المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه
سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيَّ، مِنْ وَلَدِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ، يُنْشِدُ فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ، وَقَالَ هَذَا الشِّعْرَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ:"
[البحر البسيط]
مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ الرَّسُولُ لَكُمْ... مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ
بِأَهْلِ بَيْتِي وَأَنْصَارِي وَذُرِّيَّتِي... مِنْهُمْ أُسَارَى وقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ
مَا كَانَ ذَاكَ جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ... أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي
فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ:" نَقُولُ: {ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [الأعراف: ٢٣] "
[البحر البسيط]
مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ الرَّسُولُ لَكُمْ... مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ
بِأَهْلِ بَيْتِي وَأَنْصَارِي وَذُرِّيَّتِي... مِنْهُمْ أُسَارَى وقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ
مَا كَانَ ذَاكَ جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ... أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي
فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ:" نَقُولُ: {ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [الأعراف: ٢٣] "
زکریا بن یحییٰ الساجی بیان کرتے ہیں: میں نے احمد بن محمد بن حمید جہمی کو، جو ابوجہم بن حذیفہ کی اولاد میں سے تھے، حسین کے قتل پر یہ اشعار پڑھتے سنا، اور کہا کہ یہ شعر زینب بنت عقیل بن ابی طالب کے ہیں:
”تم کیا جواب دو گے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پوچھیں کہ تم نے کیا کیا، جبکہ تم امتوں میں سب سے آخری ہو؟
میرے اہل بیت، میرے مددگاروں اور میری اولاد کے ساتھ، جن میں سے کچھ قیدی بنائے گئے اور کچھ خون میں لت پت مقتول ہوئے۔
جب میں نے تمہاری خیرخواہی کی تو میرا یہ صلہ نہ تھا کہ تم میرے بعد میرے قرابت داروں کے ساتھ برا سلوک کرو۔“
اس پر ابوالاسود دؤلی نے کہا: ہم یہی کہتے ہیں: ”ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے“ [الاعراف: 23] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2862]
”تم کیا جواب دو گے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پوچھیں کہ تم نے کیا کیا، جبکہ تم امتوں میں سب سے آخری ہو؟
میرے اہل بیت، میرے مددگاروں اور میری اولاد کے ساتھ، جن میں سے کچھ قیدی بنائے گئے اور کچھ خون میں لت پت مقتول ہوئے۔
جب میں نے تمہاری خیرخواہی کی تو میرا یہ صلہ نہ تھا کہ تم میرے بعد میرے قرابت داروں کے ساتھ برا سلوک کرو۔“
اس پر ابوالاسود دؤلی نے کہا: ہم یہی کہتے ہیں: ”ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے“ [الاعراف: 23] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 124، حدیث 2875»
حدیث نمبر: 2863
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيُّ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «رَأْسُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوَّلُ رَأْسٍ حُمِلَ فِي الْإِسْلَامِ»
شعبی بیان کرتے ہیں: حسین رضی اللہ عنہ کا سر اسلام میں سب سے پہلا سر تھا جسے کاٹ کر اٹھایا گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 124، حدیث 2876»
حدیث نمبر: 2864
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهَبَّارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، وَإِذَا رَأْسُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُدَّامَهُ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، فَإِذَا رَأْسُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَإِذَا رَأْسُ الْمُخْتَارِ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ وَإِذَا رَأْسُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَلَى تُرْسٍ»
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں: میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس گیا تو حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر ایک ڈھال پر اس کے سامنے رکھا تھا۔ اللہ کی قسم! زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ میں مختار کے پاس گیا تو عبیداللہ بن زیاد کا سر ایک ڈھال پر رکھا تھا۔ اللہ کی قسم! زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ میں مصعب بن زبیر کے پاس گیا تو مختار کا سر ایک ڈھال پر رکھا تھا۔ اللہ کی قسم! زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ میں عبدالملک بن مروان کے پاس گیا تو مصعب بن زبیر کا سر ایک ڈھال پر رکھا تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 125، حدیث 2877»
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أُتِيَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، جَعَلَ يَنْكُتُ بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ، وَيَقُولُ: إِنْ كَانَ لَحَسَنَ الثَّغْرِ. فَقُلْتُ: وَاللهِ لَأَسُوءَنَّكَ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مَوْضِعَ قَضِيبِكَ مِنْ فِيهِ"
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی کا سر عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تو وہ اپنے ہاتھ کی چھڑی سے اس کے دانتوں کو کریدنے لگا اور کہنے لگا: اس کے دانت کتنے خوبصورت تھے! تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے ضرور ناگوار بات بتاؤں گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اس منہ کی اسی جگہ کو بوسہ دیتے تھے جہاں تیری چھڑی لگ رہی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2865]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 125، حدیث 2878»
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْكُوفِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ حِينَ أُتِيَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا. فَقُلْتُ: «أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ابن زیاد کے پاس تھا جب حسین کا سر لایا گیا، تو وہ چھڑی سے اس کی ناک کو کریدنے لگا اور کہنے لگا: میں نے اس جیسا خوبصورت نہیں دیکھا۔ تو میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والوں میں سے تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 125، حدیث 2879»
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: «مَنْ أَحَبَّنَا لِلدُّنْيَا فَإِنَّ صَاحِبَ الدُّنْيَا يُحِبُّهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، وَمَنْ أَحَبَّنَا لِلَّهِ كُنَّا نَحْنُ وَهُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَاتَيْنِ» . وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص دنیا کے لیے ہم سے محبت رکھے تو دنیا والے سے تو نیک و بد سب محبت رکھتے ہیں، اور جو ہم سے اللہ کے لیے محبت رکھے تو ہم اور وہ قیامت کے دن ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے“ — اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2867]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 125، حدیث 2880»
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَمُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّونَ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حُرُمَاتٍ ثَلَاثٍ، مَنْ حَفِظَهُنَّ حَفِظَ اللهُ لَهُ أَمْرَ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْهُنَّ لَمْ يَحْفَظِ اللهُ لَهُ شَيْئًا: حُرْمَةَ الْإِسْلَامِ، وَحُرْمَتي، وَحُرْمَةَ رَحِمِي"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کی تین حرمتیں ہیں، جو انہیں محفوظ رکھے اللہ اس کے دین و دنیا کے معاملات کو محفوظ رکھتا ہے، اور جو انہیں محفوظ نہ رکھے اللہ اس کی کوئی چیز محفوظ نہیں رکھتا: اسلام کی حرمت، میری حرمت، اور میرے قرابت داروں کی حرمت۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 126، حدیث 2881»
حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «قَدْ أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْكَوْثَرُ؟ قَالَ: «نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ، عَرْضُهُ وَطُولُهُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، وَلَا يَشْرَبُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَظْمَأُ، وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَشْعَثُ، لَا يَشْرَبُهُ إِنْسَانٌ خَفَرَ ذِمَّتِي، وَلَا قَتَلَ أَهْلَ بَيْتِي»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کوثر عطا کیا گیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوثر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک نہر ہے، اس کی چوڑائی اور لمبائی مشرق و مغرب کے درمیان کی مسافت کے برابر ہے، جو اس سے پی لے وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا، اور جو اس سے وضو کرے وہ کبھی پراگندہ حال نہیں ہوگا۔ اسے وہ شخص کبھی نہیں پیے گا جس نے میرے عہد کو توڑا ہو، یا میرے اہل بیت کو قتل کیا ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 126، حدیث 2882»
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ، وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ: الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللهِ، وَالْمُسْتَحِلُّ مَحَارِمَ اللهِ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللهُ، وَالتَّارِكُ لِلسُّنَّةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ لوگ ہیں جن پر میں نے لعنت کی ہے، اور ہر نبی کی دعا قبول کی جاتی ہے: اللہ عزوجل کی کتاب میں زیادتی کرنے والا، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والا، میرے خاندان کی ان چیزوں کو حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ نے حرام کیا، اور سنت کو چھوڑنے والا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 126، حدیث 2883»
حدیث نمبر: 2871
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ. قَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا، يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا»
ابن ابی نعم بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک شخص نے ان سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: تم کہاں سے ہو؟ اس نے کہا: اہل عراق میں سے۔ انہوں نے فرمایا: اسے دیکھو! یہ شخص مجھ سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھ رہا ہے، حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کر دیا! اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”یہ دونوں (حسن اور حسین) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 127، حدیث 2884»