🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23558
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ طَلْحَةَ بنِ عُبيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابنَ كَرِيزٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ , قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِي ثَوْبهِ قَمْلَةً، فَأَخَذَهَا لِيَطْرَحَهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلْ، ارْدُدْهَا فِي ثَوْبكَ حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے کپڑے میں ایک جوں دیکھی اس نے اسے پکڑ کر مسجد میں ہی پھینکنا چاہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ایسا مت کرو اسے اپنے کپڑوں میں ہی رہنے دو تاآنکہ مسجد سے نکل جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23558]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة بن إسحاق، وهو مدلس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23559
حَدَّثَنَا بهْزُ بنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابنَ عَبدِ اللَّهِ بنِ أَبي طَلْحَةَ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَقْبلُوا الْقِبلَةَ بفُرُوجِكُمْ، وَلَا تَسْتَدْبرُوهَا" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23559]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23560
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا ظِبيَانَ ، وَيَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي ظِبيَانَ ، قَالَ: غَزَا أَبو أَيُّوب الرُّومَ فَمَرِضَ، فَلَمَّا حُضِرَ، قَالَ: أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي، فَإِذَا صَافَفتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْلَا حَالِي هَذَا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ابوظبیان کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے جہاد میں شریک تھے وہ بیمار ہوگئے جب وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23560]

حکم دارالسلام: صحيح بمجموع طرقه، إسناده منقطع، أبو ظبيان لم يحضر ذلك من أبى أيوب، إنما رواه عن أشياخ له حضروا ذلك منه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23561
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو يَحْيَى بنِ سَعِيدٍ، أَخْبرَنِي عُمَرُ بنُ ثَابتٍ رَجُلٌ مِنْ بنِي الْحَارِثِ، أَخْبرَنِي أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَذَاكَ صِيَامُ الدَّهْرِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23561]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1164
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23562
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ صَلَاةَ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بالْمُزْدَلِفَةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23562]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1174، م: 1287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23563
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَنَشُ بنُ الْحَارِثِ بنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِيَاحِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بالرَّحْبةِ، فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا، قَالَ: كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَب؟ قَالُوا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ، يَقُولُ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ" ، قَالَ رِيَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوْا تَبعْتُهُمْ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ ..
ریاح بن حارث کہتے ہیں کہ ایک گروہ " رحبہ " میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا " السلام علیک یا مولانا " حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارا آقا کیسے ہوسکتا ہوں جبکہ تم عرب قوم ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے مقام پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں جب وہ لوگ چلے گئے تو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا اور میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کچھ انصاری لوگ ہیں جن میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23563]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23564
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَنَشٌ ، عَنْ رِيَاحِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: رَأَيْتُ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبةِ، فَقَالَ: مَنْ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: مَوَالِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23564]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23565
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبلَ الظُّهْرِ أَرْبعًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُصَلِّي صَلَاةً تُدِيمُهَا، فَقَالَ: " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي إِلَى السَّمَاءِ خَيْرٌ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23565]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبى أيوب، وعلي بن الصلت مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23566
قَرَأْتُ عَلَى عَبدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ أَخْبرَهُ أَنَّهُ " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا بالْمُزْدَلِفَةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23566]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1674، م: 1287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23567
حَدَّثَنَا عَتَّاب بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ ، أَخْبرَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، أَنَّ أَسْلَمَ أَبا عِمْرَانَ التُّجِيبيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ، فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" مَعِي مَعِي" ، وَكَذَا، قَالَ مَعْمَرٌ: فَبدَرَتْ مِنَّا بادِرَةٌ، وَقَالَ: صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23567]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں