مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سلام کرنے کے آداب
حدیث نمبر: 795
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ زِيَادًا أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالَأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جب یہ آیت: ”جو شخص برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر گراں گزرا اور انہیں سخت تکلیف پہنچی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب رہو اور میانہ روی اختیار کرو، مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، اس میں اس کے لیے کفارہ ہے حتیٰ کہ اسے کانٹا بھی چبھ جائے (تو یہ بھی باعث کفارہ ہے)۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البر و الصلة/حدیث: 795]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الاستذان، باب تسليم الراكب على الماشي، رقم: 6232 . مسلم، كتاب السلام، باب بسلم الراكب على الماشي الخ، رقم: 2160 . سنن ابوداود، رقم: 5199 . سنن ترمذي، رقم: 2703 . ادب المفرد، رقم: 993 .»