المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. من اسمه أبو رائطة أبو رائطة بن كرامة المذحجي
جن کا نام ابورائطہ ہے — سیدنا ابورائطہ بن کرامہ مذحجی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19144
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ النَّحْوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ الْيَحْصِبِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي رَائِطَةَ بْنِ كَرَامَةَ الْمَذْحِجِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «الْقَوْمُ سَفْرَى، لَا يَصْحَبَنَّكُمْ خِلَالٌ مِنْ هَذِهِ النَّعَمِ، يَعْنِي الضَّوَالَّ، وَلَا يَصْحَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ ضَالَّةً وَلَا يَرُدَّنَّ سَائِلًا، إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ مِنَ النَّاسِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ سَاحِرٌ وَلَا سَاحِرَةٌ وَلَا كَاهِنٌ وَلَا كَاهِنَةٌ وَلَا مُنَجِّمٌ وَلَا مُنَجَّمَةٌ وَلَا شَاعِرٌ وَلَا شَاعِرَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ عَذَابٍ يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُعَذِّبَ بِهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِنَّمَا يَبْعَثُ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَأَنْهَاكُمْ عَنْ مَعْصِيَةِ اللهِ عِشَاءً»
سیدنا ابورائطہ بن کرامہ مذحجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قوم مسافر ہے، ان جانوروں میں سے کوئی بھٹکا ہوا جانور تمہارے ساتھ نہ ہو، یعنی گم شدہ جانور، اور تم میں سے کوئی کسی گم شدہ جانور کے ساتھ نہ جائے، اور کسی مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ، اگر تم فائدہ اور سلامتی چاہتے ہو۔ اور اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو تمہارے ساتھ لوگوں میں سے کوئی جادوگر مرد ہو نہ جادوگر عورت، نہ کوئی کاہن ہو نہ کاہنہ، نہ کوئی نجومی مرد ہو نہ نجومی عورت، نہ کوئی شاعر مرد ہو نہ شاعرہ۔ اور جو عذاب بھی اللہ اپنے کسی بندے کو دینا چاہتا ہے وہ اسے آسمانِ دنیا کی طرف بھیج دیتا ہے، تو میں تمہیں رات کے وقت اللہ کی نافرمانی سے منع کرتا ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19144]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 376، حدیث 941»
97. من يكنى أبا الحجاج أبو الحجاج الثمالي
جن کی کنیت ابوالحجاج ہے — سیدنا ابوالحجاج ثمالی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19145
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الثُّمَالِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ الْقَبْرُ لِلْمَيِّتِ حِينَ يُوضَعُ فِيهِ: وَيْحَكَ ابْنَ آدَمَ، مَا غَرَّكَ بِي؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْفِتْنَةِ وَبَيْتُ الظُّلْمَةِ وَبَيْتُ الْوَحْدَةِ وَبَيْتُ الدُّودِ؟ مَا غَرَّكَ بِي إِذَا كُنْتَ تَمُرُّ بِي فَدَّادًا؟ فَإِنْ كَانَ مُصْلِحًا أَجَابَ عَنْهُ مُجِيبُ الْقَبْرِ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مِمَّنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ الْقَبْرُ: إِذَنْ أَعُودُ إِلَيْهِ خَضْرَاءَ وَيَعُودُ جَسَدُهُ نُورًا وَيَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْحَجَّاجِ وَمَا الْفَدَّادُ؟ قَالَ: الَّذِي يُقْدِمُ رَجُلًا وَيُؤَخِّرُ أُخْرَى كَمِشْيَتِكَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْيَانًا، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَلْبَسُ وَيَتَهَيَّأُ"
سیدنا ابوالحجاج ثمالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبر مردے کو، جب اسے اس میں رکھا جاتا ہے، کہتی ہے: اے ابن آدم! تجھ پر افسوس، تجھے مجھ پر کس چیز نے دھوکے میں ڈالا؟ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں فتنے کا گھر ہوں، تاریکی کا گھر ہوں، تنہائی کا گھر ہوں اور کیڑوں کا گھر ہوں؟ تجھے مجھ پر کس چیز نے دھوکے میں ڈالا جبکہ تُو اکڑ کر میرے پاس سے گزرتا تھا؟ پھر اگر وہ نیک تھا تو قبر کی طرف سے جواب دینے والا اس کی طرف سے جواب دیتا ہے اور کہتا ہے: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والوں میں سے تھا؟ تو قبر کہتی ہے: تب تو میں اس کے لیے سرسبز ہو جاتی ہوں، اس کا جسم نور بن جاتا ہے اور اس کی روح رب العالمین کی طرف چڑھ جاتی ہے۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: اے ابوالحجاج! فدّاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص جو ایک قدم آگے رکھتا اور دوسرا پیچھے رکھتا ہے، جیسے تم بھی اے بھتیجے! کبھی کبھار چلتے ہو، اور وہ اس وقت (خوب) لباس پہنتا اور بناؤ سنگھار کرتا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19145]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 377، حدیث 942»
98. من يكنى أبا عبيد أبو عبيد مولى رفاعة بن رافع
جن کی کنیت ابوعبید ہے — سیدنا ابوعبید، رفاعہ بن رافع کے آزاد کردہ غلام، رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19146
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَلْعُونٌ مَنْ سَأَلَ بِوَجْهِ اللهِ، وَمَلْعُونٌ مَنْ سُئِلَ بِوَجْهِ اللهِ فَمَنَعَ سَائِلَهُ»
سیدنا ابوعبید رضی اللہ عنہ، جو رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملعون ہے وہ شخص جو اللہ کے چہرے کا واسطہ دے کر سوال کرے، اور ملعون ہے وہ شخص جس سے اللہ کے چہرے کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے اور وہ مانگنے والے کو محروم کر دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19146]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 377، حدیث 943»
99. من يكنى أبا نحيلة أبو نحيلة
جن کی کنیت ابونحیلہ ہے — سیدنا ابونحیلہ رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19147
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُحَيْلَةَ، رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رُمِيَ بِسَهْمٍ فَقِيلَ لَهُ انْزِعْهُ فَقَالَ: «اللهُمَّ انْقُصْ مِنَ الْوَجَعِ، وَلَا تَنْقُصْ مِنَ الْأَجْرِ» فَقِيلَ لَهُ: ادْعُ فَقَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَاجْعَلْ أُمِّي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ»
سیدنا ابونحیلہ رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، سے روایت ہے کہ انہیں تیر لگا، تو ان سے کہا گیا: اسے نکال لو۔ تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ! درد کم کر دے، لیکن اجر میں کمی نہ کر۔“ ان سے کہا گیا: دعا کرو۔ تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ! مجھے مقربین میں سے بنا، اور میری ماں کو حورعین میں سے بنا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19147]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 378، حدیث 944»
100. من يكنى أبا عطية أبو عطية
جن کی کنیت ابوعطیہ ہے — سیدنا ابوعطیہ رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19148
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى عَمِلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْخَيْرِ» فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ حَرَسْتُ مَعَهُ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ فَلَمَّا أُدْخِلَ الْقَبْرَ حَثَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ مِنَ التُّرَابِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أَصْحَابَكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «لَا تَسَلْ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ وَلَكِنْ سَلْ عَنِ الْفِطْرَةِ»
سیدنا ابوعطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور بیان کیا کہ ایک آدمی فوت ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے اسے کوئی نیک عمل کرتے دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں نے ایک رات اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں پہرہ دیا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی کھڑے ہوئے، جب اسے قبر میں اتارا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مٹی ڈالی، پھر فرمایا: ”تمہارے ساتھی گمان کرتے ہیں کہ تم جہنمیوں میں سے ہو، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جنتیوں میں سے ہو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لوگوں کے اعمال کے بارے میں مت پوچھو، بلکہ فطرت کے بارے میں پوچھو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19148]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 378، حدیث 945»
101. أخو خزيمة بن ثابت له صحبة
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بھائی - جو صحابی ہیں
حدیث نمبر: 19149
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَتَقَدَّمَهُ لِيُعْطِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ وَيُسَاوِمُونَهُ بِالْفَرَسِ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمِ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ وَإِلَّا بِعْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ: «أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتَهُ؟» قَالَ: لَا وَاللهِ مَا بَايَعْنَاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَى، قَدِ ابْتَعْتَهُ» فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ، فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: وَيْلَكَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَقُلْ إِلَّا حَقًّا حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ فَاسْتَمَعَ لِمُرَاجَعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُرَاجَعَةِ الْأَعْرَابِيِّ، فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا إِنِّي بِعْتُكَ فَقَالَ خُزَيْمَةُ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بِعْتَهُ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: «بِمَ تَشْهَدُ؟» قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ
عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے چچا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، نے انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کے گھوڑے کی قیمت دینے کے لیے اس سے آگے چلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے لگے اور اعرابی پیچھے رہ گیا، تو کچھ لوگ اعرابی سے ملنے لگے اور اس سے گھوڑے کا بھاؤ کرنے لگے، انہیں معلوم نہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرید چکے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اعرابی کو اس قیمت سے زیادہ بولی دی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑا خریدا تھا، تو اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا: اگر تم نے یہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو، ورنہ میں اسے بیچ دیتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعرابی کی پکار سنی تو فرمایا: ”کیا تم نے اسے خرید نہیں لیا؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، ہم نے آپ سے سودا نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم نے اسے خرید لیا ہے۔“ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کے گرد جمع ہونے لگے جبکہ وہ دونوں تکرار کر رہے تھے، اعرابی کہنے لگا: کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے تمہیں بیچا تھا۔ جو مسلمان بھی آتا وہ اعرابی سے کہتا: تجھ پر افسوس! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حق کے سوا کچھ نہیں فرماتے۔ یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کی تکرار سنی، اعرابی کہنے لگا: کوئی گواہ لاؤ کہ میں نے تمہیں بیچا تھا۔ تو سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اسے بیچا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم کس بنیاد پر گواہی دے رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تصدیق کی بنیاد پر۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19149]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 379، حدیث 946»
102. أبو أبي الخريف
سیدنا ابوابی خریف رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19150
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ السُّوَايِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْخَرِيفِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَا وَأَخِي، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ يُصَلِّي وَقَدْ صَلَّيْنَا الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ فَلَمْ نُصَلِّ مَعَهُمْ فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» قُلْنَا: قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّ مَعَهُمْ فَتَكُونُ صَلَاتُهُ فِي بَيْتِهِ نَافِلَةً»
ابن ابی الخریف اپنے والد سے، وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں اور میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد خیف میں نماز پڑھا رہے تھے، اور ہم اپنی فرض نماز گھر میں پڑھ چکے تھے، اس لیے ہم نے ان کے ساتھ نماز نہ پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کو ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ ہم نے عرض کیا: ہم اپنی فرض نماز گھر میں پڑھ چکے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنی فرض نماز گھر میں پڑھ لے، پھر وہ جماعت پا لے، تو وہ ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے، اس کی گھر کی نماز نفل شمار ہوگی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19150]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 380، حدیث 947»
103. من يكنى أبا هلال أبو هلال التيمي
جن کی کنیت ابوہلال ہے — سیدنا ابوہلال تیمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19151
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ووَرْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ قَالَا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ هِلَالٍ، مِنْ بَنِي تَيْمِ اللهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَ مُهَاجَرِهِ إِلَيْهَا، فَوَافَيْنَاهُ يَضْرِبُ أَعْنَاقَ أُسَارَى عَلَى مَاءٍ قَلِيلٍ فَقُتِلَ عَلَيْهِ حَتَّى سَفَحَ الدَّمُ الْمَاءَ قَالَ صَفْوَانُ: سَفَحَ، يَعْنِي غَطَّى الْمَاءَ،
سیدنا ابوہلال تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کے ایک آدمی کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہجرت کے بعد مدینہ میں تھے، تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تھوڑے سے پانی کے پاس قیدیوں کی گردنیں اڑا رہے تھے، چنانچہ اسے وہیں قتل کر دیا گیا یہاں تک کہ خون پانی پر پھیل گیا۔ (راوی) صفوان کہتے ہیں: ”سفح“ کا مطلب ہے کہ اس نے پانی کو ڈھانپ دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19151]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 380، حدیث 948»
104. من يكنى أبا وهب أبو وهب الجشمي
جن کی کنیت ابووہب ہے — سیدنا ابووہب جشمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19152
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ، لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَمُّوا بِاسْمِ الْأَنْبِيَاءِ، أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللهِ عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةَ، وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا، أَوْ قَالَ وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ، وَعَلَيْكُمْ بِكُلٍّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ»
سیدنا ابووہب جشمی رضی اللہ عنہ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کے ناموں پر اپنے نام رکھو، اللہ کو سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، سب سے سچے نام حارث اور ہمام ہیں، اور سب سے برے نام حرب اور مرہ ہیں۔ اور گھوڑے پالو اور ان کی پیشانیوں اور سرینوں پر ہاتھ پھیرو، یا فرمایا: ان کی دموں کے قریب کے حصے پر، اور انہیں ہار پہناؤ لیکن انہیں کمانوں کی تانتیں مت پہناؤ۔ اور تم پر لازم ہے کہ سرخی مائل سیاہ، پیشانی اور ٹخنوں پر سفیدی والا گھوڑا رکھو، یا سرخ، پیشانی اور ٹخنوں پر سفیدی والا، یا سیاہ، پیشانی اور ٹخنوں پر سفیدی والا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19152]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 380، حدیث 949»
105. من يكنى أبا سود أبو سود التميمي
جن کی کنیت ابوسود ہے — سیدنا ابوسود تمیمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، وَحِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي سُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْيَمِينُ الَّتِي يَقْتَطِعُ بِهَا الرَّجُلُ مَالَ أَخِيهِ لِتَعْقُمَ الرَّحِمُ»
سیدنا ابوسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ قسم جس کے ذریعے کوئی آدمی اپنے بھائی کا مال ہتھیا لے، اس کی وجہ سے رحم (صلہ رحمی) بانجھ ہو جاتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19153]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 381، حدیث 950»