المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. من يكنى أبا إسلام أبو سلام خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم
جن کی کنیت ابواسلام ہے — سیدنا ابوسلام، رسول اللہ ﷺ کے خادم، رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19124
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مِسْعَرٌ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ سَابِقٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ خَادِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ أَوْ إِنْسَانٍ أَوْ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دَيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
سیدنا ابوسلام رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ، یا انسان، یا مسلمان شام کے وقت اور صبح کے وقت یہ کہے: میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں، تو اللہ پر یہ حق ہو جاتا ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19124]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 367، حدیث 921»
82. من يكنى أبا خيرة أبو خيرة الصباحي
جن کی کنیت ابوخیرہ ہے — سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَابَهْرَامَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللهِ بْنُ هِشَامِ بْنِ حَسَّانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، قَالَ: ثنا أَبِي خَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَيْرَةَ قَالَ: كَانَتْ لِي إِبِلٌ أَحْمِلُ عَلَيْهَا فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَشَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، أَوْ قَالَ: حُنَيْنًا وَكُنَّا نَحْمِلُ لَهُ الْمَاءَ عَلَى إِبِلِنَا، وَكَانَتْ لِي بِالْمَدِينَةِ تِجَارَةٌ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ وَدَعَا لِوَالِدِي"
سیدنا ابوخیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس اونٹ تھے جن پر میں سامان لادتا تھا، تو میں مدینہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں شریک ہوا، یا کہا: حنین میں، اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے اونٹوں پر پانی لادتے تھے۔ میرا مدینہ میں تجارت کا کام بھی تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس میں) برکت کی دعا کی اور میرے والد کے لیے بھی دعا فرمائی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19125]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 368، حدیث 922»
حدیث نمبر: 19126
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقَيْسِيُّ، ثنا دَاوُدَ بْنِ الْمُسَاوِرِ، ثنا مُقَاتِلُ بْنُ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي خَيْرَةَ الصَّبَّاحِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنَّا أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَنَهَانَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ لَنَا بِأَرَاكٍ فَقَالَ: «اسْتَاكُوا بِهَذَا» ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدَنَا الْعُشْبَ وَنَحْنُ نَجْتَزِئُ بِهِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ كَارِهِينَ»
سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وفد میں شامل تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور ہم چالیس آدمی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کے برتن، لاکھی برتن، لکڑی کے کھوکھلے برتن اور روغنی برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے پیلو کی ٹہنیاں منگوائیں اور فرمایا: ”اس سے مسواک کرو۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس (اپنی) جڑی بوٹی موجود ہے اور ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! عبدالقیس (قبیلے) کو بخش دے، جب انہوں نے خوشی سے، ناپسندیدگی کے بغیر اسلام قبول کیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19126]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 368، حدیث 923»
حدیث نمبر: 19127
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: ثنا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْمُسَاوِرِ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي خَيْرَةَ الصَّبَّاحِيِّ، قَالَ: «كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَزَوَّدَنَا الْأَرَاكَ نَسْتَاكُ بِهِ» ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ «عِنْدَنَا الْجَرِيدُ وَلَكِنَّا نَقْبَلُ كَرَامَتَكَ وَعَطِيَّتَكَ» فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ إِذْ قَعَدَ قَوْمِي لَمْ يُسْلِمُوا إِلَّا خَزَايَا مَوْتُورِينَ»
سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عبدالقیس کے اس وفد میں شامل تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسواک کے لیے پیلو کی ٹہنیاں عنایت فرمائیں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس کھجور کی شاخیں بھی ہیں، لیکن ہم آپ کی عزت افزائی اور عطیہ قبول کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! عبدالقیس کو بخش دے، جب انہوں نے خوشی سے، بغیر مجبوری کے اسلام قبول کیا، جبکہ میری قوم بیٹھی رہی اور ذلیل و رسوا اور شکست خوردہ ہوئے بغیر اسلام نہ لائی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19127]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 368، حدیث 924»
83. من يكنى أبا أروى أبو أروى الدوسي ويقال اسمه ربيعة ويقال عبيد بن الحارث
جن کی کنیت ابواروی ہے — سیدنا ابواروی دوسی رضی اللہ عنہ (کہا گیا: نام ربیعہ تھا، یہ بھی کہا گیا: عبید بن حارث)
حدیث نمبر: 19128
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَرْوَى، قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ آتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ أَمْشِي فَآتِيهَا وَلَمْ تَغِبِ الشَّمْسُ»
سیدنا ابواروی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتا، پھر ذوالحلیفہ کی طرف پیدل جاتا اور وہاں پہنچ جاتا جبکہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا ہوتا تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19128]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 369، حدیث 925»
حدیث نمبر: 19129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُبَيْسِ بْنِ مَرْحُومٍ الْعَطَّارُ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أَرْوَى الدَّوْسِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِهِمَا»
سیدنا ابواروی دوسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نمودار ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ان دونوں کے ذریعے میری مدد فرمائی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19129]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 369، حدیث 926»
84. من يكنى أبا الخطاب أبو الخطاب
جن کی کنیت ابوالخطاب ہے — سیدنا ابوالخطاب رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ:" أُحِبُّ أَنْ أُوتِرَ نِصْفَ اللَّيْلِ؛ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ارْتَفَعَ"
سیدنا ابوالخطاب رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک تھے، سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ آدھی رات کو وتر پڑھوں، بے شک اللہ عزوجل سب سے اوپر کے آسمان سے آسمانِ دنیا کی طرف اترتا ہے، پھر فرماتا ہے: کوئی مانگنے والا ہے؟ کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے؟ کوئی دعا کرنے والا ہے؟ یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ (اوپر) بلند ہو جاتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19130]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 370، حدیث 927»
85. من يكنى أبا شقرة أبو شقرة
جن کی کنیت ابوشقرہ ہے — سیدنا ابوشقرہ رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19131
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي شَقْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّاتِي ألْقَيْنَ عَلَى رَءُوسِهِنَّ مِثْلَ أَسْنِمَةِ الْبَقَرِ فَأَعْلِمُوهُنَّ أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ لَهُنَّ صَلَاةٌ»
سیدنا ابوشقرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان عورتوں کو دیکھو جو اپنے سروں پر (بالوں کو باندھ کر) گائے کے کوہان جیسا جوڑا بنا لیتی ہیں، تو انہیں بتا دو کہ ان کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19131]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 370، حدیث 928»
86. من يكنى أبا عثمان، أبو عثمان الأنصاري
جن کی کنیت ابوعثمان ہے — سیدنا ابوعثمان انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19132
حَدَّثَنَا عَلَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الطَّيَالِسِيُّ مَاغِمَهْ قَالَ: ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: دَقَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَابَ، وَقَدْ أَلْمَمْتُ بِالْمَرْأَةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أخْرُجَ إِلَيْهِ حَتَّى أغْتَسِلُ فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ فَلَحِقْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: «كُنْتَ أَنْزَلْتَ» قُلْتُ: لَا قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْوُضُوءُ»
سیدنا ابوعثمان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا، اور میں اپنی بیوی کے پاس جا چکا تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ غسل کیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نکلوں، اس لیے مجھے دیر ہو گئی، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا انزال ہوا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم پر وضو کے سوا کچھ لازم نہیں تھا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19132]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 371، حدیث 929»
87. من يكنى أبا العريان أبو العريان السلمي
جن کی کنیت ابوالعریان ہے — سیدنا ابوالعریان سلمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19133
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو خَلْدَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ قُلْتُ: أُصَلِّي وَمَا أَدْرِي رَكْعَتَيْنِ صَلَّيْتُ أَوْ أَرْبَعًا، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْعُرْيَانِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا وَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: «لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنَسَ» قَالَ: بَلْ نَسِيتَ الصَّلَاةَ قَالَ: «فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَحْفَظْ مُحَمَّدٌ سَلَّمَ بَعْدُ أَمْ لَا»
سیدنا ابو عریان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی اور گھر میں تشریف لے گئے، اور لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کے ہاتھ لمبے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ذوالیدین کہتے تھے۔ ذوالیدین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ نماز مختصر ہوئی، نہ میں بھولا۔“ اس نے کہا: بلکہ آپ نماز میں بھول گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور انہیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدے کی طرح، یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور اپنا سر اٹھایا، پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدے کی طرح، یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور اپنا سر اٹھایا۔ (راوی) محمد کو یاد نہیں کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سلام پھیرا یا نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19133]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 371، حدیث 930»