🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
115. من يكنى أبا عقيل أبو عقيل البديلي
جن کی کنیت ابوعقیل ہے — سیدنا ابوعقیل بدیلی رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19164
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ أَسَدٍ، مِنْ رَهْطٍ كَنَّازِ بْنِ حِصْنِ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: ثنا أَبُو هَرِمٍ هَاشِمُ بْنُ عَيَّاشٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْبُدَيْلِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ وَسَقَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرْبَةَ سَوِيقٍ شَرِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهَا وَشَرِبْتُ آخِرَهَا، فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَلَّتَهَا عَلَى فُؤَادِي إِذَا ظَمِئْتُ وَبَرْدَهَا إِذَا ضَحِيتُ»
سیدنا ابوعقیل بدیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ستو کا ایک گھونٹ پلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پہلا حصہ پیا اور میں نے آخری حصہ پیا، تو میں ہمیشہ اس کی تری اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں جب مجھے پیاس لگتی ہے، اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرتا ہوں جب مجھے دھوپ لگتی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19164]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 386، حدیث 961»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
116. من يكنى أبا ثابت أبو ثابت الأنصاري جد عدي بن ثابت
جن کی کنیت ابوثابت ہے — سیدنا ابوثابت انصاری رضی اللہ عنہ، عدی بن ثابت کے دادا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19165
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ قَالُوا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، ثُمَّ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ»
سیدنا ابوثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استحاضہ والی عورت اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر کے نماز پڑھے، اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19165]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 386، حدیث 962»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19166
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، قَالَ: «الْعُطَاسُ وَالنِّفَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالرُّعَافُ وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ»
سیدنا ابوثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نماز میں چھینک، نفاس، اونگھ، نکسیر، حیض، قے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19166]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 387، حدیث 963»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19167
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَّوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ»
سیدنا ابوثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19167]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 387، حدیث 964»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
117. من يكنى أبا عمر أبو عمر الأنصاري
جن کی کنیت ابوعمر ہے — سیدنا ابوعمر انصاری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19168
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ شَيْخٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا كَانَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ»
سیدنا ابوعمر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اس کا ثواب اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19168]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 387، حدیث 965»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا ابوعمر انصاری رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19169]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 387، حدیث 966»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
118. أبو مسعود الغفاري
سیدنا ابومسعود غفاری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سُورَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أهَلَّ شَهْرُ رَمَضَانَ: «لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَتَمَنَّى الْعِبَادُ أَنْ يَكُونَ شَهْرُ رَمَضَانَ سَنَةً» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْجَنَّةَ تَزَيَّنُ لِشَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقَ شَجَرِ الْجَنَّةِ فَنَظَرَ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَقُلْنَ: يَا رَبِّ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ وَتَقِرُّ أَعْيُنَهُمْ بِنَا، وَمَا مِنْ عَبْدٍ صَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِلَّا زَوَّجَهُ اللهُ زَوْجَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ الْمَقْصُورَاتِ فِي الْخِيَامِ عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونُ حُلَّةً لَيْسَ مِنْهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى وَيُعْطَى سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ لَيْسَ مِنْهُ لَوْنٌ يُشْبِهُ الْآخَرَ، وَكُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتٍ مُوَشَّحٌ بِالدُّرَرِ عَلَى سَبْعِينَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَفَوْقَ السَّبْعِينَ فِرَاشًا سَبْعُونَ أَرِيكَةً، وَلِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ وُصَفَاءَ يَخْدِمْنَهَا وَسَبْعِينَ وُصَفَاءَ لِلُقِيِّهَا وَوُجَهَاءَ مَعَ كُلِّ وَصِيفٍ صَحْفَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا لَوْنٌ مِنَ الطَّعَامِ يَجِدُ لِآخِرِهِ مِنَ اللَّذَّةِ مِثْلَ الَّذِي يَجِدُ لِأَوَّلِهِ، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٌ بِالْيَاقُوتِ الْأَحْمَرِ هَذَا لِكُلِّ يَوْمٍ صَامَهُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ"
سیدنا ابومسعود غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن، جب ماہ رمضان کا چاند نظر آ چکا تھا، یہ فرماتے سنا: ”اگر بندوں کو معلوم ہو جائے کہ رمضان کے مہینے میں کیا فضیلت ہے تو وہ تمنا کریں کہ پورا سال رمضان ہی بن جائے۔“ تو خزاعہ کے ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت رمضان کے مہینے کے لیے سال کے آغاز سے سال کے آغاز تک سجائی جاتی ہے، یہاں تک کہ جب پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے، جو جنت کے درختوں کے پتوں کو ہلا دیتی ہے، تو حورعین اسے دیکھ کر کہتی ہیں: اے ہمارے رب! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے لیے ایسے شوہر مقرر فرما جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔ اور جو بندہ بھی رمضان کے مہینے کا روزہ رکھے، اللہ اسے ہر دن حورعین میں سے ایک بیوی سے نکاح کرا دیتا ہے، جو خیموں میں پردہ نشین ہوتی ہیں، ان میں سے ہر عورت کے لیے ستر جوڑے ہوتے ہیں جن میں سے کوئی جوڑا دوسرے جیسے رنگ کا نہیں ہوتا، اور اسے خوشبو کی ستر اقسام دی جاتی ہیں جن میں سے کوئی قسم دوسری سے ملتی جلتی نہیں ہوتی۔ ان میں سے ہر عورت یاقوت کے تخت پر، جو موتیوں سے مزین ہوتا ہے، ستر بستروں پر بیٹھی ہوتی ہے جن کے استر ریشم کے ہوتے ہیں، اور ان ستر بستروں کے اوپر ستر مسندیں ہوتی ہیں۔ ہر عورت کی خدمت کے لیے ستر خادمائیں ہوتی ہیں اور اس کے استقبال کے لیے ستر باعزت خادمائیں ہوتی ہیں، ہر خادمہ کے ساتھ سونے کی ایک رکابی ہوتی ہے جس میں ایک قسم کا کھانا ہوتا ہے، جس کا آخری لقمہ بھی اتنا ہی لذیذ محسوس ہوتا ہے جتنا پہلا لقمہ تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی اسی طرح دیا جاتا ہے، وہ سرخ یاقوت کے تخت پر ہوگا جس پر سونے کے دو کنگن ہوں گے، جو سرخ یاقوت سے مزین ہوں گے۔ یہ ہر اس دن کے بدلے میں ہے جس میں اس نے رمضان کا روزہ رکھا، ان نیکیوں کے علاوہ جو اس نے عمل کی ہوں گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19170]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 388، حدیث 967»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
119. من يكنى أبا جبيرة أبو جبيرة بن الضحاك الأنصاري ثم السلمي وقد قيل الضحاك بن أبي جبيرة والصواب أبو جبيرة
جن کی کنیت ابوجبیرہ ہے — سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک انصاری سلمی رضی اللہ عنہ (کہا گیا: ضحاک بن ابی جبیرہ، صحیح ابوجبیرہ ہے)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19171
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ: فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، يَعْنِي بَنِي سَلَمَةَ، قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَمَا مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَكَانَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ بِالِاسْمِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَكْرَهُ هَذَا، فَنَزَلَتْ:" {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ١١] الْآيَةُ"
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت ہمارے (بنو سلمہ کے) بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر آدمی کے دو یا تین نام تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے: یا رسول اللہ! یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو“ [سورۃ الحجرات: 11] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19171]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 389، حدیث 968»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19172
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ١١] قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرَّجُلُ لَهُ الِاسْمَانِ وَالثَّلَاثَةُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا دَعَاهُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ فَيُقَالُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذِهِ" فَنَزَلَتْ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ١١] "
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم انصار کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو“ [سورۃ الحجرات: 11] ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہر آدمی کے دو یا تین نام ہوتے تھے، کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی نام سے پکار دیتے تو کہا جاتا: یا رسول اللہ! وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19172]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 390، حدیث 969»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ:" كَانَ الْأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ وَيَعْطُونَ مَا شَاءَ اللهُ فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ فَأَمْسَكُوا، فَأَنْزَلَ اللهُ {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: ١٩٥] "
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار صدقہ کرتے اور جتنا اللہ چاہتا دیتے رہے، پھر ان پر ایک قحط سال آیا تو انہوں نے صدقہ دینا روک دیا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو“ [سورۃ البقرہ: 195] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19173]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 390، حدیث 970»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں