🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. بَابُ: عِدَّةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3546
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ، يُقَالُ لَهَا: سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَقَالَ: مَا يَصْلُحُ لَكِ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نُفِسَتْ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْكِحِي".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سن کر مجھے خبر دی کہ قبیلہ اسلم کی سبیعہ نامی ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور حاملہ تھی (اسی دوران) شوہر کا انتقال ہو گیا تو ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ نے اسے شادی کا پیغام دیا جسے اس نے ٹھکرا دیا، اس نے اس سے کہا: تیرے لیے درست نہیں ہے کہ دونوں عدتوں میں سے آخری مدت کی عدت پوری کئے بغیر شادی کرے۔ پھر وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ (اس کے بعد) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی (اور آپ سے اسی بارے میں مسئلہ پوچھا اور صورت حال بتائی) آپ نے فرمایا: ”تو (جس سے چاہے) نکاح کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3546]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کی ایک عورت جس کا نام سبیعہ تھا، وہ اپنے خاوند کے نکاح میں تھی کہ اس کا خاوند فوت ہو گیا جبکہ وہ حاملہ تھی۔ حضرت ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ نے اسے شادی کا پیغام بھیجا لیکن اس نے ان سے نکاح کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ کہنے لگے: تیرے لیے تو ابھی نکاح کرنا درست ہی نہیں، حتیٰ کہ دونوں راتیں گزریں تو اس نے بچہ جن دیا تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: ”تو نکاح کر سکتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 39 (3518)، (تحفة الأشراف: 18273) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3547
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا، وَأَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لِأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمِ مَاتَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، فقال أبو سلمة: فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لِأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَزَوَّجَ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ (ایک روز) میں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، اتنے میں ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: وہ حمل سے تھی کہ اسی دوران اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اسے مرے ہوئے قریب چار مہینے ہوئے تھے کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا (اس کی عدت کیا ہو گی؟)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس کی مدت لمبی ہو گی وہی تمہاری عدت ہو گی، (یہ سن کر) ابوسلمہ نے کہا: مجھے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: اس کا شوہر انتقال کر گیا، اس وقت وہ حاملہ تھی پھر اس نے قریب چار مہینے پر بچہ جنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کر لینے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں اس مسئلہ میں گواہ ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3547]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا: میرا خاوند فوت ہوا تو میں حاملہ تھی۔ میں نے اس کی وفات کے بعد چار ماہ (دس دن) پورے ہونے سے پہلے بچہ جن دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ دونوں مدتوں میں سے آخری مدت پوری کرنی ہوگی۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے مجھے خبر دی کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میرا خاوند فوت ہو گیا، میں حاملہ تھی، میں نے چار ماہ (دس دن) سے پہلے بچہ جن دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15693) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وضع حمل سے اس کی عدت پوری ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3548
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ: أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَيَسْأَلَهَا حَدِيثَهَا، وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ , أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ: جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي:" بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي".
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ (عبداللہ بن عتبہ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے (سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ (سعد) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا (اور زیب و زینت کے ساتھ رہنے لگیں)، ان کے پاس قبیلہ بنو عبدالدار کے ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے کہا: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھتا ہوں، لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ قسم اللہ کی! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم چار مہینے دس دن عدت کے پوری نہ کر لو۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے لپیٹے و سمیٹے (اور اوڑھ پہن کر اور سلیقے سے ہو کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”جس وقت میں نے بچہ جنا ہے اسی وقت سے میں حلال ہو چکی ہوں اور مجھے حکم دیا کہ میں شادی کر لوں اگر میرا جی چاہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3548]
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت عمر بن عبد اللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ پوچھیں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا جواب دیا تھا۔ تو حضرت عمر بن عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عتبہ کو لکھا کہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ بنو عامر بن لؤی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے، حجۃ الوداع کے دوران ان کی وفات ہوگئی، اس وقت وہ حاملہ تھیں، ان کی وفات سے تھوڑا عرصہ بعد ہی انہوں نے بچہ جن دیا، جب وہ نفاس سے پاک ہوئیں تو انہوں نے شادی کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے زیب و زینت کی، بنو عبد الدار کے ایک آدمی ابوسنابل بن بعکک ان کے پاس آئے تو کہنے لگے: ”کیا وجہ ہے کہ تو نے زیب و زینت کر رکھی ہے؟ شاید تو آگے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اللہ کی قسم! تو نکاح نہیں کر سکتی حتیٰ کہ چار ماہ دس دن گزر جائیں“۔ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب انہوں نے مجھے یہ بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا: ”جب تو نے بچہ جنا تو تیری عدت پوری ہوگئی تھی“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرنے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 10 (3991) تعلیقًا، الطلاق 39 (5319)، صحیح مسلم/الطلاق 8 (1484)، سنن ابی داود/الطلاق 47 (2306)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2027)، (تحفة الأشراف: 15890)، مسند احمد (6/432)، ویأتي برقم: 3549، 3550 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3549
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ زُفَرَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا السَّنَابِلِ بْنَ بَعْكَكِ بْنِ السَّبَّاقِ، قَالَ لِسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ: لَا تَحِلِّينَ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا أَقْصَى الْأَجَلَيْنِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْتَاهَا أَنْتَنْكِحَ إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا"، وَكَانَتْ حُبْلَى فِي تِسْعَةِ أَشْهُرٍ حِينَ تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، فَتُوُفِّيَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَتْ فَتًى مِنْ قَوْمِهَا حِينَ وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا.
زفر بن اوس بن حدثان نصری بیان کرتے ہیں کہ ابوسنابل بن بعکک بن سباق رضی اللہ عنہ نے سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم (نکاح کے لیے) حلال نہ ہو گی جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے لمبی مدت والی عدت کے چار ماہ دس دن تم پر گزر نہ جائیں، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ دیا کہ جب وہ بچہ جن چکی ہے تو نکاح کر لے، وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں جب ان کے شوہر سعد کا انتقال ہوا تو ان کے حمل کا نوواں مہینہ چل رہا تھا، وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا تھا، چنانچہ بچہ جننے کے بعد انہوں نے اپنی قوم کے ایک نوجوان سے شادی کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3549]
حضرت زفر بن اوس بن حدثان نصری سے روایت ہے کہ حضرت ابو سنابل بن بعکک بن سباق رضی اللہ عنہ نے حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تیری عدت ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ چار ماہ دس دن گزر جائیں، یعنی دونوں عدتوں میں سے آخری عدت۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”میں وضع حمل کے بعد نکاح کرسکتی ہوں۔“ جب ان کا خاوند فوت ہوا تو وہ حمل کے نویں مہینے میں تھیں۔ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں فوت ہوگئے تھے۔ تو جب حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا تو انہوں نے اپنی قوم کے ایک جوان شخص سے نکاح کرلیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3550
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ: أَنِ ادْخُلْ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَاسْأَلْهَا عَمَّا أَفْتَاهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَمْلِهَا، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَوَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ تَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا، دَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَرَآهَا مُتَجَمِّلَةً، فَقَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ قَبْلَ أَنْ تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمْلَكِ".
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت الحارث اسلمی رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حمل کے سلسلے میں انہیں کیا فتویٰ دیا تھا؟ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں (اس خط کے بعد) عمر بن عبداللہ نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو غزوہ بدر میں شریک تھے، وہ حجۃ الوداع میں وفات پا گئے اور شوہر کی وفات سے لے کر چار مہینہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو بنو عبدالدار کے ایک شخص ابوالسنابل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہیں زیب و زینت میں دیکھا تو کہا (عدت کے) چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی غالباً تم شادی کرنے کا ارادہ کر رہی ہو؟ وہ (سبیعہ) کہتی ہیں: جب میں نے ابوالسنابل سے یہ بات سنی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، میں نے آپ کو اپنی (اور ان کی) بات چیت بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”تم تو اسی وقت سے حلال ہو گئی ہو جب تم نے بچہ جنا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3550]
عبید اللہ بن عبد اللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبد اللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ آپ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حمل کے سلسلے میں کیا ارشاد فرمایا تھا؟ حضرت عمر بن عبد اللہ ان کے پاس گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ صحابی رسول تھے، بدر میں شریک ہوئے تھے، حجۃ الوداع میں فوت ہو گئے تو انہوں نے ان کی وفات کے بعد چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی بچہ جن دیا، جب وہ نفاس سے پاک ہوئیں تو ان کے پاس ابوسنابل آئے جو بنو عبد الدار سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے انہیں زیب و زینت کی حالت میں دیکھا تو کہا: شاید تو نکاح کا ارادہ رکھتی ہے جب کہ ابھی چار ماہ دس دن نہیں گزرے، جب میں نے ابوسنابل سے یہ بات سنی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا واقعہ کہہ سنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تجھے بچہ پیدا ہوا تھا، تیری عدت ختم ہوگئی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3548 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اب تم جب چاہو اور جس کے ساتھ چاہو شادی کر سکتی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3551
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي نَاسٍ بِالْكُوفَةِ فِي مَجْلِسٍ لِلْأَنْصَارِ عَظِيمٍ، فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرُوا شَأْنَ سُبَيْعَة فَذَكَرْتُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَوْنٍ: حَتَّى تَضَعَ، قَالَ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى: لَكِنَّ عَمَّهُ لَا يَقُولُ ذَلِكَ، فَرَفَعْتُ صَوْتِي، وَقُلْتُ: إِنِّي لَجَرِيءٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ، قَالَ: فَلَقِيتُ مَالِكًا، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ؟ قَالَ: قَالَ:" أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ، وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ؟ لَأُنْزِلَتْ: سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں انصار کی ایک بڑی مجلس میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، اس مجلس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلی بھی موجود تھے، ان لوگوں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ چھیڑا تو میں نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کی روایت کا ذکر کیا جو (روایت) ابن عون کے قول «حتیٰ تضع» کے معنی اور حق میں تھی (یعنی حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے)، (اس بات پر) ابن ابی لیلیٰ نے کہا: لیکن ان کے (یعنی عبداللہ بن عتبہ کے) چچا (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) اس کے قائل نہ تھے (کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے بلکہ وہ زیادہ مدت والی عدت کے قائل تھے) تب میں نے اپنی آواز بلند کی اور (زور سے) کہا: کیا میں جرات کر سکتا ہوں کہ عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹا الزام لگاؤں (یہ نہیں ہو سکتا) وہ (عبداللہ بن عتبہ) کوفہ کے علاقے میں موجود ہیں (جس کو ذرا بھی شک و شبہ ہو وہ ان سے پوچھ سکتا ہے) پھر میں مالک (بن عامر ابن عود) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سبیعہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا کہتے تھے؟ مالک نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ اس پر سختی اور تنگی ڈالتے ہو (اس سے زیادہ مدت والی عدت پر عمل کرانا چاہتے ہو) اور اسے رخصت سے فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہتے۔ جب کہ چھوٹی سورۃ النساء (یعنی سورۃ الطلاق، جس میں حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بتائی گئی ہے) بڑی سورۃ (بقرہ) کے بعد اتری ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3551]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں کوفہ شہر میں انصار کی ایک بہت بڑی مجلس میں بیٹھا تھا، ان میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ حاضرین نے حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ جب بچہ پیدا ہو تو عورت کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہنے لگے: لیکن ان کے چچا (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) تو اس کے قائل نہیں، میں نے ذرا بلند آواز میں کہا: اگر میں عبداللہ بن عتبہ پر بہتان باندھوں جب کہ وہ کوفہ شہر میں زندہ موجود ہیں، پھر میں تو بہت بے باک ہوں؟ پھر میں اپنے استاد مالک رحمہ اللہ سے ملا، میں نے کہا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کیا فرماتے تھے؟ مالک رحمہ اللہ کہنے لگے کہ انہوں نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو، نرمی نہیں کرتے؟ چھوٹی سورۂ نساء (سورۂ طلاق) بڑی سورۂ نساء کے بعد اتری ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة البقرة 41 (4532)، تفسیرسورة الطلاق1 (4910) تعلیقًا، (تحفة الأشراف: 9544) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ عدت چار ماہ دس دن کی عدت سے مستثنیٰ اور الگ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3552
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينِ بْنِ نُمَيْلَةَ يَمَامِيٌّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وأَخْبَرَنِي مَيْمُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شَبْرَمَةَ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ:" مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ، مَا أُنْزِلَتْ: وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4، إِلَّا بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ"، وَاللَّفْظُ لِمَيْمُونٍ.
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: جو کوئی مجھ سے مباہلہ کرنا چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں (کہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے) کیونکہ وضع حمل کی مدت سے متعلق آیت «متوفی عنہا زوجہا» والی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے جس کا شوہر مر گیا ہو جب وہ بچہ جن دے گی حلال ہو جائے گی۔ اس روایت کے الفاظ میمون کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3552]
حضرت علقمہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کر سکتا ہوں کہ آیت: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”حمل والی عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ بچہ جن دیں۔“ اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں اس عورت کی عدت بیان کی گئی ہے جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو، جب اسے بچہ پیدا ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ الفاظ میمون بن عباس کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9442)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 47 (2307)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2030) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، إبراهيم النخعي عنعن. وانظر سنن أبى داود (2307 بتحقيقي). والحديث السابق (الأصل: 3551) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3553
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ , قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٌ , وَعَبِيدَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنّ سُورَةَ النِّسَاءِ الْقُصْرَى نَزَلَتْ بَعْدَ الْبَقَرَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نسائی (یعنی طلاق) کی چھوٹی سورۃ البقرہ کی (بڑی) سورۃ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3553]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھوٹی سورۂ نساء (سورۂ طلاق) سورۂ بقرہ کے بعد نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9184) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں