صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ فَضْلُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا:
باب: بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3984
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ , وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا ‘ ان سے حمزہ بن ابی اسید اور زبیر بن منذر بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر ہمیں ہدایت فرمائی تھی کہ جب کفار تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر چلانا اور (جب تک وہ دور رہیں) اپنے تیروں کو بچائے رکھنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3984]
حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بدر کے دن فرمایا: ”جب کافر تمہارے قریب آ جائیں تو انہیں تیروں سے مارو اور اپنے تیروں کی حفاظت کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3984]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3985
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ , وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ،عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" إِذَا أَكْثَبُوكُمْ , يَعْنِي كَثَرُوكُمْ , فَارْمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ".
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے ‘ ان سے حمزہ بن ابی اسید اور منذر بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی کہ جب کفار تمہارے قریب آ جائیں یعنی حملہ و ہجوم کریں (اتنے کہ تمہارے نشانے کی زد میں آ جائیں) تو پھر ان پر تیر برسانے شروع کرنا اور (جب تک وہ تم سے قریب نہ ہوں) اپنے تیر کو محفوظ رکھنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3985]
حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بدر کے دن ہدایت جاری کی تھی کہ ”جب کافر تمہارے قریب آ جائیں، یعنی تم پر ہجوم کر لیں تو انہیں تیروں سے چھلنی کرو اور اپنے تیروں کو محفوظ رکھو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3985]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3986
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ , فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً سَبْعِينَ أَسِيرًا وَسَبْعِينَ قَتِيلًا، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ".
مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی لڑائی میں تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو سردار مقرر کیا تھا اس لڑائی میں ہمارے ستر آدمی شہید ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابیوں سے بدر کی لڑائی میں ایک سو چالیس مشرکین کو نقصان پہنچا تھا۔ ستر ان میں سے قتل کر دئیے گئے اور ستر قیدی بنا کر لائے گئے اس پر ابوسفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی کی مثال ڈول کی سی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3986]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کے دن تیراندازوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تو مشرکین نے اس جنگ میں ہمارے ستر ساتھیوں کو شہید کر دیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے بدر کے دن ایک سو چالیس مشرکین کو نقصان پہنچایا تھا۔ ان میں سے ستر قیدی تھے اور ستر قتل ہوئے تھے۔ ابوسفیان نے کہا: ”آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہوتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3986]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3987
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى أُرَاهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ وَثَوَابُ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ".
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید نے ‘ ان سے ان کے دادا نے ‘ اس سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خیر و بھلائی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں احد کی لڑائی کے بعد عطا فرمائی اور خلوص عمل کا ثواب وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کی لڑائی کے بعد عطا فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3987]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچانک خیر و برکت وہ تھی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں غزوہِ احد کے بعد عطا فرمائی اور خلوصِ عمل کا ثواب وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کی لڑائی کے بعد عطا فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3988
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ:" إِنِّي لَفِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ إِذْ الْتَفَتُّ , فَإِذَا عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي فَتَيَانِ حَدِيثَا السِّنِّ , فَكَأَنِّي لَمْ آمَنْ بِمَكَانِهِمَا إِذْ، قَالَ لِي: أَحَدُهُمَا سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ يَا عَمِّ أَرِنِي أَبَا جَهْلٍ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أَخِي وَمَا تَصْنَعُ بِهِ، قَالَ: عَاهَدْتُ اللَّهَ إِنْ رَأَيْتُهُ أَنْ أَقْتُلَهُ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُ، فَقَالَ لِي: الْآخَرُ سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ مِثْلَهُ، قَالَ: فَمَا سَرَّنِي أَنِّي بَيْنَ رَجُلَيْنِ مَكَانَهُمَا , فَأَشَرْتُ لَهُمَا إِلَيْهِ فَشَدَّا عَلَيْهِ مِثْلَ الصَّقْرَيْنِ حَتَّى ضَرَبَاهُ وَهُمَا ابْنَا عَفْرَاءَ".
مجھ سے یعقوب نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان کے دادا سے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا بدر کی لڑائی کے موقع پر میں صف میں کھڑا ہوا تھا۔ میں نے مڑ کے دیکھا تو میری داہنی اور بائیں طرف دو نوجوان کھڑے تھے۔ ابھی میں ان کے متعلق کوئی فیصلہ بھی نہ کر پایا تھا کہ ایک نے مجھ سے چپکے سے پوچھا تاکہ اس کا ساتھی سننے نہ پائے۔ چچا! مجھے ابوجہل کو دکھا دو۔ میں نے کہا بھتیجے! تم اسے دیکھ کر کیا کرو گے؟ اس نے کہا، میں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عہد کیا ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو یا اسے قتل کر کے رہوں گا یا پھر خود اپنی جان دے دوں گا۔ دوسرے نوجوان نے بھی اپنے ساتھی سے چھپاتے ہوئے مجھ سے یہی بات پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان دونوں نوجوانوں کے درمیان میں کھڑے ہو کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اشارے سے انہیں ابوجہل دکھا دیا۔ جسے دیکھتے ہی وہ دونوں باز کی طرح اس پر جھپٹے اور فوراً ہی اسے مار گرایا۔ یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3988]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں غزوہ بدر میں صف بستہ تھا۔ اس دوران میں میں نے مڑ کر دیکھا کہ میرے دائیں بائیں دو کمسن لڑکے کھڑے ہیں تو گویا (اپنے دائیں اور بائیں) ان دو (نو عمر لڑکوں) کے ہونے کی وجہ سے میرا اطمینان جاتا رہا (اور میں دل میں ڈر ہی رہا تھا) کہ اتنے میں ان میں سے ایک نے چپکے سے پوچھا تاکہ اس کا ساتھی نہ سن سکے: ”اے چچا! مجھے ابوجہل دکھاؤ۔“ میں نے اسے کہا: ”اے بھتیجے! تو ابوجہل کو کیا کرے گا؟“ اس نے کہا: ”میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کر رکھا ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو اسے قتل کر کے رہوں گا یا خود اپنی جان کا نذرانہ اللہ کے حضور پیش کر دوں گا۔“ پھر مجھے دوسرے نے بھی چپکے سے اپنے ساتھی کو بے خبر رکھتے ہوئے اسی طرح کہا، چنانچہ اس وقت مجھے ان دونوں جوانوں کے درمیان کھڑے ہو کر بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اشارے سے انہیں ابوجہل دکھایا تو وہ دیکھتے ہی ابوجہل پر باز کی طرح جھپٹے اور اس کا کام تمام کر دیا اور وہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3989
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَيْنًا , وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَةِ بَيْنَ عَسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو لِحْيَانَ فَنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ , فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ، فَقَالُوا: تَمْرُ يَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ , فَلَمَّا حَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى مَوْضِعٍ فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ، فَقَالُوا لَهُمْ: انْزِلُوا فَأَعْطُوا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ: أَيُّهَا الْقَوْمُ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ , فَقَتَلُوا عَاصِمًا وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ , وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ , فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، قَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ: هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ , وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ أُسْوَةً يُرِيدُ الْقَتْلَى فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ , فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَانْطُلِقَ بِخُبَيْبٍ , وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ , فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا , فَأَعَارَتْهُ فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَاهُ , فَوَجَدَتْهُ مُجْلِسَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ، فَقَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ , وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِي يَدِهِ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ , وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ , وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّهُ لَرِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا , فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ، قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ , فَتَرَكُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ لَزِدْتُ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا , وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا" , ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاةَ , وَأَخْبَرَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ , وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ أَنْ يُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ , وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ , فَبَعَثَ اللَّهُ لِعَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ، فَلَمْ يَقْدِرُوا أَنْ يَقْطَعُوا مِنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: ذَكَرُوا مَرَارَةَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَمْرِيَّ وَهِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيَّ رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمر بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں شامل تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس جاسوس بھیجے اور ان کا امیر عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا جو عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا ہوتے ہیں۔ جب یہ لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان مقام ہدہ پر پہنچے تو بنی ہذیل کے ایک قبیلہ کو ان کے آنے کی اطلاع مل گئی۔ اس قبیلہ کا نام بنی لحیان تھا۔ اس کے سو تیرانداز ان صحابہ رضی اللہ عنہم کی تلاش میں نکلے اور ان کے نشان قدم کے اندازے پر چلنے لگے۔ آخر اس جگہ پہنچ گئے جہاں بیٹھ کر ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے کھجور کھائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ یثرب (مدینہ) کی کھجور (کی گٹھلیاں) ہیں۔ اب پھر وہ ان کے نشان قدم کے اندازے پر چلنے لگے۔ جب عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ان کے آنے کو معلوم کر لیا تو ایک (محفوظ) جگہ پناہ لی۔ قبیلہ والوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور کہا کہ نیچے اتر آؤ اور ہماری پناہ خود قبول کر لو تو تم سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے کسی آدمی کو بھی ہم قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا۔ مسلمانو! میں کسی کافر کی پناہ میں نہیں اتر سکتا۔ پھر انہوں نے دعا کی، اے اللہ! ہمارے حالات کی خبر اپنے نبی کو کر دے آخر قبیلہ والوں نے مسلمانوں پر تیر اندازی کی اور عاصم رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ بعد میں ان کے وعدہ پر تین صحابہ اتر آئے۔ یہ حضرات خبیب، زید بن دثنہ اور ایک تیسرے صحابی تھے۔ قبیلہ والوں نے جب ان تینوں صحابیوں پر قابو پا لیا تو ان کی کمان سے تانت نکال کر اسی سے انہیں باندھ دیا۔ تیسرے صحابی نے کہا، یہ تمہاری پہلی دغا بازی ہے میں تمہارے ساتھ کبھی نہیں جا سکتا۔ میرے لیے تو انہیں کی زندگی نمونہ ہے۔ آپ کا اشارہ ان صحابہ کی طرف تھا جو ابھی شہید کئے جا چکے تھے۔ کفار نے انہیں گھسیٹنا شروع کیا اور زبردستی کی لیکن وہ کسی طرح ان کے ساتھ جانے پر تیار نہ ہوئے۔ (تو انہوں نے ان کو بھی شہید کر دیا) اور خبیب رضی اللہ عنہ اور زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے گئے اور (مکہ میں لے جا کر) انہیں بیچ دیا۔ یہ بدر کی لڑائی کے بعد کا واقعہ ہے۔ حارث بن عامر بن نوفل کے لڑکوں نے خبیب رضی اللہ کو خرید لیا۔ انہوں ہی نے بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ کچھ دنوں تک تو وہ ان کے یہاں قید رہے آخر انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ انہیں دنوں حارث کی کسی لڑکی سے انہوں نے زیر ناف بال صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا۔ اس نے دے دیا۔ اس وقت اس کا ایک چھوٹا سا بچہ ان کے پاس (کھیلتا ہوا) اس عورت کی بےخبری میں چلا گیا۔ پھر جب وہ ان کی طرف آئی تو دیکھا کہ بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے۔ اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے انہوں نے بیان کیا کہ یہ دیکھتے ہی وہ اس درجہ گھبرا گئی کہ خبیب رضی اللہ عنہ نے اس کی گھبراہٹ کو دیکھ لیا اور بولے، کیا تمہیں اس کا خوف ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ یقین رکھو کہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ ان خاتون نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی قیدی خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن انگور کے ایک خوشہ سے انہیں انگور کھاتے دیکھا جو ان کے ہاتھ میں تھا حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں اس وقت کوئی پھل بھی نہیں تھا۔ وہ بیان کرتی تھیں کہ وہ تو اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی روزی تھی جو اس نے خبیب رضی اللہ عنہ کے لیے بھیجی تھی۔ پھر بنو حارثہ انہیں قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے جانے لگے تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دے دو۔ انہوں نے اس کی اجازت دی تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تمہیں یہ خیال نہ ہونے لگتا کہ مجھے گھبراہٹ ہے (موت سے) تو اور زیادہ دیر تک پڑھتا۔ پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ ہلاک کر اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ اور یہ اشعار پڑھے ”جب میں اسلام پر قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر پچھاڑا جائے گا اور یہ تو صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو میرے جسم کے ایک ایک جوڑ پر ثواب عطا فرمائے گا۔“ اس کے بعد ابوسروعہ عقبہ بن حارث ان کی طرف بڑھا اور اس نے انہیں شہید کر دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل حسن سے ہر اس مسلمان کے لیے جسے قید کر کے قتل کیا جائے (قتل سے پہلے دو رکعت) نماز کی سنت قائم کی ہے۔ ادھر جس دن ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبت آئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اسی دن اس کی خبر دے دی تھی۔ قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے ہیں تو ان کے پاس اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی ایسا حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے۔ کیونکہ انہوں نے بھی (بدر میں) ان کے ایک سردار (عقبہ بن ابی معیط) کو قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی لاش پر بادل کی طرح بھڑوں کی ایک فوج بھیج دی اور انہوں نے آپ کی لاش کو کفار قریش کے ان آدمیوں سے بچا لیا اور وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ بھی نہ کاٹ سکے اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے سامنے لوگوں نے مرارہ بن ربیع عمری رضی اللہ عنہ اور ہلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ (جو غزوہ تبوک میں نہیں جا سکے تھے) کہ وہ صالح صحابیوں میں سے ہیں اور بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3989]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور بنوزہرہ کے حلیف عمرو بن جاریہ ثقفی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس جاسوس بھیجے اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا ہیں۔ جب یہ لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان مقام ہدہ پر پہنچے تو بنو ہذیل کے ایک قبیلے کو ان کے آنے کی اطلاع مل گئی۔ اس قبیلے کا نام بنو لحیان تھا۔ اس قبیلے کے سو تیر انداز ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تلاش میں نکلے اور ان کے نشانات قدم کو دیکھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ آخر کار اس جگہ پہنچ گئے جہاں بیٹھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھجوریں کھائی تھیں۔ انہوں نے گٹھلیاں دیکھ کر کہا: ”یہ تو یثرب کی کھجوریں ہیں۔“ اب وہ ان کے نشانات قدم پر چلتے رہے۔ جب حضرت عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے انہیں دیکھا تو انہوں نے ایک اونچی جگہ پر پناہ لی۔ انہوں نے ان کا محاصرہ کر لیا اور کہا کہ نیچے اترو اور خود کو ہمارے حوالے کر دو۔ ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے کسی آدمی کو بھی ہم قتل نہیں کریں گے۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ساتھیو! میں ہرگز کسی کافر کی ذمہ داری پر نہیں اتروں گا۔“ پھر انہوں نے دعا کی: ”اے اللہ! اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حالات کی خبر دے۔“ پھر کافروں نے انہیں تیر مارنا شروع کر دیے حتی کہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ بعد میں ان کے عہد و پیمان پر تین شخص نیچے اترے۔ یہ حضرات حضرت خبیب، حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما اور ایک تیسرے صحابی تھے۔ قبیلے والوں نے جب ان تینوں پر قابو پا لیا تو ان کی کمانوں سے تانتیں اتار کر ان کے ساتھ انہیں مضبوط باندھ دیا۔ تیسرے شخص نے کہا: ”یہ تمہاری پہلی بدشکنی ہے۔ میں تمہارے ساتھ کبھی نہیں جا سکتا۔ میرے لیے ان مقتول ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے۔“ کفار نے انہیں گھسیٹنا شروع کیا اور زبردستی کی لیکن وہ کسی طرح ان کے ساتھ جانے پر تیار نہ ہوئے، چنانچہ وہ حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے گئے اور انہیں فروخت کر دیا اور یہ بدر کی لڑائی کے بعد کا واقعہ ہے۔ حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا کیونکہ انہوں ہی نے حارث بن عامر کو بدر کی لڑائی میں قتل کیا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کچھ دنوں تک ان کے ہاں قید رہے۔ آخر انہوں نے ان کے قتل کو آخری شکل دی۔ ان دنوں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی ایک لڑکی سے استرہ مانگا تاکہ اپنے زیر ناف بال صاف کر لیں۔ اس نے استرہ دے دیا۔ اتفاق سے اس کا ایک چھوٹا سا بیٹا (کھیلتے کھیلتے) حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا جبکہ وہ اس سے بے خبر تھی۔ جب وہ ان کی طرف آئی تو دیکھا کہ انہوں نے اس (بچے) کو اپنی ران پر بٹھایا ہوا ہے اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بہت گھبرائی۔ اس کی گھبراہٹ کو محسوس کر کے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں اندیشہ ہے میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ تم یقین رکھو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔“ اس خاتون نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! ایک دن میں نے انہیں دیکھا کہ اپنے ہاتھ میں خوشہ انگور لیے ان کو کھا رہے ہیں، حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور ان دنوں مکہ میں کوئی پھل بھی نہیں تھا۔ وہ تو اللہ کا بھیجا ہوا رزق تھا جو اس نے خبیب کو عطا فرمایا تھا۔“ پھر بنو حارث انہیں قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے جانے لگے تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دے دو۔“ انہوں نے مہلت دے دی تو انہوں نے دو رکعات ادا کیں، فراغت کے بعد کہا: ”اللہ کی قسم! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ میں گھبرا گیا ہوں تو میں ضرور نماز لمبی کرتا۔“ پھر انہوں نے دعا کی: ”اے اللہ! ان میں ایک ایک کو تباہی سے دوچار کر دے اور ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑ۔“ پھر یہ اشعار پڑھے: ”جب مسلمان ہوتے دنیا سے چلوں، مجھ کو کیا غم کون سی کروٹ گروں؛ میرا مرنا ہے اللہ کی ذات میں، وہ اگر چاہے نہ ہوں گا میں زبوں؛ تن جو ٹکڑے ٹکڑے اب ہو جائے گا، اس کے جوڑوں میں وہ برکت دے فزوں۔“ اس کے بعد ابوسروعہ عقبہ بن حارث ان کی طرف بڑھا اور انہیں شہید کر دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ہی نے مسلمانوں کے لیے طریقہ جاری کیا کہ جب قید کر کے قتل کیا جائے تو نماز ادا کرنے کی سنت ادا کرے۔ ادھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جس دن شہید ہوئے تھے اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ان کی خبر دے دی تھی۔ جب قریش کے کچھ لوگوں کو خبر ہوئی کہ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے ہیں تو انہوں نے چند آدمی بھیجے کہ وہ ان کی لاش سے کچھ کاٹ کر لائیں، جس سے انہیں پہچانا جا سکے کیونکہ انہوں نے قریش کے بڑے سرداروں میں سے ایک سردار کو (بدر میں) قتل کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لیے بادل کی طرح شہد کی مکھیوں کی ایک فوج بھیج دی، چنانچہ انہوں نے کسی کو بھی ان کی لاش کے قریب نہ آنے دیا اور وہ ان کے جسم سے کچھ کاٹنے پر قادر نہ ہو سکے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی دونوں نیک بزرگ تھے جو بدر میں شریک ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3989]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3990
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذُكِرَ لَهُ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَكَانَ بَدْرِيًّا مَرِضَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ , فَرَكِبَ إِلَيْهِ بَعْدَ أَنْ تَعَالَى النَّهَارُ وَاقْتَرَبَتِ الْجُمُعَةُ وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ذکر کیا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما جو بدری صحابی تھے، بیمار ہیں۔ دن چڑھ چکا تھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما سوار ہو کر ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اتنے میں جمعہ کا وقت قریب ہو گیا اور وہ جمعہ کی نماز (مجبوراً) نہ پڑھ سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3990]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے ذکر کیا گیا کہ ”حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ جو جنگ بدر میں شریک تھے، جمعہ کے دن بیمار ہو گئے ہیں۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سوار ہوئے اور ان کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے جبکہ سورج بلند ہو چکا تھا اور جمعہ کا وقت قریب تھا لیکن انہوں نے جمعہ نہ پڑھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3990]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3991
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ، يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَنْ مَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ , فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا , فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ , فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ , فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ , فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ تَجَمَّلْتِ لِلْخُطَّابِ تُرَجِّينَ النِّكَاحَ , فَإِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا، قَالَ لِي: ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ , وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ" فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي". تَابَعَهُ أَصْبَغُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ مَوْلَى بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ، وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ بَدْرًا أَخْبَرَهُ".
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے ان کے واقعہ کے متعلق پوچھو کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تھا تو آپ نے ان کو کیا جواب دیا تھا؟ چنانچہ انہوں نے میرے والد کو اس کے جواب میں لکھا کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ ان کا تعلق بنی عامر بن لوئی سے تھا اور وہ بدر کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ پھر حجۃ الوداع کے موقع پر ان کی وفات ہو گئی تھی اور اس وقت وہ حمل سے تھیں۔ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما کی وفات کے کچھ ہی دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ نفاس کے دن جب وہ گزار چکیں تو نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے انہوں نے اچھے کپڑے پہنے۔ اس وقت بنو عبدالدار کے ایک صحابی ابوالسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے یہاں گئے اور ان سے کہا، میرا خیال ہے کہ تم نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے یہ زینت کی ہے۔ کیا نکاح کرنے کا خیال ہے؟ لیکن اللہ کی قسم! جب تک (سعد رضی اللہ عنہ کی وفات پر) چار مہینے اور دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح کے قابل نہیں ہو سکتیں۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ابوالسنابل نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں نے شام ہوتے ہی کپڑے پہنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ معلوم کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں بچہ پیدا ہونے کے بعد عدت سے نکل چکی ہوں اور اگر میں چاہوں تو نکاح کر سکتی ہوں۔ اس روایت کی متابعت اصبغ نے ابن وہب سے کی ہے، ان سے یونس نے بیان کیا اور لیث نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، (انہوں نے بیان کیا کہ) ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے بنو عامر بن لوئی کے غلام محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان نے خبر دی کہ محمد بن ایاس بن بکیر نے انہیں خبر دی اور ان کے والد ایاس بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3991]
حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھا کہ وہ حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے اس واقعے کی تفصیلات پوچھیں جو انہیں پیش آیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا جواب دیا تھا جب انہوں نے فتویٰ طلب کیا تھا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ بن ارقم نے عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے جواب میں لکھا کہ حضرت سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ان کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا اور وہ بدر کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ان (حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ) کی وفات ہوئی جبکہ وہ (حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا) اس وقت حاملہ تھیں۔ ان کی وفات کے کچھ دن بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ جب نفاس کے ایام سے فارغ ہوئیں تو نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے انہوں نے اچھے کپڑے زیب تن کیے۔ اس دوران میں قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک شخص حضرت ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”میرا خیال ہے کہ نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے تم نے زینت کی ہے؟ کیا نکاح کرنے کا پروگرام ہے؟ اللہ کی قسم! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک (عدتِ وفات کے) چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں۔“ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابو سنابل رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ بات کی تو میں نے شام ہوتے ہی اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم وضعِ حمل کے ساتھ ہی اپنی عدت پوری کر چکی ہو، اب اگر چاہو تو نکاح کر سکتی ہو۔“ اصبغ نے اس روایت کی متابعت کی ہے۔ انہوں نے اپنی سند بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ محمد بن ایاس بن بکیر نے بتایا ہے کہ ان کے باپ حضرت ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3991]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة