🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب مَنْ قَالَ الْعِلْمُ الْخَشْيَةُ وَتَقْوَى اللَّهِ:
اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: "الْفَقِيهُ حَقُّ الْفَقِيهِ الَّذِي لَا يُقَنِّطُ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَلَا يُؤَمِّنُهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، وَلَا يُرَخِّصُ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ، إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا، وَلَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ، وَلَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا".
سیدنا على رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حقیقی معنوں میں فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے مامون قرار دے، اور نہ انہیں اللہ کی نافرمانی کی اجازت دے، جس عبادت میں علم نہ ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں، اور جس علم میں فہم نہیں اس میں بھی کوئی بھلائی نہیں، اور جس قرأت میں تدبر نہیں اس میں بھی کوئی خیر نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 306] »
اس اثر کی سند بھی ضعیف ہے، جیسا کہ ابھی گزر چکا ہے، اور موقوف بھی ہے، لیکن اس کا شمار اقوال زرین میں ہوسکتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ تُبَيْعًا يُحَدِّثُ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: "إِنِّي لَأَجِدُ نَعْتَ قَوْمٍ يَتَعَلَّمُونَ لِغَيْرِ الْعَمَلِ، وَيَتَفَقَّهُونَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ، وَيَطْلُبُونَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ، وَيَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ، وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنْ الصَّبْرِ، فَبِي يَغْتَرُّونَ، أَوْ إِيَّايَ يُخَادِعُونَ؟ فَحَلَفْتُ بِي لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَتْرُكُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ".
کعب (الأحبار) نے کہا: پہلی کتب میں ایسی قوم کی صفت پاتا ہوں جو بنا عمل کے لئے تعلیم حاصل کریں گے، اور عبادت کے علاوہ میں فقہ سیکھیں گے، اور اخروی عمل کے بدلے دنیا طلب کریں گے، جو بھیڑ کی کھال پہنیں گے، دل ان کے ایلوے سے زیادہ کڑوے ہوں گے، وہ میرے ذریعے دھوکہ دہی کریں گے اور مجھ ہی کو دھوکہ دیں گے، میں نے اپنی قسم کھائی ہے کہ ان کے لئے ایسا فتنہ برپا کروں گا جس میں حلیم و بردبار بھی حیران ہوں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 307] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [شعب الإيمان 1918] ، [جامع بيان العلم 1141] لیکن ان کی سند میں بھی انقطاع ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ هَرِمِ بْنِ حَيَّانَ، أَنَّهُ قَالَ:"إِيَّاكُمْ وَالْعَالِمَ الْفَاسِقَ، فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأَشْفَقَ مِنْهَا، مَا الْعَالِمُ الْفَاسِقُ؟، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ هَرِمٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهِ إِلَّا الْخَيْرَ: يَكُونُ إِمَامٌ يَتَكَلَّمُ بِالْعِلْمِ، وَيَعْمَلُ بِالْفِسْقِ، فَيُشَبِّهُ عَلَى النَّاسِ، فَيَضِلُّونَ".
ہرم بن حیان نے کہا: فاسق عالم سے بچو، یہ خبر جب سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہیں لکھا اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے ڈر گئے، پوچھا فاسق عالم سے تمہاری مراد کیا ہے؟ ہرم نے جواب دیا: والله يا امیر المومنین! میری مراد اس سے خیر ہی تھی، کوئی امام ایسا ہوتا ہے کہ علم کی بات تو کرتا ہے لیکن کام فسق و فجور کے کرتا ہے، اور لوگوں کو شبہ میں ڈال دیتا ہے، پس وہ گمراہ ہو جاتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 308] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 131/7] ۔ نیز ذہبی نے اس روایت کو سیر میں بلا سند ذکر کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "مَنْ أَرَادَ أَنْ يُكْرَمَ دِينُهُ، فَلَا يَدْخُلْ عَلَى السُّلْطَانِ، وَلَا يَخْلُوَنَّ بِالنِّسْوَانِ، وَلَا يُخَاصِمَنَّ أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے جو اپنے دین کی تعظیم کرنا چاہے وہ سلطان کے پاس نہ جائے، اور عورتوں کے ساتھ خلوت نہ کرے، اور خواہش کے بندوں سے جھگڑا نہ کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن الوليد بن مسلم قد عنعن وهو مدلس والإسناد منقطع وربما كان معضلا، [مكتبه الشامله نمبر: 309] »
یہ روایت منقطع ہے، اور ولید بن مسلم مدلس ہیں اور ”عن“ سے روایت کیا ہے جس میں عدم لقاء کا احتمال ہے، اس لئے یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں ہوسکتا، نیز صرف امام دارمی نے اسے ذکر کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ: "إِيَّاكَ وَالْخُصُومَةَ وَالْجِدَالَ فِي الدِّينِ، وَلَا تُجَادِلَنَّ عَالِمًا، وَلَا جَاهِلًا، أَمَّا الْعَالِمُ، فَإِنَّهُ يَخْزَنُ عَنْكَ عِلْمَهُ، وَلَا يُبَالِي مَا صَنَعْتَ، وَأَمَّا الْجَاهِلُ، فَإِنَّهُ يُخَشِّنُ بِصَدْرِكَ وَلَا يُطِيعُكَ".
یونس (بن عبید) نے کہا کہ میمون بن مہران نے مجھے لکھا: دین میں جنگ و جدال سے بچو، اور عالم و جاہل کسی سے جھگڑا نہ کرو، عالم سے اس لئے نہیں کہ وہ اپنے علم کو تم سے بچا لے گا، اور جو تم نے کیا اس کی پرواہ نہ کرے گا، اور جاہل سے اس لئے جھگڑا نہ کرنا کیونکہ وہ تم پر غضبناک ہو کر تمہاری اطاعت چھوڑ دے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 310] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 82/4] ، [الإكمال 254/2] ، [الانساب 188/3] ، اور اس کا شاہد بھی [زهد ابن المبارك 50] ، اور [ترمذي 2406، 2407] میں موجود ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام لِابْنِهِ: "دَعْ الْمِرَاءِ، فَإِنَّ نَفْعَهُ قَلِيلٌ، وَهُوَ يُهَيِّجُ الْعَدَاوَةَ بَيْنَ الْإِخْوَانِ".
یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ سلیمان بن داؤد علیہم السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا: جھگڑا کرنا چھوڑ دو کیونکہ اس سے فائدہ کم ہے، اور یہ بھائیوں کے درمیان عداوت کو ہوا دیتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 311] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے اور «انفرد به الدارمي» ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: "مَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ، أَكْثَرَ التَّنَقُّلَ".
اسماعیل بن ابی حکیم نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز کو سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے اپنے دین کو جھگڑوں کا نشانہ بنایا (اس کا) تنقل زیادہ ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 312] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 273/5] ، [إبانة 566-569] ، [أصول اعتقاد أهل السنة 216] ، [الشريعة ص: 62] ، [الفقيه 235/1] ، [جامع بيان العلم 1770]
وضاحت: (تشریح احادیث 301 سے 311)
تنقل کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگ منتقل ہونا یا ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے، یعنی بار بار اپنی رائے یا قول بدلنا ہے۔
«كما قاله الدارمي» ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ: "أَنَّهُ مَنْ تَعَبَّدَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، كَانَ مَا يُفْسِدُ أَكْثَرَ مِمَّا يُصْلِحُ، وَمَنْ عَدَّ كَلَامَهُ مِنْ عَمَلِهِ، قَلَّ كَلَامُهُ إِلَّا فِيمَا يَعْنِيهِ، وَمَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ، كَثُرَ تَنَقُّلُهُ".
عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے اہل مدینہ کو لکھا کہ جو شخص بنا علم عبادت کرے (یا عبادت کے لئے علاحدگی اختیار کرے) وہ اصلاح سے زیادہ بگاڑ پھیلائے گا، اور جو اپنے کلام کا عمل سے موازنہ کرے تو اس کا کلام بقدر ضرورت ہو جائے گا، اور جو اپنے دین کو جھگڑوں کا نشانہ بنائے اس کا تنقل زیادہ ہو جائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع سعيد بن عبد العزيز لم يدرك عمر بن عبد العزيز فيما نعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 313] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لیکن رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 132] ، [الفقيه 19/1] ، [الزهد لأحمد 302] خطیب کا شاہد صحیح ہے اس لئے اس روایت کا معنی صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ الْأَهْوَاءِ، فَقَالَ: "عَلَيْكَ بِدِينِ الْأَعْرَابِيِّ، وَالْغُلَامِ فِي الْكُتَّابِ، وَالْهَ عَمَّا سِوَى ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: كَثُرَ تَنَقُّلُهُ، أَيْ: يَنْتَقِلُ مِنْ رَأْيٍ إِلَى رَأْيٍ.
جعفر بن برقان سے مروی ہے عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ سے کسی شخص نے خواہشات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: اعرابی اور غلام کے دین کو لازم پکڑو، اور جو اس کے ماسوا ہے اسے بھول جاؤ۔ امام دارمی نے کہا: «كثر تنقله» سے مراد: ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع جعفر بن برقان لم يدرك عمر بن عبد العزيز، [مكتبه الشامله نمبر: 314] »
اس روایت کی سند منقطع ہے، اور صرف لالکائی نے [شرح أصول أهل السنة 250] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 311 سے 313)
ان تمام روایات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ عالمِ دین کو باعمل، متواضع، مخلص اور باوقار ہونا چاہئے، غرور، گھمنڈ، ہٹ دھرمی، خودغرضی، فضول قسم کی قیل و قال سے اسے دور رہنا چاہئے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں