🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ جَامِعِ الْقَطْعِ
ہاتھ کاٹنے کے مختلف مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1572
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، قَدِمَ فَنَزَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامِلَ الْيَمَنِ قَدْ ظَلَمَهُ، فَكَانَ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ:" وَأَبِيكَ، مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ". ثُمَّ إِنَّهُمْ فَقَدُوا عِقْدًا لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ. فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغٍ زَعَمَ أَنَّ الْأَقْطَعَ جَاءَهُ بِهِ، فَاعْتَرَفَ بِهِ الْأَقْطَعُ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ بِهِ، فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ :" وَاللَّهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي عَلَيْهِ مِنْ سَرِقَتِهِ" .
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا ہاتھ پاؤں کٹا ہوا (یعنی داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کٹا ہوا، دو بار اس نے چوری کی ہوگی) مدینہ میں آیا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس اُتر کر بولا کہ یمن کے حاکم نے مجھ پر ظلم کیا اور وہ راتوں کو نماز پڑھتا تھا (یعنی شب بیداری کرتا تھا)۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم تیرے باپ کی! تیری رات چوروں کی رات نہیں ہے۔ اتفاقاً ایک ہار سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بی بی کا گم ہو گیا، لوگوں کے ساتھ وہ لنگڑا بھی ڈھونڈتا پھرتا تھا، اور کہتا تھا کہ اے پروردگار! تباہ کر اس کو جس نے ایسے نیک گھر والوں کے ہاں چوری کی، پھر وہ ہار ایک سنار کے پاس ملا، سنار بولا: مجھے اس لنگڑے نے دیا ہے، اس لنگڑے نے اقرار کیا یا گواہی سے ثابت ہوا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم کیا تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! مجھے اس کی بدعا جو اپنے اوپر کرتا تھا، چوری سے زیادہ سخت معلوم ہوئی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1572]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17263، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 3287، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18769، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28256، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3368، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 30»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1572B1
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَسْرِقُ مِرَارًا ثُمَّ يُسْتَعْدَى عَلَيْهِ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ، لِجَمِيعِ مَنْ سَرَقَ مِنْهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ قَبْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَرَقَ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ، قُطِعَ أَيْضًا
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص نے کئی بار چوری کی، بعد اس کے گرفتار ہوا تو سب چوریوں کے بدلے میں صرف اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس کا ہاتھ نہ کٹا ہو، اور جو ہاتھ کٹنے کے بعد اس نے چوری کی چوتھائی دینار کے موافق، تو بایاں پاؤں کاٹا جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1572B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 30»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1573
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَذَ نَاسًا فِي حِرَابَةٍ وَلَمْ يَقْتُلُوا أَحَدًا، فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ أَوْ يَقْتُلَ. فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : " لَوْ أَخَذْتَ بِأَيْسَرِ ذَلِكَ"
ابوالزناد سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے ایک عامل نے چند آدمیوں کو ڈکیتی میں گرفتار کیا، پر انہوں نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا، عامل نے چاہا کہ ان کے ہاتھ کاٹے یا ان کو قتل کرے (کیونکہ ڈاکہ زنوں یا رہزنوں کی سزا یا تو قتل ہے، یا سولی ہے، یا ہاتھ پاؤں کاٹنا، یا جلاوطنی ہے)۔ پھر عمر بن عبدالعزیز کو اس بارے میں لکھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ اگر تو آسان امر کو (یعنی جلا وطنی یا قید کو) اختیار کرے تو بہتر ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17318، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو شخص بازار کے اُن مالوں کو چرائے جن کو مالکوں نے کسی برتن میں محفوظ کر کے رکھا ہو، ملا کر ایک درسرے سے، چوتھائی دینار کے موافق چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، برابر ہے کہ مالک وہاں موجود ہو یا نہ ہو، رات کو ہو یا دن کو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1573B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص چوتھائی دینار کے موافق مال چرائے، پھر مالِ مسروقہ مالک کے حوالے کردے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص نشے کی چیز پی چکا ہو اور اس کی بو آتی ہو اس کے منہ سے، لیکن اس کو نشہ نہ ہو تو پھر بھی حد ماریں گے، کیونکہ اس نے نشے کے واسطے پیا تھا، اگرچہ نشہ نہ ہوا ہو، ایسا ہی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ وہ چیز مالک کو پھیر دے کیونکہ اس نے لے جانے کے واسطے چرایا تھا اگرچہ لے نہ گیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1573B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کئی آدمی مل کر مال چرانے کے لیے ایک گھر میں گھسے، اور وہاں سے ایک صندوق یا لکڑی یا زیور سب ملا کر اٹھا لائے، اگر اس کی قیمت چوتھائی دینار ہو تو سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ہر ایک ان میں سے جدا جدا مال لے کر نکلا تو جس کا مال چوتھائی دینار تک پہنچے گا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جس کا اس سے کم ہوگا اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1573B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر ایک گھر ہو، اس میں ایک ہی آدمی رہتا ہو، اب کوئی آدمی اس گھر میں سے کوئی شئے چرائے لیکن گھر سے باہر نہ لے جائے، (مگراسی گھر میں ایک کوٹھڑی سے دوسری کوٹھڑی میں رکھے یا صحن میں لائے) تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا جب تک گھر سے باہر نہ لے جائے، البتہ اگر ایک گھر میں کئی کوٹھڑیاں الگ الگ ہوں اور ہر کوٹھڑی میں لوگ رہتے ہوں، اب کوئی شخص کوٹھڑی والے کا مال چرا کر کوٹھڑی سے باہر نکال لائے لیکن گھر سے باہر نہ نکالے تب بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1573B4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو غلام گھر میں آجاتا ہو، یا لونڈی آجاتی ہو اور اس کے مالک کو اس پر اعتبار ہو وہ اگر کوئی چیز چرائے اپنے مالک کی تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا، اسی طرح جو غلام یا لونڈی آمد و رفت نہ رکھتے ہوں، نہ ان کا اعتبار ہو، وہ بھی اگر اپنے مالک کا مال چرائیں تو ہاتھ نہ کاٹا جائے گا، اور جو اپنے مالک کی بیوی کا مال چرائیں یا اپنی مالکہ کے خاوند کا مال چرائیں تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1573B6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح مرد اپنی عورت کے اس مال کو چرائے جو اس گھر میں نہ ہو جہاں وہ دونوں رہتے ہیں، بلکہ ایک اور گھر میں محفوظ ہو، یا عورت اپنے خاوند کے ایسے مال کو چرائے جو اس گھر میں نہ ہو جہاں وہ دونوں رہتے ہیں بلکہ ایک اور گھر میں بند ہو، تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1573B7]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»