السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4193. -- باب:: من والى رجلا أو أسلم على يديه
-- باب: جس نے کسی شخص سے ولاء کا رشتہ قائم کیا یا اس کے ہاتھ پر اسلام لایا۔
حدیث نمبر: 21449
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. ⦗٤٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
(٢١٤٤٩) ایضا [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21449]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21450
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِيَ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا يَعْنِي: فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرْتُهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ"، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
(٢١٤٥٠) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ آئی کہ میں نے اپنے آقا سے نو اوقیوں پر مکاتبت کرلی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ دینا ہے، آپ میری مدد کریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اگر تیرے آقا پسند کریں تو میں یہ رقم ادا کر دوں اور ولاء میرے لیے ہوگی۔ بریرہ نے جا کر یہ بات اپنے آقاؤں کے سامنے بیان کی تو انھوں نے انکار کردیا۔ بریرہ واپس آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ بریرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں: ولاء ان کی ہوگی، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ بات سن لی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خریدو اور ولاء کی شرط رکھو۔ ولاء ہوتی ہی آزاد کرنے والے کے لیے ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں موجود نہیں وہ باطل ہے۔ اگرچہ سو شرائط بھی ہوں، اللہ کا فیصلہ زیادہ درست ہے اور اس کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21450]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21451
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ.
(٢١٤٥١) عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے انصار کے لوگوں سے بریرہ کو خریدا۔ انھوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس کے لیے ہے جو نعمت کا والی بنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21451]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ هُوَ ابْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ وَكِيعٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِأَنَّ النَّسَبَ شَبِيهٌ بِالْوَلَاءِ، وَالْوَلَاءَ شَبِيهٌ بِالنَّسَبِ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا لَا أَبًا لَهُ يُعْرَفُ، سَأَلَ رَجُلًا أَنْ يَنْسِبَهُ إِلَى نَفْسِهِ وَرَضِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ لَهُ ابْنًا أَبَدًا، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ"، وَكَذَلِكَ إِذَا لَمْ يُعْتِقِ ⦗٤٩٩⦘ الرَّجُلُ رَجُلًا لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ مَنْسُوبًا إِلَيْهِ بِالْوَلَاءِ، فَيُدْخِلَ عَلَى عَاقِلَتِهِ الْمَظْلَمَةَ، فِي عْقْلِهِمْ عَنْهُ، وَيْنِسبَ إِلَى نَفْسِهِ وَلَاءَ مَنْ لَمْ يُعْتِقْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَ، وَبَيَّنَ فِي قَوْلِهِ:" إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، أَنَّهُ لَا يَكُونُ الْوَلَاءُ إِلَّا لِمَنْ أَعْتَقَ..
(٢١٤٥٢) عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو خرید ولاء اس کا حق ہے جس نے قیمت ادا کی اور نعمت کا والی بنا۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا: نسب ولاء کے مشابہہ ہے اور ولاء نسب کے مشابہہ ہے۔ اگر ایک آدمی کا باپ معروف نہیں ہے، ایک آدمی نے سوال کیا کہ وہ اپنا نسب بیان کرے، وہ آدمی راضی ہوجاتا ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ اس کا بیٹا ہی رہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کے لیے ہے، اس طرح جو مرد کسی کو آزاد نہیں کرتا اس کی جانب ولاء کی نسبت ہو جائز نہیں ہے، وگرنہ وہ اپنے عاقلہ پر ظلم کرے گا۔ ولاء کی نسبت اپنی طرف کرنا حالانکہ اس نے آزاد نہیں کیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا، اس قول سے بھی واضح ہے کہ ولاء اس کی ہے جس نے آزاد کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21452]
امام شافعی (رح) نے فرمایا: نسب ولاء کے مشابہہ ہے اور ولاء نسب کے مشابہہ ہے۔ اگر ایک آدمی کا باپ معروف نہیں ہے، ایک آدمی نے سوال کیا کہ وہ اپنا نسب بیان کرے، وہ آدمی راضی ہوجاتا ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ اس کا بیٹا ہی رہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کے لیے ہے، اس طرح جو مرد کسی کو آزاد نہیں کرتا اس کی جانب ولاء کی نسبت ہو جائز نہیں ہے، وگرنہ وہ اپنے عاقلہ پر ظلم کرے گا۔ ولاء کی نسبت اپنی طرف کرنا حالانکہ اس نے آزاد نہیں کیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا، اس قول سے بھی واضح ہے کہ ولاء اس کی ہے جس نے آزاد کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21452]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
4194. -- باب:: ما يستدل به على نسخ آية المعاقدة.
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے آیتِ معاقدہ (معاہدے والی آیت) کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 21453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: ٣٣] قَالَ:" كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يُوَرِّثُونَ الْأَنْصَارَ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوْالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ} [النساء: ٣٣] فَنُسِخَتْ، ثُمَّ قَالَ: {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: ٣٣] ، مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ وَيُوصِي لَهُمْ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
(٢١٤٥٣) سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ { وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ } [النساء ٣٣] ”جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“
جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار نے ان کو اپنا وارث صرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی چارے کی وجہ سے بنادیا تو یہ آیت نازل ہوئی: { وَ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ } [النساء ٣٣] جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں، ہم نے ہر ایک کے حق مقرر کردیے ہیں“ یہ منسوخ کی گئی، پھر فرمایا: { وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ } [النساء ٣٣] ”جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“ مدد کرنا، نصیحت اور وصیت کرنا اور میراث ختم ہوجائے گی۔
(ب) عکرمہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: { وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ } [النساء ٣٣] آدمی دوسرے کا حلیف ہے دونوں کے درمیان نفس تعلق بھی نہیں، ایک دوسرے کا وارث ہو تو سورة انفال نے اس کو منسوخ کردیا: { وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ } رشتہ دار خدا کے حکم سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21453]
جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار نے ان کو اپنا وارث صرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی چارے کی وجہ سے بنادیا تو یہ آیت نازل ہوئی: { وَ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ } [النساء ٣٣] جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں، ہم نے ہر ایک کے حق مقرر کردیے ہیں“ یہ منسوخ کی گئی، پھر فرمایا: { وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ } [النساء ٣٣] ”جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“ مدد کرنا، نصیحت اور وصیت کرنا اور میراث ختم ہوجائے گی۔
(ب) عکرمہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: { وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ } [النساء ٣٣] آدمی دوسرے کا حلیف ہے دونوں کے درمیان نفس تعلق بھی نہیں، ایک دوسرے کا وارث ہو تو سورة انفال نے اس کو منسوخ کردیا: { وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ } رشتہ دار خدا کے حکم سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21453]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 22922»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21454
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا أَسْلَمَ عَلَى يَدِيَّ، قَالَ:" هُوَ مَوْلَاكَ، فَإِذَا مُتَّ فَأَوْصِ لَهُ" ⦗٥٠٠⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَفِيهِ تَأْكِيدٌ لِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي نَسْخِ آيَةِ الْمُعَاقَدَةِ فِي الْمِيرَاثِ، وَلَكِنْ يُوصِي لَهُ، وَيُحْسِنُ إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
(٢١٤٥٤) معاویہ بن اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: فلاں میرے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے۔ فرمایا: وہ تیرا مولیٰہے جب تو مرے تو اس کے لیے وصیت کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21454]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4195. -- باب:: ما جاء في علة حديث روي فيه، عن تميم الداري مرفوعا.
-- باب: حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کی علت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21455
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَانَ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنِي مَنْ، لَا أَتَّهِمُ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، مَا السُّنَّةُ فِيهِ؟ قَالَ:" هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ، بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ"..
(٢١٤٥٥) تمیم داری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا، جو کافر تھا، پھر مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوجاتا ہے، اس میں طریقہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ اس کی زندگی و موت کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21455]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21456
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ..
(٢١٤٥٦) ایضا [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21456]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21457
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ. قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: هَذَا خَطَأٌ، ابْنُ مَوْهَبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ، وَلَا لَحِقَهُ..
(٢١٤٥٧) ایضا [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21457]
تخریج الحدیث: «خطاء»
الحكم على الحديث: خطاء
حدیث نمبر: 21458
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ"..
(٢١٤٥٨) تمیم داری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کافر انسان مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوجاتے تو اس میں طریقہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمام لوگوں سے زیادہ اس کی زندگی و موت کا حق دار۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21458]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف