🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23082
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ الشَّامِيُّ ، عَنْ حَرِيزِ بنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبي خِدَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: في الْمَاءِ، وَالْكَلَإِ، وَالنَّارِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان تین چیزوں میں مشترک ہیں پانی میں، گھاس میں اور آگ میں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23082]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23083
حَدَثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيل بنَ أَبي صَالِح ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُل مِنْ أَسلَم، قَالَ: قَاَلَ النَبيُّ صَلَّى الَّلهُ عَلَيْهِ وسَلَمَ لِرَجُل: " لو قُلتَ حِينَ أَمسَيتَ: أَعُوذُ بكَلِمَاتِ الله التَامَّات كلَّهنَّ من شرِّ ما خَلَقَ، لَم يَضُرَّك عَقْرَب حَتى تُصبح" ..

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف على سهيل بن أبى صالح فى صحابيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23084
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، وَالْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ، إِبقَاءً عَلَى أَصْحَابهِ، ولَمْ يُحَرِّمْهُمَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبي وَيَسْقِينِي" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23084]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23085
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي صَالِحٍ ذَكْوَانَ , عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً فِي حَائِطِي، فَمُرْهُ فَلْيَبعْنِيهَا أَوْ لِيَهَبهَا لِي، قَالَ: فَأَبى الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْعَلْ، وَلَكَ بهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ"، فَأَبى، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا أَبخَلُ النَّاسِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں آدمی کا ایک درخت میرے باغ میں ہے اسے کہہ دیجئے کہ یا تو وہ درخت مجھے بیچ دے یا ہبہ کر دے لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہاں تک فرمایا کہ تم ایسا کرلو اس کے بدلے تمہیں جنت میں ایک درخت ملے گا لیکن وہ پھر بھی نہ مانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بخیل انسان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23085]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23086
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَمِّهَا ، قَالَ: إِنِّي لَبسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، عَلَيَّ برْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبهَا، قَالَ: فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بمِخْصَرَةٍ، فَقَالَ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّهُ أَبقَى وَأَنْقَى"، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23086]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمة أشعث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23087
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ قُرْمٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَمَّتِهِ رُهْمٍ ، عَنْ عُبيْدَةَ بنِ خَلَفٍ ، قَالَ: قدمت المدينة وَأَنَا شَاب مُتَأَزِّرٌ ببرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بمِخْصَرَةٍ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبكَ كَانَ أَبقَى وَأَنْقَى"، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ برْدَةٌ مَلْحَاءُ، قَالَ:" وَإِنْ كَانَتْ برْدَةً مَلْحَاءَ، أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي؟" , فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ، فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خوبصورت چادر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ خوبصورت ہو کیا تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ نہیں ہے؟ اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23087]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم وجهالة عمة الأشعث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23088
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ , عَنْ سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا بلَالُ، أَرِحْنَا بالصَّلَاةِ" .
ایک اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23088]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكن اختلف على سالم فى اسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23089
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبي خَلْدة , عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَفِظْتُ لَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں وضو کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23089]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23090
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا ابنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كُنَّا سِتَّ سِنِينَ عَلَيْنَا جُنَادَةُ بنُ أَبي أُمَيَّةَ، فَقَامَ فَخَطَبنَا، فَقَالَ: أَتَيْنَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّاسِ، فَشَدَّدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، فَقَالَ: " أَنْذَرْتُكُمْ الْمَسِيخ وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، قَالَ: أَحْسِبهُ قَالَ: الْيُسْرَى، يَسِيرُ مَعَهُ جِبالُ الْخُبزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ، عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبعِينَ صَباحًا، يَبلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ، لَا يَأْتِي أَرْبعَةَ مَسَاجِدَ: الْكَعْبةَ، وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ، وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى، وَالطُّورَ، وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ، فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بأَعْوَرَ" ، وَقَالَ ابنُ عَوْنٍ: وَأَحْسِبهُ قَدْ قَالَ:" يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ".
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کی ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ، بہرحال! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23090]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23091
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا يَحْيَى ، أَنْ بشَيْرِ بنِ يَسَارٍ أَخْبرَهُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بيْعِ الثَّمَرِ بالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ" ، قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بخَرْصِهِمَا مِنَ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور '' عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23091]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1540
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں