🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21308
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَةَ، قُلْتُ لِأَصْحَابِي: تَقَدَّمُوا وَتَخَلَّفْتُ، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ يُصَلِّي، فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ، وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً، وَحُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ" .
مخارق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج کے ارادے سے نکلے جب ہم مقام ربذہ میں پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم آگے چلو اور میں خود پیچھے رہ گیا میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے میں نے طویل قیام اور کثرت رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی طرف سے بہتر سے بہتر میں کوئی کمی نہیں کرتا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ایک رکوع یا ایک سجدہ کرتا ہے اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ معاف ہو کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21308]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المخارق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21309
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد الله، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ فَأَقَرَّ بِهِ، حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ قَنْبَرٍ حَاجِبِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُغَلِّظُ لِمُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَشَكَاهُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَإِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَإِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَإِلَى أُمِّ حَرَامٍ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ قَدْ صَحِبْتُمْ كَمَا صَحِبَ، وَرَأَيْتُمْ كَمَا رَأَى، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُكَلِّمُوهُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَجَاءَ فَكَلَّمُوهُ، فَقَالَ: أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ، فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِي، وَلَكَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيَّ، وَقَدْ كُنْتُ أَرْغَبُ بِكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أبا الدَّرْدَاءِ، فَإِنْ كَادَتْ وَفَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَفُوتَكَ، ثُمَّ أَسْلَمْتَ، فَكُنْتَ مِنْ صَالِحِي الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ، فَقَدْ جَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا أَنْتِ يَا أُمَّ حَرَامٍ، فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ، وَعَقْلُكِ عَقْلُ امْرَأَةٍ، وَأَمَّا أَنْتَ وَذَاكَ؟! قَالَ: فَقَالَ: عُبَادَةُ لَا جَرَمَ لَا جَلَسْتُ مِثْلَ هَذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تلخ باتیں کرتے تھے جس کی شکایت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ عنہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ کے سامنے کی اور فرمایا کہ جیسے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے آپ لوگوں کو بھی یہ شرف حاصل ہے اور جس طرح انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے آپ نے بھی کی ہے آپ لوگ مناسب سمجھیں تو ان سے بات کریں انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو بلایا۔جب وہ آگئے تو مذکورہ حضرات نے ان سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا اے ابو الولید! آپ نے تو مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا ہے آپ عمر اور فضیلت میں مجھ سے بڑھ کر ہیں میں ایسی مجلس سے آپ کو بچنے کی ترغیب دیتا ہوں اور اے ابودرداء آپ نے اسلام اس وقت قبول کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا زمانہ قریب آگیا تھا آپ نیک مسلمان ہیں اور اے عمرو بن عاص! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ سے جہاد کیا ہوا ہے اور اے ام حرام! آپ ایک عورت ہیں اور آپ کی عقل بھی عورت والی ہے آپ اس معاملے میں نہ پڑیں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ کر کہنے لگے یہ بات طے ہوگئی کہ آج کے بعد ایسی مجالس میں نہیں بیٹھوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21309]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وفي بعض حروفه نكارة، قنبر مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21310
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ، وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا، وَلِسَانَهُ صَادِقًا، وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً، وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً، وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً، وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً، فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ، وَالْعَيْنُ بِمُقِرَّةٍ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ، وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے دل کو ایمان کے لئے خالص کرلیا اور اسے قلب سلیم، لسان صادق، نفس مطمئنہ اور اخلاق حسنہ عطاء کئے گئے ہوں اس کے کانوں کو شنوائی اور آنکھوں کو بینائی دی گئی ہو اور کانوں کی مثال پیندے کی سی ہے جبکہ آنکھ دل میں محفوظ ہونے والی چیزوں کو ٹھکانہ فراہم کرتی ہے اور وہ شخص کامیاب ہوگیا جس کا دل محفوظ کرنے والا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21310]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بقية لم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات السند، وخالد بن معدان كان يرسل، ولم يصرح بسماعه من أبى ذر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21311
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ عَمِلْتَ قِرَابَ الْأَرْضِ خَطَايَا وَلَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا، جَعَلْتُ لَكَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہ کرے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش تیرے لئے مقرر کردوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21311]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2687
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21312
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ، وَأَخَّرُوا السُّحُورَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21312]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وسليمان بن أبى عثمان وعدي بن حاتم مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21313
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ، قَالَ: وَمَا كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى رَبَّهُ؟ قَالَ: فَإِنِّي قَدْ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " قَدْ رَأَيْتُهُ نُورًا، أَنَّى أَرَاهُ؟!"، قَالَ عَفَّانُ: وَبَلَغَنِي عَنْ ابْنِ هِشَامٍ يَعْنِي مُعَاذًا، أَنَّهُ رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ كَمَا قَالَ هَمَّامٌ:" قَدْ رَأَيْتُهُ" .
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کاش! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں؟ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21313]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21314
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، فَيُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَهُوَ مِنِّي مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ، وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، فَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں چنانچہ رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مہینے کی مسافت پر ہی دشمن مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، روئے زمین کو میرے لئے سجدہ گاہ اور باعث طہارت قرار دے دیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ مانگیے آپ کو دیا جائے گا تو میں نے اپنا یہ حق اپنی امت کی سفارش کے لئے محفوظ کرلیا ہے اور یہ شفاعت تم میں سے ہر اس شخص کو مل کر رہے گی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21314]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21315
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ: " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ، وَالسَّيِّئَةُ بِوَاحِدَةٍ أَوْ أَغْفِرُ، وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي، لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً" ، قَالَ: وَقُرَابُ الْأَرْضِ مِلْءُ الْأَرْضِ،
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق ومصدوق نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کرسکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں اور اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21315]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2687، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21316
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21316]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2687، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21317
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُصَلِّي يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ لَا يَقْعُدُ، فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا يَدْرِي يَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ وِتْرٍ، فَقَالُوا: أَلَا تَقُومُ إِلَيْهِ فَتَقُولَ لَهُ؟! قَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا أَرَاكَ تَدْرِي تَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وَتْرٍ، قَالَ: وَلَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ سَجْدَةً، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً"، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي، فَقُلْتُ: جَزَاكُمْ اللَّهُ مِنْ جُلَسَاءَ شَرًّا، أَمَرْتُمُونِي أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں قریش کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا وہ رکوع سجدہ کرتا پھر کھڑا ہو کر رکوع سجدہ کرتا اور درمیان میں نہ بیٹھتا، میں نے کہا بخدا! یہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں جانتا کہ جفت یا طاق رکعتوں پر سلام پھیر کر فارغ ہوجائے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر ان کے پاس جاتے اور انہیں سمجھاتے کیوں نہیں ہو؟ میں اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا اور اس سے کہا کہ اے بندہ خدا! لگتا ہے کہ آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ جفت یا طاق رکعتوں پر نماز سے فارغ ہوجائیں، اس نے کہا کہ اللہ تو جانتا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے کوئی سجدہ کرتا ہے اللہ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیتا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ابوذر ہوں تو میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آکر کہا کہ اللہ تمہیں تمہارے ساتھیوں کی طرف سے برا بدلہ دے تم نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو دین سکھانے کے لئے بھیج دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21317]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں