موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ الْحَدِّ فِي الْقَذْفِ وَالنَّفْيِ وَالتَّعْرِيضِ
حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1557
قَالَ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَدْرَكْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَالْخُلَفَاءَ هَلُمَّ جَرًّا، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا جَلَدَ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ"
حضرت ابوزناد سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک غلام کو حدِ قذف کے اسّی (80) کوڑے لگائے، تو میں نے عبداللہ بن عامر سے پوچھا، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور خلفاء کو ان کے بعد دیکھا کہ کسی نے غلام کو حدِ قذف میں چالیس کوڑے سے زیادہ نہیں لگائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17139، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13793، 13794، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28215، 28228، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 17»
حدیث نمبر: 1558
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ الْأَيْلِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا، يُقَالُ لَهُ مِصْبَاحٌ، اسْتَعَانَ ابْنًا لَهُ، فَكَأَنَّهُ اسْتَبْطَأَهُ، فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ لَهُ: يَا زَانٍ. قَالَ زُرَيْقٌ: فَاسْتَعْدَانِي عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَجْلِدَهُ، قَالَ ابْنُهُ: وَاللَّهِ لَئِنْ جَلَدْتَهُ، لَأَبُوءَنَّ عَلَى نَفْسِي بِالزِّنَا. فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ، أَشْكَلَ عَلَيَّ أَمْرُهُ، فَكَتَبْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ الْوَالِي يَوْمَئِذٍ أَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ: أَنْ" أَجِزْ عَفْوَهُ". قَالَ زُرَيْقٌ: وَكَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَيْضًا: أَرَأَيْتَ رَجُلًا افْتُرِيَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَى أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَكَا أَوْ أَحَدُهُمَا؟ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ : " إِنْ عَفَا فَأَجِزْ عَفْوَهُ فِي نَفْسِهِ، وَإِنِ افْتُرِيَ عَلَى أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَكَا أَوْ أَحَدُهُمَا فَخُذْ لَهُ بِكِتَابِ اللَّهِ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ سِتْرًا" .
حضرت زریق بن حکیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جس کا نام مصباح تھا، اپنے بیٹے کو کسی کام کے واسطے بلایا، اس نے دیر کی، جب آیا تو مصباح نے کہا کہ اے زانی! کہا زریق نے: اس لڑکے نے میرے پاس فریاد کی، میں نے جب اس کے باپ کو حد مارنی چاہی تو وہ لڑکا بولا: اگر تم میرے باپ کو کوڑوں سے مارو گے تو میں زنا کا اقرار کر لوں گا، میں یہ سن کر حیران ہوا اور اس مقدمے کا فیصلہ کرنا مجھ پر دشوار ہوا تو میں نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا، وہ اس زمانے میں حاکم تھے مدینہ کے (سلمان بن عبدالملک کی طرف سے)۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب لکھا کہ لڑکے کے عفو کو جائز رکھ (یعنی بیٹے نے اگر باپ کو حد معاف کردی ہے تو عفو صحیح ہے)۔ زریق نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز کو یہ بھی لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص دوسرے پر تہمت زنا کی لگائے، یا اس کے ماں باپ کو، اور ماں باپ اس کے مر گئے ہوں یا دونوں میں سے ایک مر گیا ہو، تو پھر کیا کرے؟ عمر بن عبدالعزیز نے جواب میں لکھا کہ جس شخص کو تہمت زنا کی لگائے، اگر وہ معاف کر دے تو عفو درست ہے، لیکن اگر اس کے والدین کو تہمت زنا کی لگائے تو اس کا عفو کر دینا درست نہیں جب کہ والدین مر گئے ہوں، یا ان دو میں سے ایک مر گیا ہو، بلکہ حد لگا اس کو موافق کتاب اللہ کے، مگر جب بیٹا اپنے والدین کا حال چھپانے کے واسطے عفو کر دے تو عفو درست ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1558]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13811، 13812، 13813، 13817، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28824، 29496، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 18»
حدیث نمبر: 1558B1
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: وَذَلِكَ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ الْمُفْتَرَى عَلَيْهِ يَخَافُ إِنْ كُشِفَ ذَلِكَ مِنْهُ أَنْ تَقُومَ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَإِذَا كَانَ عَلَى مَا وَصَفْتُ فَعَفَا، جَازَ عَفْوُهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یعنی اس کو خوف ہو اگر میں تہمت لگانے والے کو معاف نہ کروں گا تو والدین کا زنا گواہوں سے ثابت ہوجائے گا، اس وجہ سے عفو کردے تو عفو درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1558B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 18»
حدیث نمبر: 1559
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَذَفَ قَوْمًا جَمَاعَةً:" أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا حَدٌّ وَاحِدٌ" .
حضرت عروہ بن زبیر نے کہا کہ جو شخص بہت سے آدمیوں پر ایک ہی قول میں زنا کی تہمت لگائے (مثلاً ان آدمیوں کو پکارے: اے زانیو! یا یوں کہے کہ تم زانی ہو) تو اس پر ایک ہی حد پڑے گی۔ (یعنی صرف اسّی کوڑے)۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1559]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13777، 13778، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28787، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 410/7، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 19»
حدیث نمبر: 1559B1
قَالَ مَالِك: وَإِنْ تَفَرَّقُوا، فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا حَدٌّ وَاحِدٌ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ لوگ جدا جدا ہو جائیں جب بھی ایک ہی حد پڑے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1559B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 19»
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اسْتَبَّا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: وَاللَّهِ مَا أَبِي بِزَانٍ وَلَا أُمِّي بِزَانِيَةٍ. فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ قَائِلٌ: مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: قَدْ كَانَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ غَيْرُ هَذَا، نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ، " فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ" .
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ دو مردوں نے گالی گلوچ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، ایک نے دوسرے سے کہا: قسم اللہ کی! میرا باپ تو بدکار نہ تھا نہ میری ماں بدکار تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات میں مشورہ کیا، ایک شخص بولا: اس میں کیا برائی ہے اس نے اپنے باپ اور ماں کی خوبیاں بیان کیں، اور لوگوں نے کہا: کیا اس کے باپ اور ماں کی صرف یہی خوبی تھی، ہمارے نزدیک اس کو حدِ قذف مارنی چاہیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو حد قذف ماری۔ (80) کوڑے لگائے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1560]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17147، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3479، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13725، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28965، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 19ق1»
حدیث نمبر: 1560B1
قَالَ مَالِك: لَا حَدَّ عِنْدَنَا إِلَّا فِي نَفْيٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ تَعْرِيضٍ، يُرَى أَنَّ قَائِلَهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ نَفْيًا أَوْ قَذْفًا، فَعَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْحَدُّ تَامًّا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک حد نہیں ہے، مگر قذف میں یا نفی میں (نفی کہتے ہیں نسب دور کرنے کو، مثلاً یہ کہنا تو اپنے باپ کا بیٹا نہیں ہے)، یا تعریض میں (یعنی اشارے کنائے میں کسی کو گالی دینا جیسے ابھی بیان ہوا)، ان سب صورتوں میں حد پوری پوری لازم آئے گی، لیکن یہ ضروری ہے کہ تعریض سے نفی یا قذف مقصود ہونا معلوم ہو جائے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1560B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1560B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 19ق1»
حدیث نمبر: 1560B2
قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا، أَنَّهُ إِذَا نَفَى رَجُلٌ رَجُلًا مِنْ أَبِيهِ، فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَإِنْ كَانَتْ أُمُّ الَّذِي نُفِيَ مَمْلُوكَةً، فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جب کوئی کسی کو اسی کے باپ سے نفی کرے تو حد واجب ہوگی، اگرچہ اس کی ماں لونڈی ہی کیوں نہ ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1560B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 19ق2»