المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
88. من يكنى أبا زيد، أبو زيد الجرمي
جن کی کنیت ابوزید ہے — سیدنا ابوزید جرمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زَيْدٍ الْجَرْمِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ»
سیدنا ابوزید جرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماں باپ کا نافرمان، احسان جتانے والا اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19134]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 372، حدیث 931»
89. من يكنى أبا شهم أبو شهم غير منسوب
جن کی کنیت ابوشہم ہے — سیدنا ابوشہم رضی اللہ عنہ، جن کا نسب معلوم نہیں
حدیث نمبر: 19135
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ومَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ قَالُوا: ثنا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ بَيَانَ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي شَهْمٍ، وَكَانَ، رَجُلًا بَطَّالًا قَالَ: رَأَيْتُ جَارِيَةً تَمْشِي فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ تُوكَأُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى خَاصِرَتِهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَهُ فَبَسَطْتُ يَدِي قُلْتُ: بَايِعْنِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «أَنْتَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ أَمْسِ، أَمَا إِنَّكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ أَمْسِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْنِي فَوَاللهِ لَا أَعُودُ أَبَدًا قَالَ: «فَنِعْمَ إِذًا»
سیدنا ابو شہم رضی اللہ عنہ، جو ایک آوارہ شخص تھے، کہتے ہیں: میں نے ایک لونڈی کو مدینہ کی کسی گلی میں چلتے دیکھا، وہ سہارا لے کر چل رہی تھی، تو میں نے اپنا ہاتھ اس کی کمر کی طرف بڑھا دیا۔ جب اگلا دن ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر رہے تھے، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے بیعت لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی ہو جس نے کل جُبَیذہ (چھیڑ چھاڑ) کا کام کیا، سن لو، تم کل جُبَیذہ والے ہو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے بیعت لیجیے، اللہ کی قسم میں کبھی دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ٹھیک ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19135]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 372، حدیث 932»
حدیث نمبر: 19136
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: ثنا أسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانَ، عَنْ قَيْسِ بَنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي شَهْمٍ قَالَ: كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَمَرَّتْ بِي امْرَأَةٌ فَأَخَذْتُ بِكَشْحِهَا وَأَسْمَعُ الرَّسُولَ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُبَايِعُ النَّاسَ فَأَتَيْتُهُ فَلَمْ يُبَايِعْنِي وَقَالَ: «صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ بِالْأَمْسِ» فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَعُودُ يَا رَسُولَ اللهِ فَبَايَعَنِي
سیدنا ابوشہم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تھا کہ ایک عورت میرے پاس سے گزری، تو میں نے اس کی کمر پکڑ لی، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے بیعت لیتے سن رہا تھا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت نہ لی اور فرمایا: ”کل جُبَیذہ کرنے والے!“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت لے لی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19136]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 373، حدیث 933»
90. من يكنى أبا سلام أبو سلام السلمي
جن کی کنیت ابوسلام ہے — سیدنا ابوسلام سلمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19137
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا حُكَّامُ بْنُ سَلْمٍ قَالَا: ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ يَمْلِكُونَ رِقَابَكُمْ وَيُحَدِّثُونَكُمْ فَيَكْذِبُوا لَكُمْ وَيَعْمَلُونَ فَيُسِيئُونَ لَا يَرْضَوْنَ مِنْكُمْ حَتَّى تُحَسِّنُوا قَبِيحَهُمْ وَتُصَدِّقُوا كَذِبَهُمْ فَأَعْطُوهُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوا بِهِ»
سیدنا ابوسلام سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو تمہاری گردنوں کے مالک ہوں گے، وہ تم سے باتیں کریں گے اور تمہارے لیے جھوٹ بولیں گے، اور جو کام کریں گے وہ برا کریں گے، وہ تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی برائی کو اچھا نہ کہو اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرو، تو انہیں حق دیتے رہو جب تک وہ اس پر راضی رہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19137]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 373، حدیث 934»
91. من يكنى أبا ليلى أبو ليلى الأشعري
جن کی کنیت ابولیلیٰ ہے — سیدنا ابولیلیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19138
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّمَادِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْعَنْسِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الدَّيِّنِ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْأَشْعَرِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَمَسَّكُوا بِطَاعَةِ أَئِمَّتِكُمْ وَلَا تُخَالِفُوهُمْ، فَإِنَّ طَاعَتَهُمْ طَاعَةَ اللهِ، وَإِنَّ مَعْصِيتَهُمْ مَعْصِيَةُ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ إِنَّمَا بَعَثَنِي أَدْعُو إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، فَمَنْ خَلَفَنِي فِي ذَاكَ فَهُوَ وَلِيِّي، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِكُمْ شَيْئًا فَعَمِلَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَسَيَلِيكُمْ أُمَرَاءُ إِنِ اسْتُرْحِمُوا لَمْ يَرْحَمُوا، وَإِنْ سُئِلُوا الْحُقُوقَ لَمْ يُعْطُوا، وَإِنْ أُمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ أَنْكَرُوا وَسَتُجَافُونَهُمْ وَيَتَفَرَّقُ مَلَأُكُمْ حَتَّى لَا يَحْمُلُوكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا احْتَمَلْتُمْ عَلَيْهِ طَوْعًا أَوْ كَرْهًا فَأَدْنَى الْحَقِّ لَكُمْ أَنْ لَا تَأْخُذُوا لَهُمْ عَطَاءً وَلَا تَحْضُرُوا لَهُمْ فِي الْمَلَأِ»
سیدنا ابولیلیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حکمرانوں کی اطاعت کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور ان کی مخالفت نہ کرو، کیونکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے، اور اللہ نے مجھے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ میں حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اس کے راستے کی طرف بلاؤں، تو جو شخص اس میں میرا جانشین ہو وہ میرا دوست ہے، اور جو شخص تمہارے کسی معاملے کا ذمہ دار ہو اور اس کے خلاف عمل کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ اگر ان سے رحم مانگا جائے تو رحم نہیں کریں گے، اگر ان سے حقوق مانگے جائیں تو نہیں دیں گے، اور اگر انہیں نیکی کا حکم دیا جائے تو انکار کریں گے، تو تم ان سے دور رہو گے اور تمہاری جماعت بکھر جائے گی، یہاں تک کہ وہ تم پر جو کچھ بھی مسلط کریں گے تم اسے خوشی سے یا ناخوشی سے برداشت کرو گے۔ تو تمہارے لیے سب سے کم درجے کا حق یہ ہے کہ نہ تم ان کی طرف سے عطیہ لو اور نہ ان کے ساتھ مجلس میں حاضر ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19138]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 373، حدیث 935»
حدیث نمبر: 19139
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَيُّوبَ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ الرَّقِّيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَمَسَّكُوا بِطَاعَةِ أَئِمَّتِكُمْ وَلَا تُخَالِفُوهُمْ فَإِنَّ طَاعَتَهُمْ طَاعَةُ اللهِ، وَإِنَّ مَعْصِيتَهُمْ مَعْصِيَةُ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ بَعَثَنِي أَدْعُو إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، فَمَنْ خَلَفَنِي فِي ذَلِكَ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ»
سیدنا ابولیلیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حکمرانوں کی اطاعت کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور ان کی مخالفت نہ کرو، کیونکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے، بے شک اللہ نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اس کے راستے کی طرف بلاؤں، تو جو شخص اس میں میرا جانشین ہو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19139]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 374، حدیث 936»
92. من يكنى أبا جابر أبو جابر الصدفي
جن کی کنیت ابوجابر ہے — سیدنا ابوجابر صدفی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19140
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ النَّحْوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْكِنْدِيِّ، مَوْلَى جَرِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ جَابِرٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي خُلَفَاءُ، وَمِنْ بَعْدِ الْخُلَفَاءِ أُمَرَاءُ، وَمِنْ بَعْدِ الْأُمَرَاءِ مُلُوكٌ، وَمِنْ بَعْدِ الْمُلُوكِ جَبَابِرَةٌ، ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا، ثُمَّ يُؤَمَّرُ الْقَحْطَانِيُّ، فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا هُوَ دُونَهُ»
سیدنا ابوجابر صدفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد خلفاء ہوں گے، خلفاء کے بعد امراء ہوں گے، امراء کے بعد بادشاہ ہوں گے، بادشاہوں کے بعد جابر و ظالم حکمران ہوں گے، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص نکلے گا جو زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی، پھر قحطانی شخص حکمران بنایا جائے گا، اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، وہ اس سے کم نہیں ہوگا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19140]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 374، حدیث 937»
93. من يكنى أبا العلاء، أبو العلاء الأنصاري
جن کی کنیت ابوالعلاء ہے — سیدنا ابوالعلاء انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19141
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَيْنِ»
سیدنا ابوالعلاء انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو زرہیں پہنے دیکھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19141]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 375، حدیث 938»
94. من يكنى أبا جنيدة أبو جنيدة الفهري
جن کی کنیت ابوجنیدہ ہے — سیدنا ابوجنیدہ فہری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19142
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي جُنَيْدَةَ الْفِهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَقَى عَطْشَانَ فَأَرْوَاهُ فُتِحَ لَهُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلْ مِنْهُ، وَمَنْ أَطْعَمَ جَائِعًا فَأَشْبَعَهُ وَسَقَى عَطْشَانَ فَأَرْوَاهُ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلُّهَا فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلْ مِنْ أَيُّهَا شِئْتَ"
ابوجنیدہ فہری اپنے والد سے، وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی پیاسے کو پانی پلا کر سیراب کرے، اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: اسی سے داخل ہو جاؤ، اور جو شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلا کر سیر کرے اور کسی پیاسے کو پانی پلا کر سیراب کرے، تو اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے: جس سے چاہو داخل ہو جاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19142]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 375، حدیث 939»
95. أبو أبي مسمع الحجبي
سیدنا ابوابی مسمع حجبی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْأَخْضَرِ الْعِجْلِيُّ الرَّامُ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنَ الْحَجَبَةِ يُقَالُ لَهُ مِسْمَعٌ، وَرَآنِي أُصَلِّي خَلْفَ الْإِسْطُوانَةِ الْوُسْطَى مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَنَّهُ: «رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي خَلْفَهَا رَكْعَتَيْنِ»
العلاء بن اخضر عجلی بیان کرتے ہیں کہ بیت اللہ کے خادموں میں سے ایک بزرگ، جنہیں مسمع کہا جاتا تھا، نے مجھے کعبہ کے درمیانی ستون کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا، تو انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے میرے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ستون کے پیچھے دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19143]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 376، حدیث 940»