المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. علي بن الحسين عن أبيه رضي الله عنهم
علی بن حسین کی اپنے والد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 2872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ»
علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 127، حدیث 2885»
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ ہے کہ وہ بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 128، حدیث 2886»
حدیث نمبر: 2874
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَخَطِئَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ؛ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ»
امام محمد باقر رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود بھیجنے میں چوک جائے، وہ جنت کا راستہ بھول جائے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 128، حدیث 2887»
حدیث نمبر: 2875
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اعْتِكَافُ عَشْرٍ فِي رَمَضَانَ كَحَجَّتَيْنِ وَعُمْرَتَيْنِ»
علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے دس دنوں کا اعتکاف دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 128، حدیث 2888»
حدیث نمبر: 2876
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَحِبُّونَا بِحُبِّ الْإِسْلَامِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَرْفَعُونِي فَوْقَ حَقِّي، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى اتَّخَذَنِي عَبْدًا قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَنِي رَسُولًا»
علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے تھے: ہم سے اسلام کی محبت کی بنا پر محبت رکھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”مجھے میرے حق سے زیادہ مقام نہ دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنانے سے پہلے بندہ بنایا تھا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2876]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 128، حدیث 2889»
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّاجِيُّ الْمَكِّيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: لَمَّا كَانَ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، هَبَطَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ، وَتَفْضِيلًا لَكَ، وَخَاصَّةً لَكَ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا» . قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ هَبَطَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَهَبَطَ مَعَهُمَا مَلَكٌ فِي الْهَوَاءِ يُقَالُ لَهُ إِسْمَاعِيلُ عَلَى سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ، لَيْسَ فِيهِمْ مَلَكٌ إِلَّا عَلَى سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ، يُشَيِّعُهُمْ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ، وَتَفْضِيلًا لَكَ، وَخَاصَّةً لَكَ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا» . قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ، وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ. فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ. فَأَذِنَ لَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ، إِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ نَفْسَكَ قَبَضْتُهَا، وَإِنْ كَرِهْتَ تَرَكْتُهَا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟» قَالَ: نَعَمْ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ. فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ؟ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ» . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا آخِرُ وَطْأَتِي الْأَرْضَ، إِنَّمَا كَانَتْ حَاجَتِي فِي الدُّنْيَا. فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ، جَاءَ آتٍ، يَسْمَعُونَ حِسَّهُ وَلَا يَرَوْنَ شَخْصَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، إِنَّ فِي اللهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ، فَبِاللهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا، فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ
علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن پہلے جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اترے اور عرض کیا: ”اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کے اکرام، آپ کی فضیلت اور آپ کی خصوصیت کے پیشِ نظر آپ کی طرف بھیجا ہے، میں آپ سے وہ بات پوچھتا ہوں جسے وہ آپ سے زیادہ جانتا ہے، وہ فرماتا ہے: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبریل! میں اپنے آپ کو غمگین پاتا ہوں، اے جبریل! میں اپنے آپ کو مصیبت زدہ پاتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر جب تیسرا دن ہوا تو جبریل علیہ السلام اترے، اور ان کے ساتھ ملک الموت علیہ السلام بھی اترے، اور ان دونوں کے ساتھ ہوا میں ایک فرشتہ بھی اترا جسے اسماعیل کہا جاتا تھا، وہ ستر ہزار فرشتوں پر مامور تھا، اور ان میں کوئی فرشتہ ایسا نہ تھا جو ستر ہزار فرشتوں پر مامور نہ ہو، جبریل علیہ السلام انہیں لے کر آئے، اور عرض کیا: ”اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کے اکرام، آپ کی فضیلت اور آپ کی خصوصیت کے پیشِ نظر آپ کی طرف بھیجا ہے، میں آپ سے وہ بات پوچھتا ہوں جسے وہ آپ سے زیادہ جانتا ہے، وہ فرماتا ہے: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبریل! میں اپنے آپ کو غمگین پاتا ہوں، اے جبریل! میں اپنے آپ کو مصیبت زدہ پاتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ملک الموت نے دروازے پر اجازت طلب کی، تو جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: ”اے محمد! یہ ملک الموت ہیں، آپ سے اجازت مانگ رہے ہیں، انہوں نے آپ سے پہلے کسی انسان سے اجازت نہیں مانگی، اور نہ آپ کے بعد کسی انسان سے اجازت مانگیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دو۔“ چنانچہ جبریل علیہ السلام نے اسے اجازت دی، تو وہ آگے بڑھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، اور عرض کیا: ”اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے حکم کی اطاعت کروں، اگر آپ مجھے حکم دیں کہ میں آپ کی روح قبض کر لوں تو میں قبض کر لوں گا، اور اگر آپ ناپسند کریں تو میں چھوڑ دوں گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم واقعی ایسا کرو گے اے ملک الموت؟“ اس نے کہا: ”ہاں، اور مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ حکم دیں میں اس میں آپ کی اطاعت کروں۔“ اس پر جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: ”اللہ عزوجل کو آپ سے ملاقات کا اشتیاق ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا حکم دیا گیا ہے وہ کر گزرو۔“ تو جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: ”یہ زمین پر میرا آخری قدم ہے، میرا دنیا میں کام صرف یہی تھا۔“ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور تعزیت کا وقت آیا تو ایک آنے والا آیا، لوگ اس کی آواز سنتے مگر اس کی شخصیت نہ دیکھتے، اس نے کہا: ”تم پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، بے شک اللہ میں ہر مصیبت کی تسلی ہے، ہر ہلاک ہونے والے کا نعم البدل ہے، اور ہر فوت شدہ چیز کا ازالہ ہے، پس اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اسی سے امید رکھو، بے شک اصل مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم رہے، اور تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 128، حدیث 2890»
حدیث نمبر: 2878
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ، أَوْصَى أَنْ يُنْفَذَ جَيْشُ أُسَامَةَ، وَلَا يَسْكُنَ مَعَهُ الْمَدِينَةَ إِلَّا أَهْلُ دِينِهِ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ
امام محمد باقر رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت تین باتوں کی وصیت فرمائی: پہلی یہ کہ اسامہ کے لشکر کو روانہ کیا جائے، اور دوسری یہ کہ مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دین والوں (یعنی مسلمانوں) کے سوا کوئی نہ رہے۔ محمد باقر کہتے ہیں: اور مجھے تیسری بات یاد نہیں رہی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2878]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 130، حدیث 2891»
حدیث نمبر: 2879
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَازِنِيُّ، ثنا أَرْطَأَةُ بْنُ الْأَشْعَثِ الْعَدَوِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَعِنْدَهُ ابْنُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ. فَقُلْتُ: قَدْ تَغَدَّيْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ. فَقَالَ لِي: إِنَّهُ هِنْدِبَاءُ. قُلْتُ: يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، وَمَا فِي الْهِنْدِبَاءِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ وَرَقَةٍ مِنْ وَرَقِ الْهِنْدِبَاءِ إِلَّا وَعَلَيْهَا قَطْرَةٌ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ»
ثُمَّ أَتَى بِدُهْنٍ، فَقَالَ: ادَّهِنْ. فَقُلْتُ: قَدِ ادَّهَنْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ. قَالَ: إِنَّهُ بَنَفْسَجٌ. قُلْتُ: وَمَا فِي الْبَنَفْسَجِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فَضْلَ الْبَنَفْسَجِ عَلَى سَائِرِ الْأَدَهْانِ كَفَضْلِ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ فَضْلَ دُهْنِ الْبَنَفْسَجِ كَفَضْلِ الْإِسْلَامِ عَلَى سَائِرِ الْأَدْيَانِ»
ثُمَّ أَتَى بِدُهْنٍ، فَقَالَ: ادَّهِنْ. فَقُلْتُ: قَدِ ادَّهَنْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ. قَالَ: إِنَّهُ بَنَفْسَجٌ. قُلْتُ: وَمَا فِي الْبَنَفْسَجِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فَضْلَ الْبَنَفْسَجِ عَلَى سَائِرِ الْأَدَهْانِ كَفَضْلِ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ فَضْلَ دُهْنِ الْبَنَفْسَجِ كَفَضْلِ الْإِسْلَامِ عَلَى سَائِرِ الْأَدْيَانِ»
بشر بن عبداللہ خثعمی بیان کرتے ہیں: میں محمد بن علی بن حسین (امام محمد باقر) رحمہ اللہ کے پاس گیا، ان کے پاس ان کے بیٹے بھی تھے۔ انہوں نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے ابن رسول اللہ! میں کھانا کھا چکا ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا: یہ تو ہندباء (کاسنی) ہے۔ میں نے عرض کیا: اے ابن رسول اللہ! ہندباء میں کیا خاصیت ہے؟ فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہندباء کے پتوں میں سے کوئی پتہ ایسا نہیں جس پر جنت کے پانی کا ایک قطرہ نہ ہو۔“
پھر تیل لایا گیا، تو انہوں نے فرمایا: تیل لگاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے ابن رسول اللہ! میں تیل لگا چکا ہوں۔ فرمایا: یہ تو بنفشہ کا تیل ہے۔ میں نے عرض کیا: بنفشہ میں کیا خاصیت ہے؟ فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا سے بیان کیا، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنفشہ کے تیل کی باقی تمام تیلوں پر فضیلت ایسی ہی ہے جیسے عبدالمطلب کی اولاد کی باقی قریش پر فضیلت ہے، اور بنفشہ کے تیل کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے اسلام کی باقی تمام ادیان پر فضیلت ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2879]
پھر تیل لایا گیا، تو انہوں نے فرمایا: تیل لگاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے ابن رسول اللہ! میں تیل لگا چکا ہوں۔ فرمایا: یہ تو بنفشہ کا تیل ہے۔ میں نے عرض کیا: بنفشہ میں کیا خاصیت ہے؟ فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا سے بیان کیا، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنفشہ کے تیل کی باقی تمام تیلوں پر فضیلت ایسی ہی ہے جیسے عبدالمطلب کی اولاد کی باقی قریش پر فضیلت ہے، اور بنفشہ کے تیل کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے اسلام کی باقی تمام ادیان پر فضیلت ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2879]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 130، حدیث 2892»
33. فاطمة بنت الحسين عن أبيها رضي الله عنها
فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا کی اپنے والد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ»
فاطمہ بنت حسین رحمہا اللہ اپنے والد سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کا حق ہے چاہے وہ گھوڑے پر سوار ہو کر ہی کیوں نہ آئے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2880]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 130، حدیث 2893»
حدیث نمبر: 2881
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الْأُمُورِ وأَشْرَافَهَا، وَيَكْرَهُ سَفَاسِفَهَا»
فاطمہ بنت حسین رحمہا اللہ اپنے والد سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بلند اور شریف کاموں کو پسند کرتا ہے، اور پست و حقیر کاموں کو ناپسند کرتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2881]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 131، حدیث 2894»