سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ: مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4973
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمٍّ لَهُ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا: ”نہ تو پھل چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ ہی گابا چرانے میں“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4973]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پھل اور گابھے (کی چوری) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4969 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4974
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَخْلَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ"، لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت میں خیانت کرنے والے، علانیہ لوٹ کر لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“ ۱؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اسے سفیان نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ (اس کی دلیل اگلی سند ہے) [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4974]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے، لوٹنے والے اور جھپٹ کر چھین لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ سفیان (ثوری) نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2761) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خیانت، اچک لینے اور چھین لینے میں اسی لیے ہاتھ کاٹنا نہیں ہے کہ ان سب کے اندر یہ ممکن ہے کہ ان کو انجام دینے والوں پر آسانی سے اور جلد قابو پایا جا سکتا ہے اور گواہی قائم کی جا سکتی ہے، برخلاف چوری کے، اس لیے کہ چوری کا جرم زیادہ سنگین ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لم يسمعه سفيان من أبي الزبير
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4975
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ"، وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَيْضًا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت میں خیانت کرنے والے، لوٹ لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اسے ابن جریج نے بھی ابو الزبیر سے نہیں سنا، (اس کے متعلق مؤلف کی وضاحت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4975]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے، لوٹ ڈالنے والے اور جھپٹنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ ابن جریج نے بھی ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 13 (4391)، سنن الترمذی/الحدود 18 (1448)، سنن ابن ماجہ/الحدود 26 (2591)، (تحفة الأشراف: 2800) مسند احمد (3/380)، سنن الدارمی/الحدود 8 (2356)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4976، 4977) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ولم يسمعه أيضا ابن جريج من أبي الزبير
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4976
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچک کر لے جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4976]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھپٹ مار کر چھین لے جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4975 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4977
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: قَال جَابِرٌ:" لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ: عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ وَهْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَعِيدٍ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، قَالَ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ: وَكَانَ خَيْرَ أَهْلِ زَمَانِهِ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، وَلَا أَحْسَبُهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج سے: عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، نے روایت کیا ہے۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے: ان میں سے کسی نے «حدثنی ابوالزبیر» یعنی ”مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا“ نہیں کہا۔ اور میرا خیال ہے ان میں سے کسی نے ابوالزبیر سے اسے سنا بھی نہیں ہے، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4977]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید جو کہ بصری اور ثقہ ہیں (اور جن کے بارے میں محمد بن عثمان) ابن ابوصوان نے کہا ہے کہ وہ (سلمہ بن سعید) اپنے زمانے کے بہترین شخص تھے، ان سب نے ابن جریج سے یہ (مذکورہ) روایت بیان کی ہے لیکن ان (چھ جلیل القدر اور ثقہ اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی) ”حدثنی ابو الزبیر“ نہیں کہا، اور میرا نہیں خیال کہ اس (ابن جریج) نے ابوالزبیر سے سنا ہو۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4975 (ضعیف) (اس کے مقابل صحیح مرفوع حدیث ہے)۔»
وضاحت: ۱؎: لیکن اگلی سند کے ”مغیرہ بن مسلم“ کا ابوالزبیر سے سماع ثابت ہے، نیز اس حدیث کے دیگر صحیح شواہد بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف والصحيح مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4978
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ رَوْحٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى مُخْتَلِسٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا خَائِنٍ قَطْعٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو اچک کر لے جانے والے کا، نہ کسی لوٹنے والے کا، اور نہ ہی کسی خائن کا ہاتھ کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4978]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھپٹ مار کر چھیننے والے، لوٹ ڈالنے والے (ڈاکو) اور خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2967) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4979
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ قَطْعٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ضَعِيفٌ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4979]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”خیانت کرنے والے کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جا سکتی۔“ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ نے فرمایا: اشعث بن سوار ضعیف ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2663) (ضعیف) (اس کے راوی ’’اشعث‘‘ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سند سے مرفوعاً یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف والصحيح مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح