مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ 3209 عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ وَأَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَاءَ فَقُلْتُ: عَلَى مَا تَأَوَّلَ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ: نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
عید الفطر کے دن (نماز کے لئے) نکلنے سے پہلے کچھ کھانا
حدیث نمبر: 3210
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ وَيَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْوَاقِدِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَفِيمَا قَبْلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ، امام أحمد، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اُن کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (نماز کے لئے) جانے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے، اور لوگوں کو بھی اس بات کا حکم دیتے تھے“۔ امام طبرانی کی سند میں، ایک راوی واقدی ہے، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے، اور اس سے پہلے عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے، اس کے بارے میں بھی کلام کیا گیا ہے، ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3210]
یہ روایت امام ابویعلیٰ، امام أحمد، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اُن کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (نماز کے لئے) جانے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے، اور لوگوں کو بھی اس بات کا حکم دیتے تھے“۔ امام طبرانی کی سند میں، ایک راوی واقدی ہے، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے، اور اس سے پہلے عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے، اس کے بارے میں بھی کلام کیا گیا ہے، ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3210]
تخریج الحدیث: «مسند ابي يعلى الموصلى من مسند ابي سعيد الخدري، 1316 المعجم الاوسط للطبراني باب العين من اسمه عبد الله 4606»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3211
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَطْعَمَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَلَوْ بِتَمْرَةٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا تَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى تُخْرِجَ الصَّدَقَةَ وَتَطْعَمَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ تم (نماز عید کی ادائیگی کے لیے) نکلنے سے پہلے کچھ کھا لو، خواہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو۔
یہ روایت امام بزار نے، اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، اُن کے الفاظ یہ ہیں: ”سنت یہ ہے کہ تم عیدالفطر کے دن، اُس وقت تک نہ نکلو، جب تک تم صدقہ فطر ادا نہیں کر دیتے اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا نہیں لیتے“۔ امام طبرانی کی سند حسن ہے، اور امام بزار کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3211]
یہ روایت امام بزار نے، اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، اُن کے الفاظ یہ ہیں: ”سنت یہ ہے کہ تم عیدالفطر کے دن، اُس وقت تک نہ نکلو، جب تک تم صدقہ فطر ادا نہیں کر دیتے اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا نہیں لیتے“۔ امام طبرانی کی سند حسن ہے، اور امام بزار کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3211]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3212
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ أَكَلَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ أَضْحَى لَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَائِكُ مَتْرُوكٌ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عیدالفطر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لئے) جانے سے پہلے سات کھجوریں کھایا کرتے تھے، لیکن عیدالاضحی کے دن آپ (نماز سے پہلے) کچھ نہیں کھاتے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ ناصح بن عبداللہ حائک ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3212]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ ناصح بن عبداللہ حائک ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3212]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3213
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن، عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3213]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3213]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بشواھدہ
حدیث نمبر: 3214
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ، وَكَانَ لَا يَطْعَمُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ فَيَأْكُلَ مِنْ ذَبِيحَتِهِ قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ:"فَيَأْكُلَ مِنْ ذَبِيحَتِهِ" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک کچھ کھا نہیں لیتے تھے، البتہ قربانی کے دن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لانے سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے، اور (نماز پڑھ کر آنے کے بعد) ذبیحہ کا گوشت کھاتے تھے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نہیں کیے ہیں: ”آپ ذبیحہ کا گوشت کھاتے تھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور امام أحمد نے بھی نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ رفاعی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3214]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نہیں کیے ہیں: ”آپ ذبیحہ کا گوشت کھاتے تھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور امام أحمد نے بھی نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ رفاعی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3214]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث حسن لغیرہ بشواھدہ
حدیث نمبر: 3215
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ وَمَعَهُ حَرْبَةٌ وَتُرْسٌ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو كُرْزٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لئے تشریف لے جاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نیزہ اور ڈھال ہوتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوکرز ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3215]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوکرز ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3215]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، ولکن الحدیث صحیح لغیرہ
حدیث نمبر: 3216
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْقَرَظِ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْعِيدَيْنِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ: كَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجُمُعَةِ حَدِيثٌ آخَرُ لَهُ مِنَ الْكَبِيرِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ
سیدنا سعد بن عمار القرظ رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: عیدین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمان کو پکڑ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے یہ روایت نقل کی ہے: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے موقع پر خطبہ دیتے تھے، تو کمان ہاتھ میں پکڑ کر خطبہ دیتے تھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس سے پہلے جمعہ سے متعلق باب میں ایک اور حدیث گزر چکی ہے، جو ان صحابی کے حوالے سے منقول ہے، اور معجم کبیر میں نقل ہوئی ہے، یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3216]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس سے پہلے جمعہ سے متعلق باب میں ایک اور حدیث گزر چکی ہے، جو ان صحابی کے حوالے سے منقول ہے، اور معجم کبیر میں نقل ہوئی ہے، یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3216]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 3217
عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ فِي الْعِيدِ وَيُخْرِجُ أَهْلَهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن تشریف لے جاتے تھے، اور اپنے اہل خانہ کو بھی لے جاتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ اس کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3217]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ اس کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3217]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
حدیث نمبر: 3218
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدْ كَانَتْ تَخْرُجُ الْكَعَابُ مِنْ خُدُورِهِنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، عیدین کے موقع پر پردہ دار لڑکیاں بھی (نماز کی ادائیگی کے لئے) نکلتی تھیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3218]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3218]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3219
وَعَنْ أَخْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ:" وَجَبَ الْخُرُوجُ عَلَى كُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍ" رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ:" يَعْنِي: فِي الْعِيدَيْنِ" وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ امْرَأَةٌ تَابِعِيَّةٌ لَمْ يُذْكَرِ اسْمُهَا
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی بہن، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر بڑی عمر کی لڑکی پر نکلنا لازم ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”عیدین کے موقع پر“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک تابعی خاتون ہے، جن کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3219]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”عیدین کے موقع پر“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک تابعی خاتون ہے، جن کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3219]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف بوجہ جہالتِ راویہ، ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بشواھدہ