سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي النَّاسِ
باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
حدیث نمبر: 4102
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی تلوار باہر نکال لے پھر اسے چلانا شروع کر دے تو اس کا خون رائیگاں اور بیکار ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4102]
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تلوار میان سے نکال کر لوگوں پر چلانی شروع کر دے، اس کا خون ضائع ہے۔“ (اس کا قتل جائز ہے۔ اس کی کوئی دیت ہو گی نہ قصاص)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5262) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 2345، وتراجع الالبانی 224)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: ناحق مسلمانوں کو مارنے لگے تو اس کے قتل میں نہ دیت ہے نہ قصاص۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4103
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
عبدالرزاق بھی اس سند سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں، لیکن وہ اسے مرفوع نہیں کرتے (یعنی ابن زبیر کا قول بیان کرتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4103]
عبد الرزاق رحمہ اللہ سے بھی یہ حدیث انہی الفاظ سے مروی ہے، مگر انہوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4104
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" مَنْ رَفَعَ السِّلَاحَ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے ہتھیار اٹھایا اور اسے لوگوں پر چلایا تو اس کا خون رائیگاں اور بیکار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4104]
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”جس نے (لوگوں پر) اسلحہ سونتا، پھر اسے چلانا شروع کر دیا تو اس کا خون ضائع ہے۔“ (کوئی معاوضہ ہو گا نہ اس کا قصاص ہی لیا جائے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4102 (صحیح موقوف)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4105
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4105]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفتن 7 (7070)، صحیح مسلم/الإیمان 42 (98)، (تحفة الأشراف: 8364)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 19 (2576)، مسند احمد (2/3، 53) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں بھی ”ہتھیار اٹھانے“ سے مراد ”ناحق ہتھیار“ اٹھانا ہے، مسلمانوں کی ناحق خونریزی پر یہ شدید وعید سنائی گئی ہے کہ ایسے عمل کے مرتکب کو اگر قتل کر دیا جائے تو اس کے خون کا نہ تو قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔ اور یہ کہ ایسا آدمی امت محمدیہ کے زمرہ سے خارج ہے۔ «فاعتبروا یا أولی الأبصار» (عبرت حاصل کرنی چاہیئے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4106
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا , فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ , وَالْأَنْصَارُ، وَقَالُوا: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ". فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ , نَاتِئَ الْوَجْنَتَيْنِ , كَثَّ اللِّحْيَةِ , مَحْلُوقَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ، قَالَ:" مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ , أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي"، فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ , فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ:" إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَخْرُجُونَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ , يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ , يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی لگا ہوا سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی (جو بنی مجاشع کے ایک شخص تھے)، عیینہ بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری (جو بنی کلاب کے ایک شخص تھے)، زید الخیل طائی (جو بنی نبہان کے ایک شخص تھے) کے درمیان تقسیم کیا، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اس پر قریش اور انصار غصہ ہوئے اور بولے: آپ اہل نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تو صرف ان کی تالیف قلب کر رہا ہوں“، اتنے میں ایک شخص آیا، اس کی آنکھیں بیٹھی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، داڑھی گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا۔ وہ بولا: محمد! اللہ سے ڈرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں ہی نافرمانی کرنے لگا تو اللہ کی اطاعت کون کرے گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ زمین والوں پر امین بنا رہا ہے اور تم میرا اعتبار نہیں کرتے۔ اتنے میں لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی، آپ نے اسے منع فرما دیا۔ جب وہ لوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے خاندان میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں انہیں پا جاؤں تو انہیں عاد کے لوگوں کی طرح قتل کروں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4106]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، جب وہ یمن کے حاکم تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا جو ابھی مٹی سے الگ نہیں کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سارا سونا تقسیم فرما دیا؛ اقرع بن حابس حنظلی کو جو کہ بنو مجاشع سے تھے، عیینہ بن بدر فزاری کو، علقمہ بن علاثہ عامری کو جو کہ بنو کلاب میں سے تھا اور زید خیل طائی کو جو کہ بنو نبہان میں سے تھا۔ اس بات سے قریش اور انصار کو غصہ آ گیا۔ وہ کہنے لگے: آپ نجدی سرداروں کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کی تالیفِ قلب کرتا ہوں۔“ اتنے میں ایک آدمی آیا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، وہ کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ کا نافرمان ہوں تو کون اللہ کی اطاعت کرے گا؟ اس (اللہ تعالیٰ) نے تو مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے (تبھی تو مجھے نبوت سے سرفراز فرمایا ہے) لیکن تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے؟“ چنانچہ حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی۔ جب وہ آدمی چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ دین سے اس طرح صاف نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے شکار سے صاف نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔ (اللہ کی قسم!) اگر میں نے انہیں پایا تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2579 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کتاب تحریم الدم یا کتاب المحاربۃ (جنگ) سے مطابقت اسی جملے سے ہے، یعنی: خارجیوں کا خون بہانا جائز ہے، اس لیے علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4107
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ: مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ , يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کم سن اور کم عقل ہوں گے، بات چیت میں وہ لوگوں میں سب سے اچھے ہوں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، لہٰذا جب تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کرو کیونکہ ان کے قتل کرنے والے کو قیامت کے دن اجر ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4107]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”آخر زمانے میں کچھ نو عمر، کم عقل لوگ ظاہر ہوں گے۔ وہ مخلوق میں سے بہترین شخص (حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی باتیں کریں گے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح شکار (کے جسم) سے تیر (صاف) نکل جاتا ہے۔ جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو انہیں (بے دریغ) قتل کرو کیونکہ ان کا قتل، قتل کرنے والے کے لیے قیامت کے اجر و ثواب کا ذریعہ ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 25 (3611)، فضائل القرآن 36 (5057)، المرتدین 6 (6930)، صحیح مسلم/الزکاة 48 (1066)، سنن ابی داود/السنة 31 (4767)، (تحفة الأشراف: 10121)، مسند احمد (1/81، 113، 131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4108
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَصْرِيُّ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْخَوَارِجِ؟، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِي، وَرَأَيْتُهُ بِعَيْنِي , أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ , فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ، وَلَمْ يُعْطِ مَنْ وَرَاءَهُ شَيْئًا , فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ؟ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّي"، ثُمَّ قَالَ:" يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ كَأَنَّ هَذَا مِنْهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ , لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ رَحِمَهُ اللَّهُ: شَرِيكُ بْنُ شِهَابٍ لَيْسَ بِذَلِكَ الْمَشْهُورِ.
شریک بن شہاب کہتے ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں صحابہ رسول میں سے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق سوال کروں، تو میری ملاقات عید کے دن ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگردوں کی جماعت میں ہوئی۔ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کا تذکرہ کرتے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا، آپ کے پاس کچھ مال آیا، آپ نے اسے تقسیم کیا اور اپنے دائیں اور بائیں جانب کے لوگوں کو دے دیا اور اپنے پیچھے والوں کو کچھ نہیں دیا۔ ایک شخص آپ کے پیچھے سے کھڑا ہوا اور بولا: محمد! آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا۔ وہ ایک کالا (سانولا) شخص تھا، جس کے بال منڈے ہوئے تھے اور دو سفید کپڑوں میں ملبوس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میرے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عادل ہو“۔ پھر فرمایا: ”آخری دور میں کچھ لوگ ہوں گے (شاید) یہ بھی انہیں میں سے ہو گا، وہ قرآن پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلی سے نیچے نہ اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ سر منڈائے ہوں گے ۱؎، وہ ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کے ساتھ نکلے گا، لہٰذا جب تم انہیں پاؤ تو قتل کر دو، وہ بد نفس اور تمام مخلوقات میں بدتر ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: شریک بن شہاب مشہور نہیں ہیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4108]
حضرت شریک بن شہاب سے منقول ہے کہ میری خواہش تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے ملوں اور ان سے خارجیوں کے بارے میں پوچھوں، چنانچہ عید المبارک کے دن حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ ان کے کچھ ساتھی بھی تھے۔ میں نے ان سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خارجیوں کا ذکر فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اپنے کانوں سے سنا اور میں نے اس وقت آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ کے پاس کچھ مال لایا گیا۔ آپ نے اسے تقسیم فرما دیا۔ اپنی دائیں اور بائیں طرف والے لوگوں کو دیا لیکن اپنے پیچھے والے لوگوں کو کچھ نہ دیا۔ آپ کے پیچھے سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا۔ وہ آدمی کالے رنگ کا اور منڈے ہوئے سر والا تھا، اس پر دو سفید کپڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سن کر شدید غصہ آیا اور آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میرے بعد کوئی آدمی مجھ سے بڑھ کر انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے۔“ پھر فرمایا: ”اخیر زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے، اور یہ بھی مجھے انہی سے لگتا ہے، جو قرآن پڑھیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے شکار سے (صاف) نکل جاتا ہے۔ ان کی خصوصی علامت سر منڈوانا ہے۔ وہ لوگ ہمیشہ (بار بار) نکلتے رہیں گے حتیٰ کہ ان میں سے آخری گروہ مسیح دجال کے ساتھ نکلے گا۔ جب تم ان سے ملو تو انہیں (بے دریغ) قتل کرو۔ وہ تمام مخلوقات میں سے بدترین لوگ ہیں۔“ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ شریک بن شہاب راویٔ حدیث کوئی معروف آدمی نہیں۔ (بلکہ مجہول ہے کیونکہ ازرق بن قیس کے علاوہ کسی دوسرے شخص نے اس سے روایت بیان نہیں کی)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11598)، مسند احمد (4/421، 424، 425) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 2406، و تراجع الالبانی 422)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ استدلال قطعا درست نہیں ہے کہ سر منڈانا نعوذباللہ مکروہ ہے کیونکہ کسی چیز کا کسی قوم کے لیے علامت و شناخت بننا یہ اس کے مباح ہونے کے منافی نہیں ہو سکتا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے سر کے کچھ حصوں کا بال منڈا ہوا ہے اور کچھ کا چھوڑ دیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”اس کا پورا سر مونڈ دو یا پورا سر چھوڑ دو“۔ آپ کا یہ فرمان سر منڈانے کے مباح ہونے کے لیے کافی ہے۔ ۲؎: یعنی مشہور نہیں ہیں بلکہ مقبول ہیں، اور مقبول اس کو کہتے ہیں جس کی دوسرے راوی سے متابعت پائی جائے تو اس کی روایت مقبول ہو گی، ورنہ وہ لین الحدیث ہو گا، یہاں اس حدیث کے اکثر ٹکڑوں کی متابعت موجود ہے، اس لیے حدیث مقبول ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن