السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3941. -- باب: ما جاء في قوله: أقسم، أو أقسمت
-- باب: قسم کھانے والے کے یہ کہنے کے متعلق کیا مروی ہے: ”میں قسم کھاتا ہوں“ یا ”میں نے قسم کھائی“۔
حدیث نمبر: 19887
وَرَوَى إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ:" أُقْسِمُ"، قَالَ:" لَا يَكُونُ يَمِينًا حَتَّى يَقُولَ: أُقْسِمُ بِاللهِ"، وَفِي قَوْلِهِ" أَشْهَدُ"، قَالَ:" لَا يَكُونُ يَمِينًا حَتَّى يَقُولَ: أَشْهَدُ بِاللهِ"، وَهَذَا فِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِيَرَوَيْهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ فَذَكَرَهُ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ مِنْ قَوْلِهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خالی «أُقْسِمُ» کے الفاظ سے قسم مراد نہیں ہوتی، جب تک «أُقْسِمُ بِاللّٰهِ» کے الفاظ ادا نہ کیے جائیں۔ ایک قول میں ہے کہ «أَشْهَدُ» کے الفاظ سے بھی قسم مراد نہیں، جب تک «أَشْهَدُ بِاللّٰهِ» کے الفاظ نہ بولے جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19887]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3942. -- باب: ما جاء في إبرار المقسم
-- باب: قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19888
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کاموں سے منع فرمایا اور سات کے کرنے کا حکم دیا: ”تیمار داری کرنا، جنازہ پڑھنا، چھینک کا جواب دینا، سلام کو عام کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت کو قبول کرنا“ اور سات سے منع کیا: ”سونے کی انگوٹھی پہننا، چاندی کے برتن میں پینا، ریشم زیب تن کرنا، موٹا ریشم پہننا، باریک ریشم زیب تن کرنا، سرخ ریشمی زین، ریشمی گدے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19888]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19889
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنَ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ ⦗٧١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ"، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ فِي السِّقَايَةِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ إِنِّي انْطَلَقْتُ بِأَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَلَمْ يَفْعَلْ، فَقَامَ مَعَهُ الْعَبَّاسُ فِي قَمِيصٍ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ عَرَفْتَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، وَأَتَاكَ بِأَبِيهِ لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَلَمْ تَفْعَلْ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ"، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُبَايِعَنَّهُ، قَالَ: فَمَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَقَالَ:" هَا أَبْرَرْتُ عَمِّي، وَلَا هِجْرَةَ"، قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَفْوَانَ أَوْ صَفْوَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ لَا يَصِحُّ.
سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کی بیعت کے لیے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ جہاد پر بیعت لوں گا۔“ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جو پانی پلا رہے تھے، میں نے کہا: اے ابوالفضل! میں اپنے باپ کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ انھیں کپڑوں میں چل پڑے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو میرے اور عبدالرحمن کے درمیان بات چیت ہوئی آپ نے اس کو پہچان لیا، آپ اس کے باپ سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت نہیں ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے قسم ڈال دی کہ آپ ہجرت پر بیعت لیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: ”میں اپنے چچا کی قسم پوری کرتا ہوں، لیکن ہجرت نہیں ہے۔“
امام بخاری فرماتے ہیں: ”عبدالرحمن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمن، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے“، یزید بن ابی زیاد نے اسے مجاہد سے اسی طرح بیان کیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19889]
امام بخاری فرماتے ہیں: ”عبدالرحمن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمن، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے“، یزید بن ابی زیاد نے اسے مجاہد سے اسی طرح بیان کیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19889]
تخریج الحدیث: «ضعيف 19890 صرف خالي سند هي»
الحكم على الحديث: ضعيف 19890 صرف خالي سند هي
حدیث نمبر: 19890
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، عَنِ الْبُخَارِيِّ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19890]
حدیث نمبر: 19891
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ بْنِ رُسْتُمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى أَحَدٍ بِيَمِينٍ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَبَرُّهُ، فَلَمْ يَفْعَلْ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِي لَمْ يَبَرَّهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی پر قسم ڈالی اس لیے کہ وہ اسی کی قسم پوری کر دے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تو گناہ اس پر ہے جس نے اسے بری الذمہ قرار نہیں دلوایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19891]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19892
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الصَّغَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ طَبَقًا فِيهِ تَمْرٌ، فَأَكَلَتْ مِنْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَأَبْقَتْ مِنْهُ تَمَرَاتٍ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِيهِ كُلَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِرِّيهَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ"، حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ يُجْهَلُ مِنْ مَشَايِخِ بَقِيَّةَ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ أَمْثَلُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، أَورَدَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ، ⦗٧٢⦘ وَرُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَمَكْحُولٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ:" أَنَّ الْكَفَّارَةَ عَلَى الْمُقْسِمِ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے کھجور سے بھری ایک تھالی تحفہ میں دی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کھائیں اور کچھ پلیٹ میں بچ گئی۔ عورت کہنے لگی: میں قسم ڈالتی ہوں کہ آپ مکمل کھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم پوری کرو؛ کیونکہ گناہ قسم تڑوانے والے پر ہوتا ہے۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند میں بقیہ کے مشائخ میں سے ایک مجہول راوی ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بہتر ہے، لیکن وہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19892]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند میں بقیہ کے مشائخ میں سے ایک مجہول راوی ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بہتر ہے، لیکن وہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19892]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3943. -- باب: من قال: لعمر الله
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”اللہ کی بقا کی قسم“ (لعمر اللہ)۔
حدیث نمبر: 19893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللهُ مِمَّا قَالُوا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنَا مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنَا أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ فِي أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي"، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ، إِنْ كَانَ مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ، أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ، قَالَتْ: فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا، وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللهِ، لَا تَقْتُلُهُ، وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللهِ، لَنَقْتُلَنَّهُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ، تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہم اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نقل فرماتے ہیں کہ جب تہمت لگانے والوں نے باتیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک کر دیا، یہ لمبی حدیث ہے۔ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا: ”اے مسلمانو کی جماعت! کون ہمیں راحت دے گا جس نے ہمارے گھر والوں کے بارے میں ہمیں تکلیف دی ہے؟ اللہ کی قسم! میں اپنے گھر والوں کے متعلق بھلائی ہی کو جانتا ہوں اور جس آدمی کا تذکرہ انہوں نے کیا ہے، اس میں بھی بھلائی ہی کو پاتا ہوں، وہ صرف میرے گھر والوں کے پاس میرے ساتھ ہی گیا ہے۔“ تو سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو اس سے راحت دلاؤں گا، اگر وہ اوس قبیلہ سے ہے تو میں اس کی گردن اتار دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج کے قبیلہ سے ہے تو جو آپ کا حکم (ہوگا وہ) سر آنکھوں پر۔“ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو خزرج کے سردار تھے کھڑے ہو گئے، یہ نیک آدمی تھے لیکن حمیت نے ابھارا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! تم نے جھوٹ بولا ہے، نہ تم اسے قتل کرو گے اور نہ تم اس کی طاقت رکھتے ہو۔“ تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے کھڑے ہو کر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ”تم نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل کریں گے، تم منافق ہو اور منافقین کی جانب سے جھگڑا کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19893]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3944. -- باب: ما جاء في الحلف بصفات الله تعالى، كالعزة، والقدرة، والجلال، والكبرياء، والعظمة، والكلام، والسمع، ونحو ذلك
-- باب: اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً عزت، قدرت، جلال، کبریائی، عظمت، کلام، سماعت اور اس جیسی دیگر صفات کی قسم کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19894
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ"؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ"؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" وَيَبْقَى رَجُلٌ هُوَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَآخَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، يَقُولُ: ⦗٧٣⦘ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِيَ عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ" فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ"؟ فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَلَى الْجَنَّةِ، فَرَأَى بَهْجَتَهَا، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللهُ:" أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ"؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ فَيَقُولُ:" هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟"، فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ، قَالَ:، ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى"، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَ بِهِ قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:" مِنْ كَذَا وَكَذَا، فَسَلْ" يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللهُ:" لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَكَ ذَلِكَ، وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ أَيُّوبُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعِزَّتِكَ، لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ" وَفِي حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ جَهَنَّمَ، فَتَقُولُ:" قَطْ قَطْ، وَعِزَّتِكَ" قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُغْمَسُ فِي الْجَنَّةِ:" فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ، يَقُولُ:" لَا وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سعید بن مسیب اور عطا بن یزید لیثی کو خبر دی کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب عزوجل کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جبکہ بادل نہ ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بادل نہ ہونے کی صورت میں سورج کو دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔“ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت اور جہنم کے درمیان ایک آدمی رہ جائے گا اور یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا۔“
اس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا، وہ کہے گا: ”اے اللہ! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، اس کی حرارت میرے چہرے کو جھلس رہی ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں تو کیا تو کوئی اور سوال تو نہیں کرے گا؟“ وہ بندہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! آئندہ سوال نہ کروں گا۔“ وہ اللہ سے وعدہ کرے گا جو اللہ چاہے گا تو اللہ اس کا چہرہ جہنم سے پھیر دے گا۔ جب اس کا چہرہ جنت کی طرف کر دیا جائے گا تو وہ جنت کی رونقوں کو دیکھ کر جتنی دیر اللہ چاہے گا خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے آئندہ سوال نہ کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہیں ہوں۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو کیا تو پھر کوئی سوال کرے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! اب دوبارہ سوال نہ کروں گا۔“ اس نے حدیث ذکر کی۔ آخر میں ہے کہ جب اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تمنا کر۔“ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اس اس طرح کی تمنا کر۔“ اللہ اسے یاد دلاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی (تو اللہ فرمائے گا): ”یہ سب تیرے لیے ہے اور اس جتنا مزید بھی تیرے لیے ہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے لیے ہے اور اس کے برابر دس گنا مزید بھی۔“
(ب) ایوب علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے کہا: «بِعِزَّتِكَ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ» ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! ہم تیری برکت سے لاپرواہ نہیں ہیں۔“
(ج) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہنم کے قصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے گی: «بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ» ”تیری عزت کی قسم! بس بس۔“
(د) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں، جسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا (یعنی سیر کروائی جائے گی) تو اس سے کہا جائے گا: ”کیا تو نے کبھی دنیا میں کوئی غم دیکھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت و جلال کی قسم! میں نے کبھی کوئی غم نہیں دیکھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19894]
اس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا، وہ کہے گا: ”اے اللہ! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، اس کی حرارت میرے چہرے کو جھلس رہی ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں تو کیا تو کوئی اور سوال تو نہیں کرے گا؟“ وہ بندہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! آئندہ سوال نہ کروں گا۔“ وہ اللہ سے وعدہ کرے گا جو اللہ چاہے گا تو اللہ اس کا چہرہ جہنم سے پھیر دے گا۔ جب اس کا چہرہ جنت کی طرف کر دیا جائے گا تو وہ جنت کی رونقوں کو دیکھ کر جتنی دیر اللہ چاہے گا خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے آئندہ سوال نہ کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہیں ہوں۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو کیا تو پھر کوئی سوال کرے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! اب دوبارہ سوال نہ کروں گا۔“ اس نے حدیث ذکر کی۔ آخر میں ہے کہ جب اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تمنا کر۔“ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اس اس طرح کی تمنا کر۔“ اللہ اسے یاد دلاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی (تو اللہ فرمائے گا): ”یہ سب تیرے لیے ہے اور اس جتنا مزید بھی تیرے لیے ہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے لیے ہے اور اس کے برابر دس گنا مزید بھی۔“
(ب) ایوب علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے کہا: «بِعِزَّتِكَ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ» ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! ہم تیری برکت سے لاپرواہ نہیں ہیں۔“
(ج) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہنم کے قصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے گی: «بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ» ”تیری عزت کی قسم! بس بس۔“
(د) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں، جسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا (یعنی سیر کروائی جائے گی) تو اس سے کہا جائے گا: ”کیا تو نے کبھی دنیا میں کوئی غم دیکھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت و جلال کی قسم! میں نے کبھی کوئی غم نہیں دیکھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19894]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19895
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَسَمَّاهُمْ لَنَا، نَسْأَلُهُ، عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي سُؤَالِهِ، وَجَوَابِهِ، وَخُرُوجِهِمْ مِنْ عِنْدِهِ، وَدُخُولِهِمْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَكُمْ، قَالَ:، ثُمَّ قَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَجِيءُ فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا"، ⦗٧٤⦘ فَيُقَالُ لِي:" يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، قُلْ، يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ"، فَأَقُولُ:" يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"، فَيَقُولُ:" لَيْسَ ذَلِكَ إِلَيْكَ، وَلَكِنِّي، وَعِزَّتِي، وَكِبْرِيَائِي، وَعَظَمَتِي، لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، زَادَ فِيهِ" وَجَلَالِي"، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ حَمَّادٍ.
معبد بن ہلال عنزی فرماتے ہیں کہ میں اہل بصرہ کے ایک گروہ کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، (راوی نے) ان کے نام ہمیں بتائے، ہم نے ان سے شفاعت والی حدیث کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے حدیث کا تذکرہ فرمایا، سوال و جواب اور ان کے پاس سے نکلنے کا تذکرہ کیا اور حسن بن ابوالحسن کے پاس آنے کا تذکرہ کیا، حسن فرمانے لگے: انہوں نے مجھے بھی ویسے ہی بیان کیا جیسے تمہیں بیان کیا ہے، پھر کہنے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چوتھی مرتبہ آؤں گا اور اللہ کی تعریفیں بیان کروں گا، پھر سجدہ میں گر پڑوں گا۔ مجھے کہا جائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھائیے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کرو دیا جائے گا، سفارش کرو قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھا ان کے بارے میں مجھے اجازت، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: یہ آپ کا کام نہیں، مجھے میری عزت و کبریائی اور عظمت کی قسم! میں ضرور ان کو نکالوں گا جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19895]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19896
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفَانِ أَبُو الْفَتْحِ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُمَرِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَشْعَثَ الْقُرَشِيُّ، قَالَا: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: اعْهَدْ إِلِيَّ، فَقَالَ لَهُ: أَلَمْ يَأْتِكَ الْيَقِينُ؟ قَالَ: بَلَى، وَعِزَّةِ رَبِّي، قَالَ:" فَاعْلَمْ أَنَّ الضَّلَالَةَ حَقَّ الضَّلَالَةِ أَنْ تَعْرِفَ مَا كُنْتَ تُنْكِرُ، وَأَنْ تُنْكِرَ مَا كُنْتَ تَعْرِفُ، وَإِيَّاكَ وَالتَّلَوُّنَ، فَإِنَّ دِينَ اللهِ وَاحِدٌ".
حمید بن ہلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے غلام نے مجھے بیان کیا کہ ابومسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”مجھے کوئی وصیت کیجیے۔“ وہ کہنے لگے: ”کیا آپ کو یقین نہیں آیا؟“ کہتے ہیں: ”کیوں نہیں، میرے رب کی قسم!“ انہوں نے فرمایا: ”گمراہی کی پوری پہچان یہ ہے کہ جس (بات) کو آپ (پہلے) برا جانتے تھے، (اب) اسے پہچاننے لگیں اور جس کی (پہلے سے) پہچان ہے، اس کا انکار کرنے لگیں، اور مختلف آراء سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19896]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح