السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4238. -- باب:: المكاتب بين قوم لا يكون لأحدهم أن يأخذ منه شيئا دون صاحبه.
-- باب: کئی لوگوں کے درمیان مشترک مکاتب کا بیان، ان (مالکوں) میں سے کسی ایک کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے ساتھی کو چھوڑ کر اکیلا ہی اس سے کچھ وصول کرے۔
حدیث نمبر: 21698
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" مُكَاتَبٌ بَيْنَ قَوْمٍ، فَأَرَادُوا أَنْ يُقَاطِعَ بَعْضَهُمْ"، قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مِثْلُ مَا قَاطَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَبِهَذَا نَأْخُذُ، فَلَا يَكُونُ لِأَحَدِ الشُّرَكَاءِ فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْمُكَاتَبِ شَيْئًا دُونَ صَاحِبِهِ".
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک قوم کا مکاتب غلام ہے، بعض بعض سے مقاطع چاہتے ہیں؟ فرمایا: نہیں، بلکہ جب سب کے لیے ایک جیسا مال ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے مکاتب سے اپنے شرکاء کے بغیر کوئی چیز وصول نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21698]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے مکاتب سے اپنے شرکاء کے بغیر کوئی چیز وصول نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21698]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4239. -- باب:: ولد المكاتب من جاريته، وولد المكاتبة من زوجها.
-- باب: مکاتب کے اپنی لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے اور مکاتبہ کے اپنے شوہر سے پیدا ہونے والے بچے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21699
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا"، - يَعْنِي: الْمُكَاتَبَةَ..
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کی اولاد اس کے مرتبہ میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21699]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21700
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنّهُ سُئِلَ عَنْ بَيْعِ وَلَدِ الْمُكَاتَبَةِ، فَقَالَ:" وَلَدُهَا مِنْهَا، إِنْ عَتَقَتْ عَتَقَ، وَإِنْ رَقَّتْ رَقَّ".
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے مکاتبہ کی اولاد کی بیع کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اولاد اسی جیسی ہے، اگر مکاتبہ آزاد ہے تو اولاد بھی آزاد ہے، اگر وہ غلام ہے تو اولاد بھی غلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21700]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21701
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ:" يُبَاعُ وَلَدُهَا لِلْعِتْقِ، تَسْتَعِينُ بِهِ الْأُمُّ فِي مُكَاتَبَتِهَا". وَقَوْلُ شُرَيْحٍ أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ اپنی کتابت کی مدد کے لیے اپنی اولاد کو آزادی کے لیے فروخت کرے، لیکن قاضی شریح رحمہ اللہ کا قول سفیان رحمہ اللہ کو زیادہ پسند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21701]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21702
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" الْمُكَاتَبُ لَا يَشْتَرِطُ أَنَّ مَا وَلَدَتْ مِنْ وَلَدٍ فَإِنَّهُ فِي كِتَابَتِي ثُمَّ يُولَدُ؟"، قَالَ: هُمْ فِي كِتَابَتِهِ". وَقَالَ ذَلِكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.
ابن جریج رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ مکاتب یہ شرط نہیں رکھتا کہ جو اولاد پیدا ہو گی وہ میری کتابت میں ہو گی، پھر اولاد پیدا ہو جائے (تو کیا حکم ہے)؟ فرمایا: وہ اس کی کتابت میں شامل ہیں۔ عمرو بن دینار نے بھی یہی کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21702]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21703
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَمَةً كُوتِبَتْ، ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ، ثُمَّ مَاتَتْ، فَسَأَلْتُ عَنْهَا عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ:" إِنْ أَقَامَا بِكِتَابَةِ أُمِّهِمَا فَذَلِكَ لَهُمَا، فَإِنْ قَضَيَاهَا عَتَقَا". وَقَالَ ذَلِكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.
ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ ایک لونڈی نے کتابت کی، پھر اس نے دو بچے جنم دیے، پھر وہ فوت ہو گئی، میں نے اس کے بارے میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر وہ دونوں اپنی ماں کی کتابت پر قائم رہیں تو یہ ان کا حق ہے، اور اگر وہ اسے ادا کر دیں تو آزاد ہو جائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21703]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21704
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَقَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ:" إِنْ كَاتَبَ وَلَا وَلَدَ لَهُ، ثُمَّ وُلِدَ لَهُ مِنْ سُرِّيَّةٍ لَهُ، فَمَاتَ أَبُوهُمْ لَمْ يُوضَعْ عَنْهُمْ شَيْءٌ، وَكَانُوا عَلَى كِتَابَةِ أَبِيهِمْ إِنْ شَاءُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا مُحِيَتْ كِتَابَةُ أَبِيهِمْ وَكَانُوا عَبِيدًا لَهُ". كَذَا قَالُوا، وَنَحْنُ نَقُولُ: إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ أَوِ الْمُكَاتَبَةُ قَبْلَ أَدَاءِ مَالِ الْكِتَابَةِ مَاتَا رَقِيقَيْنِ، وَأَوْلَادُهُمَا رَقِيقٌ، اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي الْمُكَاتَبِ أَنَّهُ" عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے مکاتبت کی اور اولاد نہ تھی، پھر لونڈی سے اولاد ہو گئی، باپ فوت ہو گیا تو قیمت کم نہ کی جائے گی، وہ اپنے باپ کی مکاتبت پر ہی رہے گی، اگر چاہے تو کتابت ختم کر دی جائے اور وہ غلام رہیں۔
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جب مکاتب یا مکاتبہ اپنی رقم ادا کیے بغیر فوت ہو جائیں تو غلام ہی رہیں گے، ان کی اولاد بھی غلام ہو گی، استدلال اس حدیث سے ہے کہ ”اگر اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو گا وہ غلام ہی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21704]
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جب مکاتب یا مکاتبہ اپنی رقم ادا کیے بغیر فوت ہو جائیں تو غلام ہی رہیں گے، ان کی اولاد بھی غلام ہو گی، استدلال اس حدیث سے ہے کہ ”اگر اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو گا وہ غلام ہی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21704]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21705
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" رَجُلٌ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ وَقَاطَعَهُ، فَكَتَمَهُ مَالًا لَهُ وَعَبِيدًا وَمَالًا غَيْرَ ذَلِكَ؟"، قَالَ: هُوَ لِلسَّيِّدِ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ایک آدمی نے اپنے غلام سے مکاتبت کی اور اس سے طے کر لیا، پھر غلام نے اپنا مال، غلام اور دوسرا مال اس سے چھپا لیا۔ فرماتے ہیں: یہ اس کے مالک کا ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21705]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21706
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" فَإِنْ كَانَ السَّيِّدُ قَدْ سَأَلَهُ مَالَهُ فَكَتَمَهُ؟"، قَالَ: هُوَ لِسَيِّدِهِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" فَكَتَمَهُ وَلَدًا لَهُ مِنْ أَمَةٍ لَهُ، أَوْ لَمْ يَسْأَلْهُ"، قَالَ: هُوَ لِسَيِّدِهِ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لَهُ:" أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ سَيِّدُهُ قَدْ عَلِمَ بِوَلَدِ الْعَبْدِ، فَلَمْ يَذْكُرْهُ السَّيِّدُ وَلَا الْعَبْدُ عِنْدَ الْكِتَابَةِ"؟ قَالَ: فَلَيْسَ فِي كِتَابَتِهِ، هُوَ مَالُ سَيِّدِهِمَا". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: اگر مالک نے غلام سے مال کا سوال کیا اور اس نے چھپا لیا تو فرمایا: وہ مالک کا ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا: اگر اس نے لونڈی کا بچہ چھپا لیا یا اس کے بارے میں سوال نہ ہوا تو فرمایا: وہ بھی مالک کا ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر مالک کو غلام کے بچے کا علم ہو لیکن کتابت کے وقت اس کا تذکرہ نہیں ہوا، فرماتے ہیں: یہ بھی مالک کا مال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21706]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4240. -- باب:: تعجيل الكتابة.
-- باب: مالِ کتابت کی ادائیگی میں جلدی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21707
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَاتَبَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَكُنْتُ فِيمَنْ فَتَحَ تُسْتَرَ، فَاشْتَرَيْتُ رَثَّةً، فَرَبِحْتُ فِيهَا، فَأَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِكِتَابَتِهِ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا مِنِّي إِلَّا نُجُومًا، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَرَادَ أَنَسٌ الْمِيرَاثَ"، وَكَتَبَ إِلَى أَنَسٍ:" أَنِ اقْبَلْهَا مِنَ الرَّجُلِ"، فَقَبِلَهَا".
انس بن سیرین رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے 20 ہزار درہم پر مکاتبت کی۔ میں بھی تستر کو فتح کرنے والے لوگوں میں سے تھا، میں نے سامان خریدا اور منافع کمایا۔ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس کتابت کی رقم لے کر آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، صرف مقررہ حصہ (قبول کیا)۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: ”سیدنا انس میراث چاہتے ہیں“ اور ان کو لکھا کہ ”اس سے (رقم) قبول کر لو“ تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21707]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف