🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
36. من يكنى أبا خالد أبو خالد السلمي كان ينزل الحرم
جن کی کنیت ابوخالد ہے — سیدنا ابوخالد سلمی رضی اللہ عنہ، حرم میں مقیم رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19004
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ وَفِي مَالِهِ وَفِي وَلَدِهِ، ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
سیدنا ابوخالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”بندے کے لیے جب اللہ کی طرف سے کوئی ایسا مقام مقرر ہو چکا ہو جس تک وہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتا، تو اللہ اسے اس کے جسم، اس کے مال اور اس کی اولاد میں آزماتا ہے، پھر اسے اس پر صبر کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس مقام کو پہنچ جاتا ہے جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر تھا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19004]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 318، حدیث 801»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19005
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّهُ: خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِهِ فَلَمْ يَنْتَهِ إِلَيْهِ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّهُ شَاكٍ فَقَالَ: أَتَيْتُكَ زَائِرًا وَأَتَيْتُكَ عَائِدًا وَمُبَشِّرًا، قَالَ: كَيْفَ جَمَعْتَ هَذَا كُلَّهُ؟ قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ زِيَارَتَكَ وَبَلَغَنِي شِكَاتُكَ فَكَانَتْ عِيَادَةٌ وَأُبَشِّرُكُ بِشَيْءٍ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ النُّفَيْلِيِّ
سیدنا ابوخالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ اپنے ایک بھائی کی زیارت کے لیے نکلے، ابھی اس تک پہنچے ہی نہیں تھے کہ انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے، تو انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس زیارت کے لیے آیا تھا اور اب عیادت اور خوشخبری دینے کے لیے بھی آیا ہوں۔ اس نے پوچھا: یہ سب کیسے جمع ہو گیا؟ انہوں نے کہا: میں تمہاری زیارت کے ارادے سے نکلا تھا اور مجھے تمہاری بیماری کی خبر پہنچی تو یہ عیادت بھی بن گئی، اور میں تمہیں ایک ایسی بات کی خوشخبری دیتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے - پھر انہوں نے نفیلی کی روایت جیسی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19005]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 318، حدیث 802»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. من يكنى أبا هند أبو هند الداري
جن کی کنیت ابوہند ہے — سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19006
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَلُولٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ مَكْحُولًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ رَاءَى اللهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ»
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص دکھاوے اور شہرت کی خاطر کھڑا ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا اور اس کی حقیقت ظاہر کر دے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19006]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 319، حدیث 803»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19007
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هِنْدٍ الدَّارِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ رَاءَى اللهُ بِهِ وَمَنْ قَامَ مَقَامَ سُمْعَةٍ سَمَّعَ اللهُ بِهِ»
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص دکھاوے کی خاطر کھڑا ہو، اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے گا، اور جو شہرت کی خاطر کھڑا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی حقیقت ظاہر کر دے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19007]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 319، حدیث 804»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19008
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ فَائِدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي زِيَادِ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ أَبِيهِ فَائِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ جَدِّهِ زِيَادِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ رَاءَى بِاللهِ لِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللهِ»
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کے نام پر عمل کر کے غیر اللہ کو دکھایا، وہ اللہ سے بری ہو گیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19008]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 319، حدیث 805»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19009
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُمُ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ سِتَّةُ نَفَرٍ تَمِيمُ بْنُ أَوْسِ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ سَوْدَانَ بْنِ جَذِيمَةَ بْنِ دِرَاعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الدَّارِ، وَأَخُوهُ نُعَيْمُ بْنُ أَوْسٍ، وَيَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ، وَأَبُو هِنْدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَخُوهُ الطِّيبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وفَاكِهُ بْنُ النُّعْمَانِ فَأَسْلَمُوا وَسَأَلُوا أَنْ يُعْطِيَهُمْ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الشَّامِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلُوا حَيْثُ أَحْبَبْتُمْ» ، فَنَهَضُوا مِنْ عِنْدِهِ يَتَشَاوَرُونَ فِي مَوْضِعٍ يَسْأَلُونَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ تَمِيمٌ: أَرَى أَنْ نَسْأَلَهُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ وَكُورَتَهَا، قَالَ أَبُو هِنْدٍ: أَرَأَيْتَ مَلِكَ الْعَجَمِ الْيَوْمَ؟ أَلَيْسَ هُوَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟، قَالَ تَمِيمٌ: نَعَمْ
زیاد بن ابی ہند الداری رحمہ اللہ اپنے والد ابوہند الداری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے: تمیم بن اوس بن خارجہ بن سودان بن جذیمہ بن دراع بن عدی بن دار، ان کے بھائی نعیم بن اوس، یزید بن قیس، ابوہند بن عبداللہ، ان کے بھائی طیب بن عبداللہ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا - اور فاکہ بن نعمان۔ یہ سب اسلام لائے اور درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شام کی زمین میں سے کوئی زمین عطا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہیں پسند ہو مانگ لو۔“ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کون سی جگہ مانگیں۔ تمیم نے کہا: میری رائے ہے کہ ہم بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ مانگیں۔ ابوہند نے کہا: کیا تم نے آج کے عجمی بادشاہ کو دیکھا ہے؟ کیا وہ بیت المقدس میں نہیں ہے؟ تمیم نے کہا: ہاں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19009]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 320، حدیث 806»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19010
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي أَبِي زِيَادُ بْنُ فَائِدٍ، عَنْ أَبِيهِ فَائِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ جَدِّهِ زِيَادِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: «مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَائِي وَيَصْبِرْ عَلَى بَلَائِي فَلْيَلْتَمِسْ رَبًّا سِوَايَ»
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ”جو میرے فیصلے پر راضی نہیں اور میری آزمائش پر صبر نہیں کرتا، وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کر لے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19010]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 320، حدیث 807»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. أبو هند الحجام
سیدنا ابوہند حجام رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19011
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بَنِي بَيَاضَةَ أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی بیاضہ! ابوہند سے (اپنی بیٹیوں کا) نکاح کرو اور اس کے ہاں (اس کی بیٹیوں سے) نکاح کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19011]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 321، حدیث 808»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. من يكنى أبا فاطمة، أبو فاطمة الضمري
جن کی کنیت ابوفاطمہ ہے — سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19012
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا جَدِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهَا» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا خَطِيئَةً»
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس پر میں ثابت قدم رہوں اور اسے کرتا رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد فی سبیل اللہ کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی اور عمل بتائیں جس پر میں ثابت قدم رہوں اور اسے کرتا رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی اور عمل بتائیں جس پر میں ثابت قدم رہوں اور اسے کرتا رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدے کو لازم پکڑو، کیونکہ تم اللہ کے لیے کوئی سجدہ نہیں کرتے مگر اللہ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19012]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 321، حدیث 809»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19013
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ: أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهَا» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً»
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی اور عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی اور عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی اور عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدے کو لازم پکڑو، کیونکہ تم اللہ کے لیے کوئی سجدہ نہیں کرتے مگر اللہ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19013]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 322، حدیث 810»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں