مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21338
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَنِ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21338]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21339
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَلَمْ أَجِدْهُ، وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ، فَجَاءَ يَقُودُ أَوْ يَسُوقُ بَعِيرَيْنِ قَاطِرًا، أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ، فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ، فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ، وَلَا أَبْغَضَ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ! قَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ، وَمَا يَجْمَعُ هَذَا؟! قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا، وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي! فَقَالَ: أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ، ثُمَّ عَاجَ بِرَأْسِهِ إِلَى الْمَرْأَةِ فَأَمَرَ لِي بِطَعَامٍ فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمَرَهَا فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ، حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، قَالَ: إِيهًا دَعِينَا عَنْكِ، فَإِنَّكُنَّ لَنْ تَعْدُونَ مَا قَالَ لَنَا: فِيكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: وَمَا قَالَ لَكُمْ: فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " الْمَرْأَةُ ضِلَعٌ، فَإِنْ تَذْهَبْ تُقَوِّمُهَا تَكْسِرْهَا، وَإِنْ تَدَعْهَا فَفِيهَا أَوَدٌ وَبُلْغَةٌ"، فَوَلَّتْ فَجَاءَتْ بِثَرِيدَةٍ كَأَنَّهَا قَطَاةٌ، فَقَالَ: كُلْ وَلَا أَهُولَنَّكَ، إِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ يُهَذِّبُ الرُّكُوعَ وَيُخَفِّفُهُ، وَرَأَيْتُهُ يَتَحَرَّى أَنْ أَشْبَعَ أَوْ أُقَارِبَ، ثُمَّ جَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ مَعِي، فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ! فَقَالَ: مَا لَكَ؟ فَقُلْتُ: مَنْ كُنْتُ أَخْشَى مِنَ النَّاسِ أَنْ يَكْذِبَنِي، فَمَا كُنْتُ أَخْشَى أَنْ تَكْذِبَنِي! قَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ إِنْ كَذَبْتُكَ كِذْبَةً مُنْذُ لَقِيتَنِي، فَقَالَ: أَلَمْ تُخْبِرْنِي أَنَّكَ صَائِمٌ، ثُمَّ أَرَاكَ تَأْكُلُ؟!، قَالَ: بَلَى، إِنِّي صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ، فَوَجَبَ لِي أَجْرُهُ، وَحَلَّ لِي الطَّعَامُ مَعَكَ .
نعیم بن قعنب ریاحی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ نہیں ملے میں نے ان کی اہلیہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زمین میں گئے ہیں تھوڑی دیر میں وہ دو اونٹوں کو ہانکتے ہوئے آگئے ان میں سے ایک اونٹ کا لعاب اپنے ساتھی کی سرین پر گر رہا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک ایک مشکیزہ تھا انہوں نے وہ دونوں مشکیزے اتارے تو میں نے عرض کیا اے ابوذر! مجھے آپ کی نسبت کسی دوسرے سے ملنے کی محبت تھی اور نہ ہی کسی سے اتنی نفرت تھی جتنی آپ سے ملنے کی تھی انہوں نے فرمایا بھئی! یہ دونوں چیزیں کیسے جمع ہوسکتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا مجھے آپ سے ملاقات کرنے میں یہ امید تھی کہ آپ مجھے توبہ اور بچاؤ کا کوئی راستہ بتائیں گے (اس لئے آپ سے ملنے کی خواہش تھی) لیکن آپ سے ملنے میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ کا کوئی راستہ نہیں ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ کام تم سے زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا اللہ نے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے اپنی بیوی کو میرے لئے کھانا لانے کا حکم دیا لیکن اس نے توجہ نہ دی انہوں نے دوبارہ اس سے کہا لیکن اس نے اس مرتبہ بھی توجہ نہ دی یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم سے پیچھے ہی رہو تم لوگ اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے متعلق ہم سے بیان فرما دی تھیں میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے ان کے متعلق کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے یہ فرمان ذکر کیا کہ عورت ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اسے یونہی چھوڑو گے تو اس ٹیڑھے پن اور بیوقوفی کے ساتھ ہی گذارہ کرنا پڑے گا۔ یہ سن کر وہ واپس چلی گئی اور تھوڑی دیر میں " قطاہ " کی طرح بنا ہوا ثرید لے آئی، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کھاؤ اور میری فکر نہ کرنا کیونکہ میں روزے سے ہوں پھر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے وہ اچھے لیکن ہلکے رکوع کرنے لگے میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سیراب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ آئے اور میرے ساتھ کھانے میں اپنا ہاتھ بھی شامل کرلیا میں نے یہ دیکھ کر " اناللہ " پڑھا انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ عام آدمی کے متعلق تو مجھے یہ اندیشہ ہوسکتا تھا کہ وہ مجھ سے غلط بیانی کرسکتا ہے لیکن آپ کے متعلق یہ اندیشہ نہیں تھا انہوں نے فرمایا بخدا! جب سے تمہاری مجھ سے ملاقات ہوئی ہے میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا میں نے کہا کہ کیا آپ ہی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ آپ روزے سے ہیں پھر میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کھا بھی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے اس مہینے میں تین روزے رکھ لئے تھے جن کا اجر میرے لئے ثابت ہوچکا اور اب تمہارے ساتھ کھانا میرے لئے حلال ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21339]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 21340
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ ابْنِ الْأَحْمَسِي ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَقُلْتُ لَهُ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا تَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، فَمَا الَّذِي بَلَغَكَ عَنِّي؟ قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ" قَالَ: قُلْتُ: وَسَمِعْتَهُ، قُلْتُ: فَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُحِبُّ اللَّهُ؟ قَالَ:" الرَّجُلُ يَلْقَى الْعَدُوَّ فِي الْفِئَةِ فَيَنْصِبُ لَهُمْ نَحْرَهُ حَتَّى يُقْتَلَ، أَوْ يُفْتَحَ لِأَصْحَابِهِ، وَالْقَوْمُ يُسَافِرُونَ فَيَطُولُ سُرَاهُمْ حَتَّى يُحِبُّوا أَنْ يَمَسُّوا الْأَرْضَ، فَيَنْزِلُونَ فَيَتَنَحَّى أَحَدُهُمْ، فَيُصَلِّي حَتَّى يُوقِظَهُمْ لِرَحِيلِهِمْ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْجَارُ يُؤْذِيهِ جِوَارُهُ، فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا مَوْتٌ أَوْ ظَعْنٌ"، قُلْتُ: وَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ؟ قَالَ:" التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوْ قَالَ الْبَائِعُ: الْحَلَّافُ، وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ" .
ابن احمس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمہارے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کروں گا جبکہ میں نے وہ بات سنی بھی ہو وہ کون سی حدیث ہے جو تمہیں میرے حوالے سے معلوم ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! یہ بات میں نے کہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21340]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبن الأحمس مجهول، وقد اختلف على أبى العلاء فى إسناده
حدیث نمبر: 21341
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ: مَا بَالُكَ؟ قَالَ: لِي عَمَلِي، قُلْتُ: حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا"، قُلْتُ: حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ"، قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ:" إِنْ كَانَتْ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ" .
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے پاس کون سا مال ہے؟ انہوں نے فرمایا میرا مال میرے اعمال ہیں میں نے ان سے کوئی حدیث بیان کرنے کی فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کی بخشش فرما دے گا۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی اور حدیث سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے دو جوڑے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان اس کے سامنے آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ مقام کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا اگر بہت سارے غلام ہوں تو دو غلاموں کو آزاد کر دے اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے دے اور اگر گائیں ہوں تو دو گائے دے دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21341]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21342
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ"، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَصْفَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21342]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21343
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُوتِيتُهَا مِنْ كَنْزٍ، مِنْ بَيْتٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، وَلَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلِي" يَعْنِي الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21343]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، رجاله ثقات غير الراوي المبهم الذى روي عنه ربعي، وقد اختلف عليه فى تسميته
حدیث نمبر: 21344
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ مَنْصُورٌ: عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ، لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21344]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21345
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ، وَلَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21345]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21346
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21346]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21347
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبًا، أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا" وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: فَسَمِعْتُ لَغَطًا وَصَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتْبَعَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ:" لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ" فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى جَاءَ، فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ، فَقَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے لئے رکھ لوں بلکہ میری خواہش ہوگی کہ اللہ کے بندوں میں اس طرح تقسیم کر دوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بھر کر دائیں بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا پھر ہم دوبارہ چل پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن بکثرت مال رکھنے والے ہی قلت کا شکار ہوں گے سوائے اس کے جو اس اس طرح خرچ کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ہاتھوں سے دائیں بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ فرمایا۔ ہم پھر چل پڑے اور ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوذر! تم اس وقت تک یہیں رکے رہو جب تک میں تمہارے پاس واپس نہ آجاؤں یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کو چل پڑے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے تھوڑی دیر بعد میں نے شور کی کچھ آوازیں سنیں میں نے دل میں سوچا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آگیا ہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جانے کا سوچا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آگئی کہ میرے آنے تک یہاں سے نہ ہلنا چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے آئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آوازوں کا ذکر کیا جو میں نے سنی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو میرے پاس آئے تھے اور یہ کہا کہ آپ کی امت میں سے جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اگرچہ وہ بدکاری یا چوری ہی کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ بدکاری یا چوری ہی کرے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21347]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2388، م: 94