یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب شهود الملائكة بدرا:
باب: جنگ بدر میں فرشتوں کا شریک ہونا۔
حدیث نمبر: 3993
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ , وَكَانَ رِفَاعَةُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَكَانَ رَافِعٌ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ , فَكَانَ يَقُولُ لِابْنِهِ:" مَا يَسُرُّنِي أَنِّي شَهِدْتُ بَدْرًا بِالْعَقَبَةِ"، قَالَ: سَأَلَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے معاذ بن رفاعہ بن رافع نے کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے اور (ان کے والد) رافع رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے تو آپ اپنے بیٹے (رفاعہ) سے کہا کرتے تھے کہ بیعت عقبہ کے برابر بدر کی شرکت سے مجھے زیادہ خوشی نہیں ہے۔ بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3993]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥رافع بن مالك الأنصاري، أبو مالك، أبو رفاعة | صحابي | |
👤←👥معاذ بن رفاعة الأنصاري معاذ بن رفاعة الأنصاري ← رافع بن مالك الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← معاذ بن رفاعة الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← يحيى بن سعيد الأنصاري | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة إمام حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3993
| ما يسرني أني شهدت بدرا بالعقبة قال سأل جبريل النبي بهذا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3993 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3993
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت رفاعہ بن رافع ؓ غزوہ بدر میں شریک تھے اور ان کے والد گرامی حضرت رافع ؓ بیعت عقبہ میں موجود تھے بعض اوقات باپ بیٹے میں مباحثہ شروع ہو جاتا کہ ان میں سے افضل کون ہے۔
؟ حضرت رافع ؓ کا موقف تھا کہ عقبہ ثانیہ کی بیعت افضل عمل ہے کیونکہ یہ بیعت اسلام کی نشرو اشاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کا باعث تھی گویا اسلام کی بنیاد یہ ہے کہ جب کہ ان کے بیٹے حضرت رفاعہ ؓ کہتے تھے کہ غزوہ بدر میں شمولیت افضل عمل ہے کیونکہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نص موجود ہے۔
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے۔
(فتح الباري: 390/7)
2۔
بہر حال اس مباحثے میں حضرت رفاعہ ؓ حق بجانب تھے کیونکہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا اور اس میں اجتہاد یا قیاس آرائی کو دخل نہ تھا جبکہ ان کے باپ کا موقف اجتہاد پر منبی تھا۔
3۔
اگرچہ بیعت عقبہ اسلام کی نشرو اشاعت کی بنیاد ہے لیکن بعض اوقات فرع اپنی اصل سے بڑھ جاتی ہے جیسا کہ علم و فضل اوقات شاگرد اپنے استاد سے بڑھ جاتا ہے۔
1۔
حضرت رفاعہ بن رافع ؓ غزوہ بدر میں شریک تھے اور ان کے والد گرامی حضرت رافع ؓ بیعت عقبہ میں موجود تھے بعض اوقات باپ بیٹے میں مباحثہ شروع ہو جاتا کہ ان میں سے افضل کون ہے۔
؟ حضرت رافع ؓ کا موقف تھا کہ عقبہ ثانیہ کی بیعت افضل عمل ہے کیونکہ یہ بیعت اسلام کی نشرو اشاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کا باعث تھی گویا اسلام کی بنیاد یہ ہے کہ جب کہ ان کے بیٹے حضرت رفاعہ ؓ کہتے تھے کہ غزوہ بدر میں شمولیت افضل عمل ہے کیونکہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نص موجود ہے۔
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے۔
(فتح الباري: 390/7)
2۔
بہر حال اس مباحثے میں حضرت رفاعہ ؓ حق بجانب تھے کیونکہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا اور اس میں اجتہاد یا قیاس آرائی کو دخل نہ تھا جبکہ ان کے باپ کا موقف اجتہاد پر منبی تھا۔
3۔
اگرچہ بیعت عقبہ اسلام کی نشرو اشاعت کی بنیاد ہے لیکن بعض اوقات فرع اپنی اصل سے بڑھ جاتی ہے جیسا کہ علم و فضل اوقات شاگرد اپنے استاد سے بڑھ جاتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3993]
Sahih Bukhari Hadith 3993 in Urdu
معاذ بن رفاعة الأنصاري ← رافع بن مالك الأنصاري