسْنَادُهُمَا إِسْنَادٌ شَامِيٌّ، وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ يَحْتَجَّا بِمِثْلِهِمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جزیہ والی زمین حاصل کی اس نے اپنی ہجرت ختم کرلی اور جس نے کافر کی گردن سے ذلت کو اتار کر اپنے گلے ڈال لیا، اس نے اسلام سے پیٹھ پھیرلی۔“
سنان کہتے ہیں: خالد بن معدان نے مجھ سے یہ حدیث سنی تو مجھ سے کہا: ”کیا یہ حدیث تمہیں شبیب نے بیان کی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”جب تم ان کے پاس جاؤ تو ان سے کہنا کہ یہ حدیث مجھے لکھ کر بھیجیں۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے لکھ دی۔ جب میں واپس آیا تو ابن معدان نے مجھ سے وہ کاغذ مانگا، میں نے انہیں دے دیا۔ جب انہوں نے اسے پڑھا تو یہ سن کر جو زمین ان کے قبضے میں تھی اسے چھوڑ دیا۔
ان دونوں حدیثوں کی سند شامی ہے اور بخاری و مسلم نے اس جیسی سند سے دلیل نہیں لی، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18395]
سنان کہتے ہیں: خالد بن معدان نے مجھ سے یہ حدیث سنی تو مجھ سے کہا: ”کیا یہ حدیث تمہیں شبیب نے بیان کی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”جب تم ان کے پاس جاؤ تو ان سے کہنا کہ یہ حدیث مجھے لکھ کر بھیجیں۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے لکھ دی۔ جب میں واپس آیا تو ابن معدان نے مجھ سے وہ کاغذ مانگا، میں نے انہیں دے دیا۔ جب انہوں نے اسے پڑھا تو یہ سن کر جو زمین ان کے قبضے میں تھی اسے چھوڑ دیا۔
ان دونوں حدیثوں کی سند شامی ہے اور بخاری و مسلم نے اس جیسی سند سے دلیل نہیں لی، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18395]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف