🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ الْعَامِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ، يَرْكَعُ بِهَا وَيَسْجُدُ بِهَا إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا زِلْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ تَرْكَعُ بِهَا وَتَسْجُدُ بِهَا! قَالَ: " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِيهَا، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی اور ساری رات صبح تک ایک ہی آیت رکوع و سجود میں پڑھتے رہے کہ اے اللہ " اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کر دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے " جب صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صبح تک ساری رات رکوع و سجود میں مسلسل ایک ہی آیت پڑھتے رہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے سفارش کا حق مانگا تھا جو اس نے مجھے عطاء کردیا ہے اور ان شاء اللہ یہ ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21328]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ . ومَنْصُورٍ ، عَنْ زَيْد بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا؟" قُلْتُ: أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي ذَهَبًا قِطَعًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا"، قَالَ: قُلْتُ: قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قِيرَاطًا" قَالَهَا: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي أَقَلُّ، وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبل احد کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے پوچھا ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ احد پہاڑ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ میرے لئے سونے کا بن جائے جس میں سے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں اور ایک قیراط بھی چھوڑ دوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قنطار؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ایک قیراط پھر فرمایا ابوذر! میں تو کم از کم کی بات کر رہا ہوں، زیادہ کی بات ہی نہیں کر رہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21329]

حکم دارالسلام: هذا الحديث له اسنادان، اما الاول فضعيف لضعف سالم بن ابي حفصة، وسالم بن ابي الجعد حديثه منقطع عن ابي ذر. واما اسناده الثاني فصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21330
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَى" .
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا اسے کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21330]

حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21331
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ:" تُعِينُ صَانِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" كُفَّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21331]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2518، م: 84
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21332
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يُحَرِّكْ الْحَصَى" أَوْ" لَا يَمَسَّ الْحَصَى" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا اسے کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21332]

حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21333
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ" قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى" قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" أَرْبَعُونَ سَنَةً" قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ، فَكُلُّهَا مَسْجِدٌ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وفقہ تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21333]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21334
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ سَمِعْنَاهُ مِنَ اثْنَيْنِ وَثَلَاثَةٍ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، قَالَ عُمَرُ مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرّ : أَنَا" أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِ الْبِيضِ الْغُرِّ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" .
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ " یوم القاحہ " کے موقع پر تم میں سے کون موجود تھا؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں موجود تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو ایام بیض یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21334]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف حكيم بن جبير ، وقد توبع، وابن الحوتكية مجهول، وقد اختلف فيه على موسى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21335
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا اثْنَانِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَة : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَحَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَهُ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21335]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21336
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21336]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَجْلَحَ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21337]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل الأجلح، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں