🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

امت مسلمہ میں باقی رہنے والے امورِ جاہلیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 735 ترقیم فقہی: -- 95
-" أربع في أمتي من أمر الجاهلية لن يدعهن الناس: النياحة والطعن في الأحساب والعدوى: أجرب بعير فأجرب مائة بعير، من أجرب البعير الأول؟! والأنواء: مطرنا بنوء كذا وكذا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت کے چار اوصاف میری امت میں موجود رہیں گے، یہ ان کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے: (۱) نوحہ کرنا، (۲) حسب و نسب میں طعن کرنا، (۳) بیماری کو متعدی قرار دیتے ہوئے کہنا کہ ایک خارشی اونٹ کی وجہ سے سو اونٹوں کو خارش لگ گئی۔ بھلا سوال یہ ہے کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی اور (۴) ستارے، یعنی یہ کہنا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 95]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 735

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 734 ترقیم فقہی: -- 96
-" أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة".
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت کے چار اوصاف پائے جائیں گے، وہ ان کو نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب (خاندانی عظمت) پر فخر کرنا، (۲) نسب پر طعن کرنا، (۳) ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور (۴) نوحہ کرنا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 96]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 734

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1801 ترقیم فقہی: -- 97
-" ثلاث من عمل أهل الجاهلية لا يتركهن أهل الإسلام: النياحة والاستسقاء بالأنواء وكذا. قلت لسعيد (يعني المقبري): وما هو؟ قال: دعوى الجاهلية: يا آل فلان، يا آل فلان، يا آل فلان".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین امور کا تعلق جاہلیت سے ہے، لیکن اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے نوحہ کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح کرنا۔ میں نے سعید مقبری سے پوچھا کہ اس طرح کرنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: جاہلیت کی پکار پکارنا، (یعنی یون کہنا): او ال فلان! او ال فلان! او ال فلان! [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 97]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1801

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1896 ترقیم فقہی: -- 98
-" شعبتان من أمر الجاهلية لا يتركهما الناس أبدا: النياحة والطعن في النسب".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ جاہلیت کے دو امور کو ترک نہیں کریں گے: نوحہ کرنا اور نسب میں طعن کرنا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 98]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1896

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1799 ترقیم فقہی: -- 99
-" ثلاث لن تزال في أمتي: التفاخر في الأحساب والنياحة والأنواء".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین امور میری امت میں برقرار رہیں گے: خاندانی عظمت پر فخر کرنا، نوحہ کرنا اور ستاروں (کے زریعے بارش طلب کرنا)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 99]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1799

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں