🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

ہر کوئی اپنے جرم کا ذمہ دار خود ہو گا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1974 ترقیم فقہی: -- 1239
-" ألا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده ولا مولود على والده".
سیدنا عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے سنا: خبردار! ہر مجرم صرف اپنے حق میں برا کرے گا، والد اپنے بیٹے کی حق میں برا کر سکتا ہے نہ بیٹا والد کے حق میں، (‏‏‏‏یعنی دونوں اپنے اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہوں گے)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1239]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1974

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 749 ترقیم فقہی: -- 1240
-" أما إنك لا تجني عليه، ولا يجني عليك".
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: یہ تیرے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، میں اس بات پر گواہی دے سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ ہو جا! تو اس کے حق میں برا کر سکتا ہے نہ وہ تیرے حق میں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1240]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 749

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 989 ترقیم فقہی: -- 1241
-" لا تجني أم على ولد لا تجني أم على ولد".
سیدنا طارق محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماں اپنے بیٹے کے حق میں برا نہیں کر سکتی، ماں اپنے بیٹے کے حق میں برا نہیں کر سکتی (‏‏‏‏یعنی وہ اپنے جرم کی خود ذمہ دار ہو گی)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1241]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 989

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 990 ترقیم فقہی: -- 1242
-" لا تجني عليه ولا يجني عليك".
سیدنا خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے بیٹے کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ تیرا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے حق میں برا نہیں کر سکتا اور وہ تیرے حق میں برا نہیں کر سکتا (‏‏‏‏یعنی تم دونوں اپنے اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہو)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1242]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 990

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 988 ترقیم فقہی: -- 1243
-" لا تجني نفس على أخرى".
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کے حق میں برا نہیں کر سکتا (‏‏‏‏یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1243]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 988

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں