🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23092
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ رِدْفِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رِدْفِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ رِدْفَهُ، فَعَثَرَتْ بهِ دَابتُهُ، فَقَالَ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: " لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّهُ يَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْجَبلِ، وَيَقُولُ: بقُوَّتِي صَرَعْتُهُ، وَإِذَا قُلْتَ: بسْمِ اللَّهِ، تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّباب" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اچانک گدھا بدک گیا میرے منہ سے نکل گیا کہ شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کہو کیونکہ جب تم یہ جملہ کہتے ہو تو شیطان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی طاقت سے پچھاڑا ہے اور جب تم " بسم اللہ " کہو گے تو وہ اپنی نظروں میں اتنا حقیر ہوجائے گا کہ مکھی سے بھی چھوٹا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23092]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن اختلف فى هذا الإسناد على أبى تميمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23093
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا أَنَا بهِ قَائِمٌ، وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبلٌ عَلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً، فَجَلَسْتُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ قَامَ بكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَ:" أَتَدْرِي مَنْ هَذَا؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " ذَاكَ جِبرِيلُ يُوصِينِي بالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کر رہے ہیں بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کر رہے تھے حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار قرار دے دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں جواب ضرور دیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23093]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23094
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بعْضَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ، " مَرَّ بمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبرِهِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23094]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23095
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَمْرِو بنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ؟ قَالَ: " إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بطْنَ كُلِّ وَادٍ" .
ایک جہنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نماز عشاء کب پڑھا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات ہر وادی پر چھا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23095]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالعزيز ابن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23096
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْمُغِيرَةِ بنِ أَبي برْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ أَخْبرَهُ , أَنَّ بعْضَ بنِي مُدْلِجٍ أَخْبرَهُ , أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبحْرِ لِلصَّيْدِ، فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّفَهِ فَتُدْرِكُهُمْ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبحْرِ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنْ نَتَوَضَّأْ بمَائِنَا عَطِشْنَا، وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بمَاءِ الْبحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا! فَقَالَ لَهُمْ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر اسے پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23096]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالله بن المغيرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23097
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبي سَعِيدٍ ، قَالَ يَزِيدُ : أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ، وَمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بمَا يَجْهَرُ بهِ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" .
ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن نمازوں میں جہری قرأت فرماتے ہیں وہ تو ہمیں معلوم ہیں اور جن میں جہری قرأت نہیں فرماتے تھے انہیں جہری نمازوں پر قیاس نہیں کرسکتے لہٰذا کسی ایک رائے پر متفق ہوجاؤ تو ان میں سے دو آدمی بھی ایسے نہیں تھے جنہوں نے اس بات میں اختلاف کیا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر تلاوت فرمایا کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف مقدار کے برابر جبکہ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کی قرأت سے نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23097]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذان إسنادان ضعيفان، الأول: فيه المسعودي، وهو مختلط، ورواية يزيد بعد اختلاطه، وفيه زيد العمي ضعيف، والإسناد الثاني: فيه زيد العمي أيضا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23098
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا سُفْيَانُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَحْيَى بنِ وَثَّاب ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَظُنُّهُ ابنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا يَصْبرُ عَلَى أَذَاهُمْ" .
غالباً حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے اجروثواب میں کہیں زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا کہ ان کی تکالیف پر صبر کرنے کی نوبت آئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23098]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23099
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، عَنْ جُرَيٍّ ، قَالَ: الْتَقَى رَجُلَانِ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبهِ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سُبحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَاللَّهُ أَكْبرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ، وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ" .
بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " سبحان اللہ " نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23099]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23100
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ أَبي عَبدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بخٍ بخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ"، قَالَ رَجُلٌ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبرُ، وَسُبحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبهُ وَالِدُهُ، خَمْسٌ مَنْ اتَّقَى اللَّهَ بهِنَّ مُسْتَيْقِنًا دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَيْقَنَ بالْمَوْتِ، وَالْبعْثِ، وَالْحِسَاب" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک آزاد کردہ غلام صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں؟ اور میزان عمل میں کتنی بھاری ہیں؟ لا الہ اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمدللہ اور وہ نیک اولاد جو فوت ہوجائے اور اس کا باپ اس پر صبر کرے اور فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں؟ جو شخص ان پانچ، چیزوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ پر ایمان رکھتا ہو، آخرت کے دن پر، جنت اور جہنم پر، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23100]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23101
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي سَلْمٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبدَ اللَّهِ بنَ أَبي الْهُذَيْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِب لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِي صَاحِبي: أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْلُكَ:" تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ" مَاذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے تو پھر انسان کے پاس کیا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور آخرت کے کاموں میں تعاون کرنے والی بیوی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23101]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل سلم بن عطية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں