🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

صغیرہ گناہوں سے اجتناب بھی ضروری ہے، چھوٹے گناہوں کی کثرت بھی مہلک ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 389 ترقیم فقہی: -- 2318
-" إياكم ومحقرات الذنوب كقوم نزلوا في بطن واد فجاء ذا بعود وجاء ذا بعود حتى أنضجوا خبزتهم وإن محقرات الذنوب متى يؤخذ بها صاحبها تهلكه".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صغیرہ گناہوں سے گریز کرو۔ (اور ان کو حقیر مت سمجھو، غور فرماؤ کہ) کی کچھ لوگ ایک وادی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ایک آدمی ایک لکڑی لاتا ہے اور دوسرا ایک لاتا ہے . . . (ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ) وہ آگ جلا کر روٹی پکا لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر صغیرہ گناہوں کی بنا پر مؤاخذہ ہوا تو وہ بھی ہلاک کر سکتے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2318]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 389

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3102 ترقیم فقہی: -- 2319
- (إياكم ومُحقراتُ الذنُوبِ، كقَومٍ نَزلُوا في بطْنِ وادٍ فجاءَ ذا بعودٍ، وجاء ذا بعودٍ حتى أنضَجُوا خبزتهم، وإنَّ محقَّراتِ الذُّنوب متى يُؤخذ بها صاحبُها تُهلِكْهُ) .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان گناہوں سے بچو جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ جن گناہوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے، ان کی مثال ایسے لوگوں کی مانند ہے جنہوں نے ایک وادی میں پڑاؤ ڈالا، ایک آدمی ایک لکڑی لے آیا، دوسرا ایک اور لے آیا، حتیٰ کہ (اتنی لکڑیاں جمع ہو گئیں کہ) انہوں نے اپنی روٹی پکا لی اور بے شک جب حقیر گناہوں کے مرتکب کا مؤاخذہ کیا جائے گا تو وہ اس کو ہلاک کر دیں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2319]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3102

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2731 ترقیم فقہی: -- 2320
-" يا عائشة! إياك ومحقرات الذنوب، فإن لها من الله طالبا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عائشہ! حقیر سمجھے جانے والے گناہوں سے گریز کرنا، یقیناً ان کے متعلق بھی اللہ کی طرف سے باز پرس ہو گی۔ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2320]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2731

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں