صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. بَابُ قُدُومُ الأَشْعَرِيِّينَ وَأَهْلِ الْيَمَنِ:
باب: قبیلہ اشعر اور اہل یمن کی آمد کا بیان۔
حدیث نمبر: Q4384
وَقَالَ أَبُو مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ".
اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ اشعری لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4384]
حدیث نمبر: 4384
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں اور میرے بھائی ابورحم یا ابوبردہ یمن سے آئے تو ہم (ابتداء میں) بہت دنوں تک یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات دن بہت آیا جایا کرتے تھے اور ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4384]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں اور میرا بھائی یمن سے آئے ہیں۔ ہم کچھ عرصہ (مدینہ طیبہ میں) ٹھہرے۔ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ ماجدہ کو اہل بیت ہی سے گمان کرتے تھے کیونکہ یہ حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بکثرت آتے جاتے اور آپ کے ہاں اکثر رہتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4384]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4385
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَبُو مُوسَى أَكْرَمَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ جَرْمٍ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَهُ وَهُوَ يَتَغَدَّى دَجَاجًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ، فَدَعَاهُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنْ يَمِينِكَ، إِنَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَأَبَى أَنْ يَحْمِلَنَا، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُتِيَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا، قُلْنَا: تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا، قَالَ:" أَجَلْ، وَلَكِنْ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے زہدم نے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ (کوفہ کے امیر بن کر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں) آئے تو اس قبیلہ جرم کا انہوں نے بہت اعزاز کیا۔ زہدم کہتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ مرغ کا ناشتہ کر رہے تھے۔ حاضرین میں ایک اور صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کھانے پر بلایا تو ان صاحب نے کہا کہ جب سے میں نے مرغیوں کو کچھ (گندی) چیزیں کھاتے دیکھا ہے، اسی وقت سے مجھے اس کے گوشت سے گھن آنے لگی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آؤ بھائی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ ان صاحب نے کہا لیکن میں نے اس کا گوشت نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم آ تو جاؤ میں تمہیں تمہاری قسم کے بارے میں بھی علاج بتاؤں گا۔ ہم قبیلہ اشعر کے چند لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے (غزوہ تبوک کے لیے) جانور مانگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے۔ ہم نے پھر آپ سے مانگا تو آپ نے اس مرتبہ قسم کھائی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے لیکن ابھی کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ غنیمت میں کچھ اونٹ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے پانچ اونٹ ہم کو دلائے۔ جب ہم نے انہیں لے لیا تو پھر ہم نے کہا کہ یہ تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دیا۔ آپ کو غفلت میں رکھا، قسم یاد نہیں دلائی۔ ایسی حالت میں ہماری بھلائی کبھی نہیں ہو گی۔ آخر میں آپ کے پاس آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے پھر آپ نے سواری دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن جب بھی میں کوئی قسم کھاتا ہوں اور اس کے سوا دوسری صورت مجھے اس سے بہتر نظر آتی ہے تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے (اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4385]
حضرت زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے قبیلہ جَرم کا بہت اعزاز و احترام کیا۔ ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے تھے جبکہ آپ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کھانے پر بلایا تو ان صاحب نے کہا: جب سے میں نے ان مرغیوں کو کچھ چیزیں کھاتے دیکھا ہے، اسی وقت سے مجھے ان کے گوشت سے گھن آنے لگی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آؤ، میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔“ اس نے کہا: لیکن میں نے اس کا گوشت نہ کھانے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آؤ میں تمہاری قسم کے متعلق بھی تمہیں بتاتا ہوں۔ ہمارے قبیلہ اشعر کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سواریاں مانگنے لگے۔ آپ نے ہمیں سواریاں مہیا کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے پھر سواری کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ ہمیں سواری مہیا نہیں کریں گے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ آپ کے پاس غنیمت کے اونٹ آ گئے۔ آپ نے ان میں سے پانچ اونٹ ہمیں دینے کا حکم دیا۔ جب ہم نے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا تو ہمیں خیال آیا کہ ہم نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم سے غافل کر دیا ہے۔ اس کے بعد تو ہم کسی صورت میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو ہمیں سواریاں نہ دینے کی قسم اٹھائی تھی جبکہ اب آپ نے ہمیں سواریاں مہیا کر دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ایسا ہی ہے لیکن جب میں کسی بات پر قسم اٹھا لیتا ہوں پھر اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت مجھے بہتر نظر آئے تو وہی کرتا ہوں جو اچھا اور بہتر ہوتا ہے (اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں)۔“““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4386
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ"، قَالُوا: أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4386]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تمہیں بشارت ہو۔“ انہوں نے کہا: ”جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو مال بھی دیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ اس کے بعد یمن سے کچھ لوگ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل یمن! تم ہی بشارت قبول کر لو جبکہ بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! ہم یہ بشارت قبول کرتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4386]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4387
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْإِيمَانُ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ وَالْجَفَاءُ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور بےرحمی اور سخت دلی اونٹ کی دم کے پیچھے پیچھے چلانے والوں میں ہے، جدھر سے شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں (یعنی مشرق) قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4387]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہاں ہے۔“ آپ نے اپنے دست مبارک سے یمن کی طرف اشارہ فرمایا: ”بے رحمی اور سخت دلی ربیعہ اور مضر میں ہے جو اونٹوں کی دموں کے پاس اپنی آوازیں بلند کرتے ہیں، جہاں شیطان کے دو سینگ طلوع ہوں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4387]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ"، وَقَالَ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آ گئے ہیں، ان کے دل کے پردے باریک، دل نرم ہوتے ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں۔ اور غندر نے بیان کیا اس حدیث کو شعبہ سے، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4388]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس یمن کے لوگ آئیں گے جو رقیق القلب اور نرم مزاج ہیں۔ ایمان یمن ہی کا عمدہ اور حکمت بھی یمن ہی کی اچھی ہے۔ فخر و تکبر اونٹوں والوں میں ہے اور سکون و وقار بکریوں والوں میں ہے۔“ اس حدیث کو غندر نے شعبہ سے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4388]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4389
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِتْنَةُ هَا هُنَا هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابن بلال نے، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمن کا ہے اور فتنہ (دین کی خرابی) ادھر سے ہے اور ادھر ہی سے شیطان کے سر کا کونا نمودار ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4389]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان تو یمن کا ہے اور دین کی خرابی ادھر (مشرق) سے ہوگی اور ادھر ہی سے شیطان کا سینگ نمودار ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4389]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4390
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل رقیق القلب ہیں، دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4390]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ہاں اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل اور رقیق القلب ہیں۔ دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4390]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4391
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَجَاءَ خَبَّابٌ، فَقَالَ" يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلَاءِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَءُوا كَمَا تَقْرَأُ؟" قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْكَ"، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ:" اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ"، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ:" أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا؟" قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْمِكَ وَقَوْمِهِ، فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" كَيْفَ تَرَى؟" قَالَ:" قَدْ أَحْسَنَ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا وَهُوَ يَقْرَؤُهُ"، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى؟" قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ" فَأَلْقَاهُ.رَوَاهُ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مشہور صحابی تشریف لائے اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا یہ نوجوان لوگ (جو تمہارے شاگرد ہیں) اسی طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں کسی سے تلاوت کے لیے کہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: علقمہ! تم پڑھو، زید بن حدیر، زیاد بن حدیر کے بھائی، بولے آپ علقمہ سے تلاوت قرآن کے لیے فرماتے ہیں حالانکہ وہ ہم سب سے اچھے قاری نہیں ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے حق میں فرمائی تھی۔ خیر علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے سورۃ مریم کی پچاس آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہو کیسا پڑھتا ہے؟ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا بہت خوب پڑھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو آیت بھی میں جس طرح پڑھتا ہوں علقمہ بھی اسی طرح پڑھتا ہے، پھر انہوں نے خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، تو کہا: کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ یہ انگوٹھی پھینک دی جائے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج کے بعد آپ یہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے انگوٹھی اتار دی۔ اسی حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4391]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہا: ”اے ابو عبدالرحمٰن! کیا یہ نوجوان آپ کی طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں؟“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے ہو تو میں ان میں سے کسی کو حکم کرتا ہوں کہ وہ قرآن پڑھے۔“ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”اے علقمہ! تم قرآن پڑھو۔“ یہ سن کر زیاد بن حدیر کے بھائی زید بن حدیر نے کہا: ”آپ علقمہ کو قرآن پڑھنے کا حکم دیتے ہیں، حالانکہ وہ ہم سے اچھا قرآن پڑھنے والا نہیں۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر تم چاہو تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناؤں جو آپ نے تمہاری قوم اور اس کی قوم کے متعلق ارشاد فرمائی تھی۔“ حضرت علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سورہ مریم کی پچاس آیات پڑھ کر سنائیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کہو کیسا پڑھتا ہے؟“ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بہت خوب پڑھا۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو آیت میں پڑھتا ہوں علقمہ اسی طرح پڑھتا ہے۔“ پھر انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ اسے پھینک دیا جائے؟“ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آج کے بعد آپ یہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے۔“ چنانچہ انہوں نے انگوٹھی کو اتار پھینکا۔ اس حدیث کو غندر نے شعبہ سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4391]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة