السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3761. -- باب: لا خير في أن يعطيهم المسلمون شيئا على أن يكفوا عنهم
-- باب: مسلمانوں کا دشمنوں کو کوئی چیز اس شرط پر دینا کہ وہ ان سے رک جائیں (جنگ نہ کریں)، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا خَلَفٌ هُوَ ابْنُ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْهِجْرَةِ، وَتَبِعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ قَالَ: فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ ⦗٣٧٨⦘ مَعُونَةَ، وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ: مَنْ هَذَا؟ وَأَشَارَ إِلَى قَتِيلٍ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ: هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ. قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ فَنَعَاهُمْ وَقَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَكُمْ أُصِيبُوا، وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ فَقَالُوا: رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ. قَالَ: وَأُصِيبَ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ عُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءِ بْنِ الصَّلْتِ، سُمِّيَ بِهِ عُرْوَةُ وَمُنْذِرُ بْنُ عُمَرَ وَسُمِّيَ بِهِ مُنْذِرٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَجَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت طلب کی، انہوں نے ہجرت کے متعلقہ حدیث ذکر کی، ان کے ساتھ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے، کہتے ہیں: عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بئر معونہ کے دن قتل کر دیے گئے، عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ قیدی بنا لیے گئے، عامر بن طفیل نے مقتول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ کون ہے؟ تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عامر بن فہیرہ ہیں۔ اس نے کہا: میں نے اس کے قتل کے بعد دیکھا کہ اسے آسمان و زمین کے درمیان اٹھایا گیا، راوی کہتے ہیں کہ ان کے قتل کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی شہید کر دیے گئے تو انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائیوں کو خبر دے دینا کہ تو ہم سے راضی اور ہم تجھ سے راضی ہیں“۔ راوی کہتے ہیں: ان کی جانب سے خبر دی گئی۔ اس دن ان میں سے عروہ بن اسماء بن صلت شہید ہوئے، جن کے نام پر عروہ کا نام رکھا گیا، اور منذر بن عمر بھی (شہید ہوئے)، جن کے نام پر منذر کا نام رکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18824]
تخریج الحدیث: «صحيح ٤٠٩٣»
الحكم على الحديث: صحيح ٤٠٩٣
حدیث نمبر: 18825
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ہی رہے گا، جو انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دے وہ ان کو نقصان نہ دے سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور وہ اسی حالت پر رہے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18825]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3762. -- باب: الرخصة في الإعطاء في الفداء ونحوه للضرورة
-- باب: بوقتِ ضرورت فدیہ اور اس جیسی دیگر مدات میں مال دینے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18826
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَى رَجُلًا بِرَجُلَيْنِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى وَمَضَى حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي اسْتَوْهَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى فَفَدَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دو افراد کے عوض فدیہ دے کر چھڑایا۔
(ب) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے جو عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عوض کئی قیدی منگوائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18826]
(ب) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے جو عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عوض کئی قیدی منگوائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18826]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18827
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّئِيسُ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدِيُّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ". قَالَ سُفْيَانُ: وَالْعَانِي" الْأَسِيرُ. ⦗٣٧٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَعَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ جَرِيرٍ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، قیدی آزاد کرو اور بیمار کی تیمار داری کرو۔“ سفیان کہتے ہیں کہ «الْعَانِي» سے مراد قیدی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18827]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٥٣٧٣»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18828
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ الْوَحْيِ شَيْءٌ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ:" الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِقَتْلِ مُشْرِكٍ". وَقَالَ زُهَيْرٌ: فَقُلْتُ لِمُطَرِّفٍ: وَمَا فِكَاكُ الْأَسِيرِ؟ قَالَ: أَنْ يُفَكَّ مِنَ الْعَدُوِّ، وَجَرَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ. قَالَ مُطَرِّفٌ: الْعَقْلُ: الْمَعْقُلَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین! کیا آپ کے پاس وحی سے کوئی خاص چیز ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کچھ بھی نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا، صرف اس میں سوجھ بوجھ جو اللہ کسی انسان کو عطا کرتا ہے اور جو اس صحیفہ میں ہے۔“ میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ تو فرمانے لگے: ”دیت اور قیدیوں کی آزادی کے بارے میں اور یہ کہ ”کسی مومن کو مشرک کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔““ پھر کہتے ہیں: میں نے مطرف سے پوچھا: قیدی کو آزاد کرانا کیا ہے؟ فرماتے ہیں کہ دشمن سے آزاد کروائیں، اس طرح سنت جاری ہے اور مطرف کہتے ہیں کہ «الْعَقْلُ» سے مراد دیت ادا کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18828]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3763. -- باب: الهدنة على أن يرد الإمام من جاء بلده مسلما من المشركين
-- باب: اس شرط پر جنگ بندی کا بیان کہ مشرکین میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر امام کے ملک میں آئے گا امام اسے واپس لوٹا دے گا۔
حدیث نمبر: 18829
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى أَنَّ" مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ، وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ فَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ، فَجَاءَ أَبُو جَنْدَلٍ يَحْجِلُ فِي قُيُودِهِ فَرَدَّهُ إِلَيْهِمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے تین باتوں پر صلحِ حدیبیہ کی: ”1۔ جو مشرکین میں سے آپ کے پاس آئے گا آپ اسے واپس کریں گے، 2۔ جو مسلمان کفارِ مکہ کے پاس آ جائے اسے واپس نہ کیا جائے گا، 3۔ نیز آپ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے اور وہاں تین دن قیام کریں گے اور ہتھیار تلوار وغیرہ نیام میں ڈال کر آئیں گے۔“ جب سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ بیڑیوں میں چلتے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کفار کی جانب واپس کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18829]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا صَالَحَ قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اكْتُبْ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَا نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ، اكْتُبْ" بِاسْمِكَ اللهُمَّ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللهُمَّ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو:" لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ لَصَدَّقْنَاكَ وَلَمْ نُكَذِّبْكَ، اكْتُبِ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ، ⦗٣٨٠⦘ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اكْتُبْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ"، وَكَتَبَ: مَنْ أَتَانَا مِنْكُمْ رَدَدْنَاهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ أَتَاكُمْ مِنَّا تَرَكْنَاهُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نُعْطِيهِمْ هَذَا؟ قَالَ:" مَنْ أَتَاهُمْ مِنَّا فَأَبْعَدَهُ اللهُ، وَمَنْ أَتَانَا مِنْهُمْ فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَفَّانَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن جب قریش سے صلح کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھ: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے““ تو سہیل بن عمرو نے کہا: ہم رحمن اور رحیم کو نہیں جانتے، آپ لکھیں: «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ» ”اے اللہ! تیرے نام سے ابتدا ہے“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھ کہ «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ» ”میں اے اللہ تیرے نام سے شروع کرتا ہوں““، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھو کہ اس معاہدہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے“ تو سہیل بن عمرو نے فوراً اعتراض کر دیا کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تو آپ کی تصدیق کرتے، تکذیب کبھی نہ کرتے، آپ اپنا اور والد کا نام تحریر کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! لکھو: محمد بن عبداللہ“ اور یہ شرط تحریر کی: ”تمہارے آدمی ہم واپس کر دیں گے لیکن ہمارا آدمی واپس نہ کیا جائے گا“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم انہیں دے دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہم سے گیا اللہ نے اسے ہم سے دور کر دیا اور جس کو ہم واپس کریں گے، اس کے لیے اللہ راستہ نکال دے گا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ وَخُرُوجِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ لَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَى بَيْنَهُمَا الْقَوْلُ حَتَّى وَقَعَ الصُّلْحُ عَلَى أَنْ تُوضَعَ الْحَرْبُ بَيْنَهُمَا عَشْرَ سِنِينَ، وَأَنْ يَأْمَنَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَأَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ عَامَهُمْ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَدِمَهَا خَلَّوْا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا، وَأَنْ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا بِسِلَاحِ الرَّاكِبِ وَالسُّيُوفِ فِي الْقُرُبِ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَانَا مِنْ أَصْحَابِكَ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَاكُمْ مِنَّا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَدْتَهُ عَلَيْنَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي كَتَبَةِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: فَإِنَّ الصَّحِيفَةَ لَتُكْتَبُ إِذْ طَلَعَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي الْحَدِيدِ وَقَدْ كَانَ أَبُوهُ حَبَسَهُ فَأَفْلَتَ، فَلَمَّا رَآهُ سُهَيْلٌ قَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ وَجْهَهُ وَأَخَذَ بِلُبَّتِهِ فَتَلَّهُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قَدْ وَلِجَتِ الْقَضِيَّةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكَ هَذَا. قَالَ:" صَدَقْتَ". وَصَاحَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أَأُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ يَفْتِنُونَنِي فِي دِينِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي جَنْدَلٍ:" أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، إِنَّا قَدْ صَالَحْنَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَجَرَى بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الْعَهْدُ، وَإِنَّا لَا نَغْدِرُ". فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمْشِي إِلَى جَنْبِ أَبِي جَنْدَلٍ وَأَبُوهُ يَتُلُّهُ وَهُوَ يَقُولُ: أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّمَا هُمُ الْمُشْرِكُونَ، وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِهِمْ دَمُ كَلْبٍ. وَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُدْنِي مِنْهُ قَائِمَ السَّيْفِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: رَجَوْتُ أَنْ يَأْخُذَهُ فَيَضْرِبَ بِهِ أَبَاهُ فَضَنَّ بِأَبِيهِ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي التَّحَلُّلِ مِنَ الْعُمْرَةِ وَالرُّجُوعِ، قَالَا: وَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَاطْمَأَنَّ بِهَا أَفْلَتَ إِلَيْهِ أَبُو بَصِيرٍ عُتْبَةُ بْنُ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْأَخْنَسُ بْنُ شَرِيقٍ وَالْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ عَوْفٍ وَبَعَثَا بِكِتَابِهِمَا مَعَ مَوْلًى لَهُمَا وَرَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اسْتَأْجَرَاهُ لِيَرُدَّ عَلَيْهِمَا صَاحِبَهُمَا أَبَا بَصِيرٍ فَقَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَا إِلَيْهِ كِتَابَهُمَا، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَصِيرٍ فَقَالَ لَهُ:" يَا أَبَا بَصِيرٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ صَالَحُونَا عَلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ، وَإِنَّا لَا نَغْدِرُ فَالْحَقْ بِقَوْمِكَ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَرُدُّنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ يَفْتِنُونَنِي فِي دِينِي وَيَعْبَثُونَ بِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ⦗٣٨١⦘ اصْبِرْ يَا أَبَا بَصِيرٍ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا". قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو بَصِيرٍ وَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ جَلَسُوا إِلَى سُورِ جِدَارٍ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِلْعَامِرِيِّ: أَصَارِمٌ سَيْفُكَ هَذَا يَا أَخَا بَنِي عَامِرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَنْظُرُ إِلَيْهِ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ. فَاسْتَلَّهُ فَضَرَبَ بِهِ عُنُقَهُ وَخَرَجَ الْمَوْلَى يَشْتَدُّ فَطَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذَا رَجُلٌ قَدْ رَأَى فَزَعًا". فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ قَالَ:" وَيْحَكَ مَا لَكَ"؟ قَالَ: قَتَلَ صَاحِبُكُمْ صَاحِبِي. فَمَا بَرِحَ حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَصِيرٍ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَفَتْ ذِمَّتُكَ وَأَدَّى الله عَنْكَ وَقَدِ امْتَنَعْتُ بِنَفْسِي عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يَفْتِنُونِي فِي دِينِي وَأَنْ يَعْبَثُوا بِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلُ امِّهِ مِحَشَّ حَرْبٍ لَوْ كَانَ مَعَهُ رِجَالٌ". فَخَرَجَ أَبُو بَصِيرٍ حَتَّى نَزَلَ بِالْعِيصِ وَكَانَ طَرِيقَ أَهْلِ مَكَّةَ إِلَى الشَّامِ فَسَمِعَ بِهِ مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَبِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَلَحِقُوا بِهِ حَتَّى كَانَ فِي عُصْبَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَرِيبٍ مِنَ السِّتِّينَ أَوِ السَّبْعِينَ، فَكَانُوا لَا يَظْفَرُونَ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا قَتَلُوهُ، وَلَا تَمُرُّ عَلَيْهِمْ عِيرٌ إِلَّا اقْتَطَعُوهَا حَتَّى كَتَبَتْ فِيهَا قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ بِأَرْحَامِهِمْ لَمَا آوَاهُمْ فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمُوا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ.
عروہ رحمہ اللہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے حدیبیہ کا قصہ روایت کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات چیت ہوئی اور دس سال کے لیے جنگ بندی طے پائی تو لوگ ایک دوسرے سے بے خوف ہو گئے۔ اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس جائیں اور آئندہ سال آ کر مکہ میں تین دن تک قیام کر سکتے ہیں اور مکہ میں داخلے کے وقت اسلحہ اور تلواریں میان میں رکھیں گے اور تمہارا کوئی شخص بغیر ولی کی اجازت کے ہمارے پاس آ گیا تو واپس نہ کیا جائے گا، لیکن ہمارا کوئی شخص آپ کے پاس آیا تو آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ انہوں نے معاہدے کی تحریر کا تذکرہ کیا۔ ابھی معاہدہ لکھا جا رہا تھا کہ سیدنا ابو جندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ لوہے کی بیڑیوں میں چلتے ہوئے آ گئے۔ ان کے باپ نے انہیں قید کر رکھا تھا، جب سہیل نے دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا اور گردن سے پکڑ کر گرا دیا۔ سہیل نے کہا: اے محمد! اس کے آنے سے پہلے ہمارے درمیان معاہدہ طے پا چکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا۔“ تو سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے مسلمانو! کیا میں واپس کیا جاؤں گا؟ یہ مجھے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”صبر کرو، اللہ تمہارے لیے اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کے اسباب پیدا فرما دے گا کیونکہ ہمارے درمیان عہد ہو چکا ہے جس کو ہم توڑنا نہیں چاہتے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب اس کا والد اسے گرائے ہوئے تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو جندل! صبر کرو، کیونکہ مشرکین کا خون کتے کے خون کی طرح ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار کا دستہ اس کے قریب کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے امید تھی کہ وہ اسے پکڑ کر اپنے باپ کو مار ڈالے گا، لیکن اس نے اپنے باپ کو بچا لیا، پھر اس نے عمرہ سے حلال ہونے اور واپسی کا تذکرہ کیا، دونوں یعنی سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آ گئے تو پیچھے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ بھی بھاگ کر آ گئے، یعنی عتبہ بن اسید بن جاریہ ثقفی جو بنو زہرہ کے حلیف تھے، اخنس بن شریق اور ازہر بن عبد عوف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا۔ ان کا ایک غلام اور دوسرا بنو عامر بن لؤی کا شخص اس خط کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس میں مطالبہ تھا کہ ابو بصیر کو واپس کیا جائے۔ انہوں نے خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے ابو بصیر! آپ جانتے ہیں کہ ہماری اس قوم سے صلح ہے اور ہم وعدہ توڑنا نہیں چاہتے، آپ اپنی قوم کے پاس چلے جائیں۔“ تو سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے مشرکین کی جانب واپس کریں گے، جو مجھے دین کے بارے میں فتنے میں ڈال دیں اور میرے ساتھ کھلواڑ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو بصیر! صبر کرو، ثواب کی نیت کرو۔“
”اللہ تمہارے اور کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کی کشادہ راہ مہیا کر دیں گے۔“ وہ دونوں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو لے کر ذوالحلیفہ تک پہنچے تو ایک دیوار کے سائے میں آرام کی غرض سے بیٹھ گئے، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے عامری شخص سے کہا: اے بنو عامر والے! آپ کی تلوار کافی مضبوط لگتی ہے؟ اس نے کہا: تلوار تو مضبوط ہی ہے۔ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں؟ عامری نے کہا: چاہو تو میان سے نکال کر دیکھ سکتے ہو، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے اس عامری کی گردن اتار دی تو غلام بھاگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دیکھا تو فرمایا: ”اس کا واسطہ کسی خوفناک چیز سے پڑ گیا ہے۔“ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: تمہارے ساتھی نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے۔ اتنی دیر میں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ بھی تلوار سونتے آ پہنچے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا وعدہ پورا ہو گیا، اللہ نے آپ کا ذمہ ادا کر دیا، میں نے مشرکین سے اپنے آپ کو محفوظ کیا ہے تاکہ وہ دین کے بارے میں مجھے فتنے میں نہ ڈال سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں پر افسوس! یہ تو لڑائی بھڑکانے والا ہے، کاش اس کے ساتھ کچھ آدمی ہوتے۔“ تو سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اہل مکہ کا جو راستہ شام جاتا تھا اس پر آ گئے، جب مکی مسلمانوں نے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا، تو وہ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملتے رہے، یہاں تک کہ وہ تقریباً ساٹھ یا ستر افراد کا ایک گروہ بن گیا، وہ کسی قریشی شخص کو نہیں چھوڑتے تھے، قتل کر دیتے اور ہر قافلے کو لوٹ لیتے۔ پھر قریش نے مجبور ہو کر خط لکھا کہ ان کو اپنے پاس بلا لو، ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو واپس بلا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18831]
”اللہ تمہارے اور کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کی کشادہ راہ مہیا کر دیں گے۔“ وہ دونوں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو لے کر ذوالحلیفہ تک پہنچے تو ایک دیوار کے سائے میں آرام کی غرض سے بیٹھ گئے، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے عامری شخص سے کہا: اے بنو عامر والے! آپ کی تلوار کافی مضبوط لگتی ہے؟ اس نے کہا: تلوار تو مضبوط ہی ہے۔ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں؟ عامری نے کہا: چاہو تو میان سے نکال کر دیکھ سکتے ہو، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے اس عامری کی گردن اتار دی تو غلام بھاگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دیکھا تو فرمایا: ”اس کا واسطہ کسی خوفناک چیز سے پڑ گیا ہے۔“ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: تمہارے ساتھی نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے۔ اتنی دیر میں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ بھی تلوار سونتے آ پہنچے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا وعدہ پورا ہو گیا، اللہ نے آپ کا ذمہ ادا کر دیا، میں نے مشرکین سے اپنے آپ کو محفوظ کیا ہے تاکہ وہ دین کے بارے میں مجھے فتنے میں نہ ڈال سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں پر افسوس! یہ تو لڑائی بھڑکانے والا ہے، کاش اس کے ساتھ کچھ آدمی ہوتے۔“ تو سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اہل مکہ کا جو راستہ شام جاتا تھا اس پر آ گئے، جب مکی مسلمانوں نے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا، تو وہ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملتے رہے، یہاں تک کہ وہ تقریباً ساٹھ یا ستر افراد کا ایک گروہ بن گیا، وہ کسی قریشی شخص کو نہیں چھوڑتے تھے، قتل کر دیتے اور ہر قافلے کو لوٹ لیتے۔ پھر قریش نے مجبور ہو کر خط لکھا کہ ان کو اپنے پاس بلا لو، ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو واپس بلا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18831]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18832
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ قَالَ فِيهَا: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلُ امِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ مَعَهُ أَحَدٌ". وَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ بِسَلَبِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: خَمِّسْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ:" إِنِّي إِذَا خَمَّسْتُهُ لَمْ أُوْفِ لَهُمْ بِالَّذِي عَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ وَلَكِنْ شَأْنُكَ بِسَلَبِ صَاحِبِكَ وَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ". فَخَرَجَ أَبُو بَصِيرٍ مَعَهُ خَمْسَةُ نَفَرٍ كَانُوا قَدِمُوا مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى كَانُوا بَيْنَ الْعِيصِ وَذِي الْمَرْوَةِ مِنْ أَرْضِ جُهَيْنَةَ عَلَى طَرِيقِ عِيرَاتِ قُرَيْشٍ مِمَّا يَلِي سِيفَ الْبَحْرِ لَا يَمُرُّ بِهِمْ عِيرٌ لِقُرَيْشٍ إِلَّا أَخَذُوهَا وَقَتَلُوا أَصْحَابَهَا، وَانْفَلَتَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي سَبْعِينَ رَاكِبًا أَسْلَمُوا وَهَاجَرُوا فَلَحِقُوا بِأَبِي بَصِيرٍ وَكَرِهُوا أَنْ يَقْدَمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هُدْنَةِ الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ بِمَعْنَى مَا تَقَدَّمَ وَأَتَمَّ مِنْهُ.
اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں مر جائے، (یہ تو) لڑائی کی آگ بھڑکانے والا ہے، کاش اس کے ساتھ کوئی ہوتا“ اور ابو بصیر رضی اللہ عنہ مقتول کا سامان لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پانچواں حصہ وصول کر لیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نے پانچواں حصہ وصول کر لیا تو گویا میں نے ان کا وعدہ پورا نہ کیا، لیکن یہ سامان لے کر جہاں چاہو چلے جاؤ“ تو ابو بصیر رضی اللہ عنہ پانچ ساتھیوں سمیت جو مکہ سے آئے تھے، عیص اور ذی المروہ (جہینہ کی سرزمین) جہاں سے قریشیوں کا جو قافلہ بھی گزرتا، اسے لوٹ لیتے اور مردوں کو قتل کر دیتے۔ ابو جندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما ستر آدمیوں کے قافلہ میں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا ملے اور انہوں نے مشرکین کے ساتھ صلح کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا پسند نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18832]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3764. -- باب: نقض الصلح فيما لا يجوز وهو ترك رد النساء إن كن دخلن في الصلح
-- باب: ناجائز شرط پر صلح کو توڑ دینا، اور وہ عورتوں کو واپس لوٹانے کا ترک کرنا ہے، اگرچہ وہ صلح (کی شرائط) میں شامل ہوں۔
حدیث نمبر: 18833
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّهُ قَاضَى ⦗٣٨٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ عَلَى الْمُدَّةِ الَّتِي جَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَنْزَلَ اللهُ فِيمَا قَضَى بِهِ بَيْنَهُمْ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا فَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَأَلْغَطُوا بِهِ أَوْ قَالَ كَلِمَةً أُخْرَى، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يَقُلْ شَيْخُنَا هَذِهِ الْكَلِمَةَ وَرِوَايَتُهُ فِي نُسْخَةٍ: وَامْتَعَظُوا وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ فَكَاتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ فَلَمْ يُرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللهُ فِيهِنَّ: {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ} [الممتحنة: ١٠] . قَالَ عُرْوَةُ: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ} [الممتحنة: ١٢] الْآيَةَ. قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ بَايَعْتُكِ"، كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهِ، وَاللهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ، مَا بَايَعَهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ساتھ حدیبیہ کے دن ایک مدت تک صلح کی، تو اللہ رب العزت نے اس کے بارے میں قرآن نازل کیا جو ان کے درمیان صلح تھی۔
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کو معاہدہ تحریر کروایا جس میں سہیل بن عمرو نے یہ شرط رکھی تھی کہ ”ہمارا کوئی آدمی اگرچہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہمیں واپس کریں گے“ تو مومنوں نے اس کو ناپسند کیا اور شور کیا یا کوئی دوسری بات کہی۔ اور سہیل بن عمرو کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ تحریر کروایا تو اسی دن ابو جندل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کیا گیا اور جو مسلمان بھی اس مدت کے اندر مکہ سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا؛ البتہ مومنہ عورتیں، جن میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں تو ان کے گھر والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس نہیں کیا، کیونکہ قرآن نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10]
”جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو، اللہ ان کے ایمانوں کو بہتر جانتا ہے، اگر تم ان کو مومنہ پاؤ تو کفار کی جانب واپس نہ کرو، وہ عورتیں ان کے لیے اور وہ مرد ان عورتوں کے لیے حلال نہیں ہیں“۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے ذریعے امتحان لیتے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 12]
”اے نبی! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں تو اس بات پر بیعت لیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، چوری، زنا اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا“۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو عورت اس شرط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے: ”میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف کلام فرماتے تھے، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کا بیعت کرتے وقت کبھی ہاتھ نہیں چھوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18833]
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کو معاہدہ تحریر کروایا جس میں سہیل بن عمرو نے یہ شرط رکھی تھی کہ ”ہمارا کوئی آدمی اگرچہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہمیں واپس کریں گے“ تو مومنوں نے اس کو ناپسند کیا اور شور کیا یا کوئی دوسری بات کہی۔ اور سہیل بن عمرو کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ تحریر کروایا تو اسی دن ابو جندل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کیا گیا اور جو مسلمان بھی اس مدت کے اندر مکہ سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا؛ البتہ مومنہ عورتیں، جن میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں تو ان کے گھر والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس نہیں کیا، کیونکہ قرآن نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10]
”جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو، اللہ ان کے ایمانوں کو بہتر جانتا ہے، اگر تم ان کو مومنہ پاؤ تو کفار کی جانب واپس نہ کرو، وہ عورتیں ان کے لیے اور وہ مرد ان عورتوں کے لیے حلال نہیں ہیں“۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے ذریعے امتحان لیتے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 12]
”اے نبی! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں تو اس بات پر بیعت لیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، چوری، زنا اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا“۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو عورت اس شرط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے: ”میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف کلام فرماتے تھے، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کا بیعت کرتے وقت کبھی ہاتھ نہیں چھوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18833]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح