🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4310
وَقَالَ النَّضْرُ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: فَقَالَ: لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ أَوْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
نضر نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے سنا کہ جب میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی یا (فرمایا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پھر ہجرت کہاں رہی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4310]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہجرت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہے، یا فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4311
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ".
مجھ سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عبدہ بن ابی لبابہ نے، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4311]
مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4312
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: زُرْتُ عَائِشَةَ، مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَسَأَلَهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ:" لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ، كَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ، فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ".
ہم سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبید نے ان سے ہجرت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ پہلے مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پناہ لینے کے لیے آتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں دین کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ اس لیے اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا تو مسلمان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو صرف جہاد اور جہاد کی نیت کا ثواب باقی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4312]
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں عبید بن عمیر کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گیا تو انہوں نے ان سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آج ہجرت باقی نہیں رہی کیونکہ پہلے آدمی اپنے دین کو بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگتا تھا، مبادا دین کی وجہ سے کسی فتنے میں مبتلا ہو جائے۔ آج فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دیا ہے، اس لیے مومن جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے، لیکن جہاد اور ہجرت (کی نیت کا ثواب) باقی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4312]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4313
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَلَمْ تَحْلِلْ لِي قَطُّ إِلَّا سَاعَةً مِنَ الدَّهْرِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ، فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ حَلَالٌ"، وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِ هَذَا أَوْ نَحْوِ هَذَا، رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو حسن بن مسلم نے خبر دی اور انہیں مجاہد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا، اسی دن اس نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دے دیا تھا۔ پس یہ شہر اللہ کے حکم کے مطابق قیامت تک کے لیے حرمت والا رہے گا۔ جو مجھ سے پہلے کبھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ یہاں حدود حرم میں شکار کے قابل جانور نہ چھیڑے جائیں۔ یہاں کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے اور یہاں پر گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور کسی کے لیے اٹھانی جائز نہیں۔ اس پر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر (گھاس) کی اجازت دے دیجئیے کیونکہ سناروں کے لیے اور مکانات (کی تعمیر وغیرہ) کے لیے یہ ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر فرمایا اذخر اس حکم سے الگ ہے اس کا (کاٹنا) حلال ہے۔ دوسری روایت ابن جریج سے (اسی سند سے) ایسی ہی ہے انہوں نے عبدالکریم بن مالک سے، انہوں نے ابن عباس سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4313]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا اسی دن اس نے مکے کو حرمت والا قرار دے دیا تھا۔ یہ شہر اللہ کے حرام ٹھہرانے سے قیامت تک کے لیے حرمت والا ہے۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ یہاں حدودِ حرم میں شکار کے قابل کسی جانور کو نہ چھیڑا جائے۔ یہاں کے کانٹے دار درخت بھی نہ کاٹے جائیں، اور نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے، نیز یہاں پر گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس کے اعلان کا ارادہ رکھتا ہو۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اذخر گھاس کی اجازت دیں کیونکہ وہ لوہاروں اور گھروں کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اذخر اس سے مستثنیٰ ہے۔ چنانچہ یہ تمہارے لیے حلال ہے۔ دوسری روایت ابن جریج سے ایسے ہی ہے، انہوں نے عبدالکریم سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں