السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3944. -- باب: ما جاء في الحلف بصفات الله تعالى، كالعزة، والقدرة، والجلال، والكبرياء، والعظمة، والكلام، والسمع، ونحو ذلك
-- باب: اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً عزت، قدرت، جلال، کبریائی، عظمت، کلام، سماعت اور اس جیسی دیگر صفات کی قسم کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19897
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفَانِ أَبُو الْفَتْحِ، وَأَبُو عَلِيٍّ، قَالَا: أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، أَوْ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْخَمْرِ؟ فَقَالَ:" لَا وَسَمْعِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَحِلُّ بَيْعُهَا، وَلَا ابْتِيَاعُهَا".
ابو عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا یا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا (اور میں سن رہا تھا) شراب کے بارے میں، وہ فرماتے ہیں: اللہ کی سماعت کی قسم! اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19897]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19898
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةِ كَفَّارَةٌ، إِنْ شَاءَ بَرَّ، وَإِنْ شَاءَ فَجَرَ".
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی کسی سورہ کی قسم اٹھائی تو اس پر ہر آیت کے عوض کفارہ ہے، چاہے وہ (اپنی قسم) پوری کرے یا چاہے توڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19898]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19899
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرَدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ يَمِينُ صَبْرٍ، مَنْ شَاءَ بَرَّ، وَمَنْ شَاءَ فَجَرَ"،.
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی کسی سورت کی قسم اٹھائی تو ہر آیت کا عوض قسم کا کفارہ ہے، جو چاہے (اپنی قسم) پوری کرے اور جو چاہے توڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19899]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19900
قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، هَذَا الْحَدِيثُ إِنَّمَا رُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ جَمِيعًا مُرْسَلًا، وَرُوِيَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
(سفیان نے) لیث سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
یہ حدیث صرف دو طریق سے مروی ہے اور دونوں مرسل ہیں۔ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مرفوع اور موصول بیان ہوئی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ اور اس بارے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19900]
یہ حدیث صرف دو طریق سے مروی ہے اور دونوں مرسل ہیں۔ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مرفوع اور موصول بیان ہوئی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ اور اس بارے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19900]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19901
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثنا ⦗٧٥⦘ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي كَنَفٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سُوقِ الدَّقِيقِ، إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ عَلَيْهِ لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا يَمِينًا، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" مَنْ حَلَفَ بِالْقُرْآنِ فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ يَمِينٌ، وَمَنْ كَفَرَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقَدْ كَفَرَ بِهِ كُلِّهِ".
عبداللہ بن مرہ رحمہ اللہ حضرت ابو کنف رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم آٹے کے بازار میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے، اچانک انہوں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سورۂ بقرہ کی قسم اٹھا رہا تھا تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اس پر اس کی ہر آیت کے عوض کفارہِ قسم ہے، اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے تذکرہ کیا تو فرمانے لگے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے قرآن کی قسم اٹھائی، اس پر ہر آیت کے عوض قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایک آیت کا انکار کر دیا، اس نے پورے قرآن کا انکار کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19901]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الجرح والتعديل 1722»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19902
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى السُّدَّةَ - سُدَّةً بِالسُّوقِ - فَاسْتَقْبَلَهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا"، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى دَرَجَ الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ:" يَا حَنْظَلَةُ أَتَرَى هَذَا يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ، إِنَّ كُلَّ آيَةٍ كَفَّارَةٌ، أَوْ قَالَ: يَمِينٌ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ شُعْبَةُ: سُوَيْدُ بْنُ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ سُفْيَانُ: هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ.
حنظلہ بن خویلد عنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ وہ سدہ (بازار کی اونچی جگہ) کے پاس آئے۔ وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا: میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کے اہل کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اس کی برائی اور اس کے اہل کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ پھر وہ مسجد کی سیڑھیوں پر آئے، انہوں نے ایک آدمی کو سنا، وہ قرآن کی قسم اٹھا رہا تھا، کہنے لگے: اے حنظلہ! کیا تو جانتا ہے اس پر قسم کا کفارہ ہے؟ ہر آیت کے عوض کفارہ ہے، یا فرمایا: (ہر آیت کے عوض) ایک قسم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19903
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرَدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ:" أَتُرَاهُ مُكَفَّرًا عَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ يَمِينٌ". فَقُولُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَعَ الْحَدِيثِ الْمُرْسَلِ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْحَلِفَ بِالْقُرْآنِ يَكُونُ يَمِينًا فِي الْجُمْلَةِ، ثُمَّ التَّغْلِيظُ فِي الْكَفَّارَةِ مَتْرُوكٌ بِالْإِجْمَاعِ.
عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک آدمی سے سنا، وہ قرآن کی قسم اٹھا رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کیا تو جانتا ہے اس پر ہر آیت کے عوض قسم کا کفارہ ہے؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول مرسل حدیث کے ساتھ مل کر اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کی قسم فی الجملہ قسم ہے، پھر کفارہ میں (ہر آیت کے عوض) سختی بالاجماع متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19903]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19904
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ:" أَدْرَكْتُ النَّاسَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةٍ يَقُولُونَ: اللهُ الْخَالِقُ، وَمَا سِوَاهُ مَخْلُوقٌ، وَالْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ عَزَّ وَجَلِّ".
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے لوگوں کو ستر سال سے پایا، وہ کہتے ہیں: اللہ خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19904]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَحْمُودٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو شُعَيْبٍ، أَنَّ حَفْصًا ⦗٧٦⦘ الْفَرْدَ نَاظَرَ الشَّافِعِيَّ، فَقَالَ حَفْصٌ:" الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ"، فَقَالَ لَهُ الشَّافِعِيُّ:" كَفَرْتَ بِاللهِ الْعَظِيمِ".
حفص فرماتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: تو نے اللہ عظیم کے ساتھ کفر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19905]
3945. -- باب: من قال: الله لأفعلن كذا، أو لم أفعل كذا، ينوي به يمينا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یوں کہا: ”اللہ! میں ضرور ایسا کروں گا، یا میں ایسا نہیں کروں گا“ اور اس سے اس کی نیت قسم کی ہو۔
حدیث نمبر: 19906
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ: فَقَالَ:" مَا نَوَيْتَ بِذَلِكَ"؟ قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ:" آللَّهِ"، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ:" فَهُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ"،.
عبداللہ بن علی بن رکانہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو «أَلْبَتَّةَ» ”البتہ“ طلاق دے دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تیری نیت کیا تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: ایک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے ارادے پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19906]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره