صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهْيَ الأَحْزَابُ:
باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , يُحَدِّثُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ , وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا , وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا , فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا , إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا , وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا" , قَالَ: ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا.
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے (سینے سے پیٹ تک) گھنے بالوں (کی ایک لکیر) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے۔“ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4106]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے خود دیکھا کہ آپ خندق کھودتے اور اس کی مٹی بھی اٹھا اٹھا کر باہر لاتے تھے حتی کہ آپ کے بطن مبارک کی جلد گردوغبار سے اٹ گئی تھی، جبکہ آپ کے سینے پر گھنے بال تھے۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھاتے ہوئے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے: ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے، ہم پر اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر (دشمن سے) ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہ لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں اور جب یہ (ہم سے) کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات نہیں مانتے بلکہ انکار کر دیتے ہیں۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو خوب کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" أَوَّلُ يَوْمٍ شَهِدْتُهُ يَوْمُ الْخَنْدَقِ".
مجھ سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سب سے پہلا غزوہ جس میں میں نے شرکت کی وہ غزوہ خندق ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4107]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سب سے پہلے میں نے جس جنگ میں شرکت کی وہ غزوہ خندق تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4107]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4108
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ , قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ , فَقَالَتْ: الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ , فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ , قَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ , قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ: فَهَلَّا أَجَبْتَهُ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ , فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ , قَالَ حَبِيبٌ: حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ. قَالَ مَحْمُودٌ: عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَنَوْسَاتُهَا.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ہشام نے خبر دی، انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور مجھے ابنِ طاؤس نے خبر دی، انہوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی، انہوں نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوا، اس وقت ان کی چوٹیوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے کہا: لوگوں کے معاملات میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ آپ دیکھ ہی رہی ہیں، اور اس معاملے میں میرے لیے کچھ بھی مقرر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا: تم جا کر لوگوں سے ملو، کیونکہ وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں، اور مجھے اندیشہ ہے کہ تمہارا ان سے رک جانا کہیں اختلاف کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے انہیں جانے پر آمادہ کیا یہاں تک کہ وہ چلے گئے۔ پھر جب لوگ منتشر ہو گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جو شخص اس معاملے میں بات کرنا چاہتا ہے، وہ سامنے آ کر کھلے دل سے اپنی بات کرے، کیونکہ ہم اس کے اور اس کے باپ سے زیادہ اس کے حق دار ہیں۔ حبیب بن مسلمہ نے کہا: آپ نے ان کا جواب کیوں نہ دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے اپنی بیٹھک کھولی اور ارادہ کیا کہ کہوں: اس معاملے کا تم سے زیادہ حق دار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام پر جنگ کی تھی، مگر مجھے اندیشہ ہوا کہ میں کوئی ایسی بات نہ کہہ بیٹھوں جو جماعت میں تفرقہ ڈال دے، خونریزی کا سبب بن جائے، اور میری بات کا کوئی اور مطلب لیا جائے، چنانچہ میں نے وہ سب یاد کیا جو اللہ تعالیٰ نے جنتوں میں تیار کر رکھا ہے۔ حبیب بن مسلمہ نے کہا: آپ محفوظ رکھے گئے اور بچا لیے گئے۔ محمود نے عبدالرزاق سے روایت کیا کہ لفظ «ونوساتها» آیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4108]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں سیدتنا حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا: آپ نے دیکھا کہ لوگوں نے کیا کیا ہے؟ مجھے تو حکومت کا کچھ حصہ بھی نہیں ملا۔ سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لوگوں کے اجتماع میں شرکت کرو، وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ تمہارے رک جانے سے مزید اختلاف ہو گا۔ آخر کار ان کے اصرار کرنے پر وہ اجتماع میں گئے۔ جب لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر کے چلے گئے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اس (خلافت کے) موضوع پر جس نے کوئی بات کرنی ہے وہ اپنا سر اٹھائے، یقینا ہم اس سے اور اس کے باپ سے خلافت کے زیادہ حق دار ہیں۔“ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس وقت آپ نے اس بات کا جواب کیوں نہ دیا؟“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے تو گرہ کھول کر بات کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ انہیں جواب دوں: خلافت کا تم سے زیادہ حق دار وہ شخص ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کی سربلندی کے لیے جنگ لڑی تھی، لیکن مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ مبادا میری اس بات سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف بڑھ جائے اور خونریزی ہو جائے اور میری طرف ایسی بات منسوب کر دی جائے جو میں نے نہ کہی ہو، نیز مجھے وہ اجر و ثواب یاد آ گیا جو صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنتوں میں تیار کر رکھا ہے۔“ حبیب نے کہا: ”اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور فتنوں سے بچ گئے۔“ (راویِ حدیث) محمود نے عبدالرزاق سے «نُسُوَاتِهَا» کے بجائے «نَوْسَاتِهَا» کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4108]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق سبیعی نے ‘ ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر (جب کفار کا لشکر ناکام واپس ہو گیا) فرمایا کہ اب ہم ان سے لڑیں گے۔ آئندہ وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہ آ سکیں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4109]
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا: ”اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ ہم پر چڑھ کر نہیں آئیں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4109]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ عَنْهُ:" الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابواسحاق سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ جب عرب کے قبائل (جو غزوہ خندق کے موقع پر مدینہ چڑھ کر آئے تھے) ناکام واپس ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ہم ان سے جنگ کریں گے ‘ وہ ہم پر چڑھ کر نہ آ سکیں گے بلکہ ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4110]
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لشکر دور کر دیے گئے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے، انہیں ہم سے لڑنے کی طاقت نہیں ہو گی، ہم ان پر چڑھائی کریں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عنه , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ:" مَلَأَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے ‘ ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کہ جس طرح ان کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ (نماز عصر) نہیں پڑھنے دی اور سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ بھی ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4111]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان (کافروں) کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے کیونکہ انہوں نے ہمیں «الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ» ”صلاۃِ وسطیٰ“ ادا کرنے سے روک دیا حتی کہ سورج غروب ہو گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4112
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ , وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا" , فَنَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحَانَ , فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا , فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد (لڑ کر) واپس ہوئے۔ وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سورج غروب ہونے کو ہے اور میں عصر کی نماز اب تک نہیں پڑھ سکا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! نماز تو میں بھی نہ پڑھ سکا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کیا۔ ہم نے بھی وضو کیا ‘ پھر عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4112]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خندق کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے۔ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں تو نماز نہیں پڑھ سکا تاآنکہ سورج غروب ہو گیا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے بھی نماز عصر نہیں پڑھی۔“ اس کے بعد ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وادی بطحان میں ٹھہرے اور آپ نے نماز کے لیے وضو کیا تو ہم نے بھی نماز کے لیے وضو کیا۔ پھر آپ نے سورج غروب ہونے کے بعد نماز عصر پڑھی، پھر اس کے بعد آپ نے نماز مغرب ادا کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" , فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا , ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا , ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّ , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4113]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: ”کون ہے جو ہمیں دشمنوں کے حالات سے آگاہ کرے؟“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کی خبر لاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”قوم کی خبر کون لائے گا؟“ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں لاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا: ”قوم کے حالات سے ہمیں کون مطلع کرے گا؟“ تو اس مرتبہ بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یہ کام میں سر انجام دوں گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے مخلص مددگار ہوتے ہیں اور میرا خاص مددگار زبیر ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4114
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ , أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ , فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اپنے بندے کی مدد کی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اور احزاب (یعنی افواج کفار) کو تنہا بھگا دیا پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہو سکتی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4114]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس نے اپنے لشکر کو غالب کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ اس اکیلے نے کافروں کے لشکر کو مغلوب کیا۔ (وہ باقی ہے اور) اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ , وَعَبْدَةُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ , اهْزِمْ الْأَحْزَابَ , اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ.
ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو فزاری اور عبدہ نے خبر دی ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب (افواج کفار) کے لیے (غزوہ خندق کے موقع پر) بددعا کی ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! جلدی حساب لینے والے! کفار کے لشکر کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے۔ یا اللہ! ان کی طاقت کو متزلزل کر دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4115]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افواجِ کفار پر بایں الفاظ بددعا فرمائی: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے، جلدی حساب لینے والے، لشکرِ کفار کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے اور ان کی طاقت کو متزلزل کر دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة