علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب شهود الملائكة بدرا:
باب: جنگ بدر میں فرشتوں کا شریک ہونا۔
حدیث نمبر: 3992
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ قَالَ:" مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ" أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ".
مجھ سے اسحاق بن ابرہیم نے بیان کیا، ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی نے اپنے والد (رفاعہ بن رافع) سے، جو بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے انہوں نے پوچھا کہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں کا آپ کے یہاں درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سب سے افضل یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ جو فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ان کا بھی درجہ یہی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3992
| ما تعدون أهل بدر فيكم قال من أفضل المسلمين أو كلمة نحوها قال وكذلك من شهد بدرا من الملائكة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3992 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3992
حدیث حاشیہ:
اگرچہ فرشتے اور جنگوں میں بھی اترے تھے مگر بدر میں فرشتوں نے لڑائی کی۔
بیہقی نے روایت کی ہے کہ فرشتوں کی مار پہچانی جاتی تھی۔
گردن پر چوٹ اور پوروں پر آگ کا سا داغ۔
اسحاق کی سند میں ہے جبیر بن مطعم ؓسے کہ بدر کے دن میں نے کافروں کی شکست سے پہلے آ سمان سے کالی کالی چیونٹیاں اترتی دیکھیں۔
یہ فرشتے تھے جن کے اترنے کے بعد فوراً کافروں کو شکست ہوئی۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک مسلمان بدر کے دن ایک کافر کو مارنے جا رہا تھا اتنے میں آسمان سے ایک کوڑے کی آ واز سنی۔
کوئی کہہ رہا تھا اے حیزوم! آگے بڑھ، پھر وہ کافر مر کر گر پڑا۔
اگرچہ فرشتے اور جنگوں میں بھی اترے تھے مگر بدر میں فرشتوں نے لڑائی کی۔
بیہقی نے روایت کی ہے کہ فرشتوں کی مار پہچانی جاتی تھی۔
گردن پر چوٹ اور پوروں پر آگ کا سا داغ۔
اسحاق کی سند میں ہے جبیر بن مطعم ؓسے کہ بدر کے دن میں نے کافروں کی شکست سے پہلے آ سمان سے کالی کالی چیونٹیاں اترتی دیکھیں۔
یہ فرشتے تھے جن کے اترنے کے بعد فوراً کافروں کو شکست ہوئی۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک مسلمان بدر کے دن ایک کافر کو مارنے جا رہا تھا اتنے میں آسمان سے ایک کوڑے کی آ واز سنی۔
کوئی کہہ رہا تھا اے حیزوم! آگے بڑھ، پھر وہ کافر مر کر گر پڑا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3992]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3992
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ افضیلت کا حصول غزوہ بدر میں شرکت کی وجہ سے ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگرچہ فرشتے دوسری جنگوں میں بھی شریک ہوئے تھے لیکن غزوہ بدر میں انھوں نے باقاعدہ لڑائی کی اور دیگر فرشتوں سے افضل قرارپائے۔
3۔
پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کے شامل ہونے کی بشارت دی، پھر تین ہزار کی، جب گھبراہٹ ہوئی تو پانچ ہزار فرشتوں کے شامل ہونے کی خوشخبری دی جبکہ ایک فرشتہ ہی ان کا کام تمام کرنے کے لیے کافی تھا تاہم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور انسانی شکل میں فرشتے بھیج کر ان کی مدد فرمائی۔
4۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
فرشتوں کے ہاتھوں جو کافر مارے جاتے وہ دوسرے مقتولوں سے مختلف ہوتے تھے ان کی گردنوں اور جوڑوں پر داغ ہوتے تھے۔
(فتح الباري: 388/7)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ایک مسلمان کافر کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا اتنے میں اس پر کوڑا برسنے کی آواز آئی اور کافر گرتے ہی مرگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ تیسرے آسمان سے اللہ کی مدد آئی تھی۔
“ (صحیح مسلم، الجھاد، حدیث: 4588۔
(1763)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ افضیلت کا حصول غزوہ بدر میں شرکت کی وجہ سے ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگرچہ فرشتے دوسری جنگوں میں بھی شریک ہوئے تھے لیکن غزوہ بدر میں انھوں نے باقاعدہ لڑائی کی اور دیگر فرشتوں سے افضل قرارپائے۔
3۔
پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کے شامل ہونے کی بشارت دی، پھر تین ہزار کی، جب گھبراہٹ ہوئی تو پانچ ہزار فرشتوں کے شامل ہونے کی خوشخبری دی جبکہ ایک فرشتہ ہی ان کا کام تمام کرنے کے لیے کافی تھا تاہم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور انسانی شکل میں فرشتے بھیج کر ان کی مدد فرمائی۔
4۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
فرشتوں کے ہاتھوں جو کافر مارے جاتے وہ دوسرے مقتولوں سے مختلف ہوتے تھے ان کی گردنوں اور جوڑوں پر داغ ہوتے تھے۔
(فتح الباري: 388/7)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ایک مسلمان کافر کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا اتنے میں اس پر کوڑا برسنے کی آواز آئی اور کافر گرتے ہی مرگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ تیسرے آسمان سے اللہ کی مدد آئی تھی۔
“ (صحیح مسلم، الجھاد، حدیث: 4588۔
(1763)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3992]
Sahih Bukhari Hadith 3992 in Urdu
معاذ بن رفاعة الأنصاري ← رفاعة بن رافع الزرقي