مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23588
حَدَّثَنَا حُسَين ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَخَاهُ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلْيَقُلْ: هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكَ"، أَوْ قَالَ:" يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ".
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23588]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23589
حَدَّثَنَا أَبو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْحَمِيدِ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ تِعْلَى ، عَنْ أَبي أَيُّوب، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبرِ الدَّابةِ" ، قَالَ أَبو أَيُّوب: لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبرْتُهَا.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے اس لئے اگر میرے پاس مرغی بھی ہو تو میں اسے باندھ کر نشانہ نہیں بناؤں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23589]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد بكير
حدیث نمبر: 23590
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ وَهْب ، عَنْ عَمْرِو بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ ابنِ تِعْلَى ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بأَرْبعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَ بهِمْ فَقُتِلُوا صَبرًا بالنَّبلِ، فَبلَغَ ذَلِكَ أَبا أَيُّوب ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبرِ" .
ابن تعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبدالرحمن بن خالد کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو دشمن کے چار جنگلی گدھے پکڑ کر لائے گئے انہوں نے حکم دیا اور ان چاروں کو باندھ کر تیروں سے قتل کردیا گیا، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23590]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف فإن فيه بين بكير بن عبدالله وبين أبن يعلى والد بكير عبدالله بن الأشج، وهو مجهول
حدیث نمبر: 23591
حَدَّثَنَا عَتَّاب ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بكَيْرُ بنُ الْأَشَجِّ ، أَنَّ أَباهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُبيْدَ بنَ تِعْلَى حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبرِ الدَّابةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23591]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد بكير
حدیث نمبر: 23592
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ، فَكَانَتْ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ، فَشَكَاهَا إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ: بسْمِ اللَّهِ، أَجِيبي رَسُولَ اللَّهِ"، قَالَ: فَجَاءَتْ، فَقَالَ لَهَا، فَأَخَذَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنِّي لَا أَعُودُ، فَأَرْسَلَهَا، فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟" , قَالَ: أَخَذْتُهَا، فَقَالَتْ لِي: إِنِّي لَا أَعُودُ، فَأَرْسَلْتُهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا عَائِدَةٌ، فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلَّ ذَلِكَ تَقُولُ: لَا أَعُودُ، وَيَجِيءُ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ:" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟" , فَيَقُولُ: أَخَذْتُهَا، فَتَقُولُ: لَا أَعُودُ، فَيَقُولُ: إِنَّهَا عَائِدَةٌ، فَأَخَذَهَا، فَقَالَتْ: أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبكَ شَيْءٌ، آيَةَ الْكُرْسِيِّ، فَأَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبرَهُ، فَقَالَ:" صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوب" ..
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے خیمے میں ہوتے تھے ایک جن عورت آتی اور انہیں پکڑ لیتی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جب تم اسے دیکھو تو یوں کہنا " بسم اللہ اجیبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چناچہ اگلی مرتبہ جب وہ آئی تو انہوں نے اسے یہی کہا اور اسے پکڑ لیا اس نے وعدہ کیا کہ میں آئندہ آپ کے پاس نہیں آؤں گی انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے پکڑ لیا تھا لیکن اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ نہیں آئے گی اس لئے میں نے اسے چھوڑ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر آئے گی، چناچہ میں نے اسے دو تین مرتبہ پکڑا اور وہ ہر مرتبہ یہی کہتی تھی کہ آئندہ نہیں آؤں گی بالآخر ایک مرتبہ اس نے کہا کہ اس مرتبہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایک چیز سکھاتی ہوں تم اسے کہہ لیا کرو کوئی چیز تمہارے قریب نہیں آسکے گی اور وہ آیت الکرسی ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بتائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23592]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23593
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنِ ابنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنْ أَبى لَيلى ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بإِسْنَادِهِ، يَعْنِي: حَدِيثَ الْغُولِ، قَالَ: أَبو أَيُّوب خَالِدُ بنُ زَيْد .
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23593]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23594
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا أَبو بكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي ظِبيَانَ ، قَالَ: غَزَا أَبو أَيُّوب مَعَ يَزِيدَ بنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَدْخِلُونِي أَرْضَ الْعَدُوِّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ حَيْثُ تَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ابوظبیان کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے جہاد میں شریک تھے وہ بیمار ہوگئے جب وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23594]
الحكم على الحديث:
صحيح بمجموع طرقه، إسناده منقطع ، أبو ظبيان لم يحضر ذالك من أبى أيوب، إنما رواه عن أشياخ له حضرو ذالك منه
حدیث نمبر: 23595
حَدَّثَنَا يُونُسُ بنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبي الزُّبيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَاصِمِ بنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ , أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ، فَفَاتَهُمْ الْغَزْوُ فَرَابطُوا، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَعِنْدَهُ أَبو أَيُّوب ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبا أَيُّوب، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ، وَقَدْ أُخْبرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، وَقَالَ حُجَيْنٌ: الْمَسَاجِدِ الْأَرْبعَةِ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبهُ، فَقَالَ: ابنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ" ، أَكَذَاكَ يَا عُقْبةُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عاصم بن سفیان ثقفی کہتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں وہ شریک تھے اس موقع پر جنگ تو نہیں ہوسکی البتہ مورچہ بندی ضروری ہوئی پھر جب وہ لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہاں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے عاصم نے کہا اے ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد رہ گیا ہے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو شخص مسجد میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں انہوں نے فرمایا بھتیجے! کیا میں تمہیں اس سے زیادہ آسان چیز نہ بتاؤں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص حکم کے مطابق وضو کرے اور حکم کے مطابق نماز پڑھے تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے عقبہ کیا اسی طرح ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23595]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 23596
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بنُ أَبي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَيُّوب بنِ خَالِدِ بنِ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيّ صَاحِب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " اكْتُمِ الْخِطْبةَ، ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، وَصَلِّ مَا كَتَب اللَّهُ لَكَ، ثُمَّ احْمَدْ رَبكَ وَمَجِّدْهُ، ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوب، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةَ تُسَمِّيهَا باسْمِهَا خَيْرًا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي بهَا" ، أَوْ قَالَ:" فَاقْدِرْهَا لِي"..
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ضرورت کو اپنے ذہن میں رکھ کر خوب اچھی طرح وضو کرو اور جتنا مقدر میں ہو نماز پڑھو، پھر اپنے رب کی تعریف و بزرگی بیان کرو پھر یہ دعا کرو کہ اے اللہ! تو ہر چیز پر قادر ہے میں قدرت نہیں رکھتا تو علم رکھتا ہے میں علم نہیں رکھتا اور تو علام الغیوب ہے اگر تو سمجھتا ہے کہ اس کام میں میرے لئے دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے بہتری ہوگی تو وہی فیصلہ میرے حق میں فرما دے اور اگر اس کے علاوہ کسی اور کام میں میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے بہتری ہوگی تو میرے حق میں اس کا فیصلہ فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23596]
الحكم على الحديث:
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن خالد فيه لين، وأبوه خالد مجهول
حدیث نمبر: 23597
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابنُ وَهْب ، أَخْبرَنِي حيوة , أن الوليد ابن أبى الوليد أخبره , فذكر بإسناده ومعناه..
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23597]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن خالد فيه لين، وأبوه خالد مجهول