Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب ما جاء في الأطعمة
کھانوں کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 869
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا: ثنا قَبِيصَةُ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ پیے، کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2020»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ: ثني أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: الْقَاسِمُ عِنْدَنَا هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مذکورہ حدیث بیان کی ہے۔ ابومحمد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحیی سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے: ہمارے نزدیک ان شاء اللہ قاسم سے مراد ابو بکر بن عبید اللہ ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2020/105»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ، قَالَ:" إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلا تَقْرَبُوهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہیا کے متعلق پوچھا گیا، جو گھی میں گر کر مر جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر گھی جما ہوا ہو، تو چوہیا اور اس کے آس پاس کا گھی گرادیں اور اگر گھی پگھلا ہوا ہو، تو پھر اس کے قریب مت جائیں، مت کھائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 871]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 232/2، 233، سنن أبي داود: 3842، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (1393) نے صحیح کہا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَسَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالا: أنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوهُ" .
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، تو فرمایا: چوہیا اور اس کے آس پاس کا گھی پھینک دیں اور باقی کھالیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 872]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 235، 236، 5538، 5540»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى شَاةً مَيْتَةً لِبَعْضِ أَزْوَاجِهِ، فَقَالَ: أَلا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا فَانْتَفَعْتُمْ بِهَا" ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَكَانَ قَدْ سَمِعَهُ قَبْلَهُ بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کی مردہ بکری دیکھی، تو فرمایا: آپ نے اس کے چمڑے کو دباغت کیوں نہیں کی کہ اس سے استفادہ کر لیتے؟ عمرو بن دینار نے چالیس سال پہلے عطاء سے یہ روایت سنی تھی، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہم سے بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 364»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 874
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْفَعُهُ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چمڑا دباغت کیا جائے، وہ پاک ہو جاتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 874]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 366»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 875
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ أَنْ تُفْتَرَشَ" .
سیدنا اسامہ بن عمیر ہذلی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کے چمڑے کو بچھونا بنانے سے منع کیا ہے (ان پر بیٹھا نہ جائے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 875]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 74/5، 75، سنن أبي داود: 4132، سنن النسائي: 4258، سنن الترمذي: 1770، امام حاکم رحمہ اللہ (148/1) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ المعجم الکبیر للطبرانی (192/1) میں سعید بن ابی عروبہ کی متابعت شعبہ نے کر رکھی ہے، السنن الکبریٰ للبیہقی (218) میں اس کا بسندِ حسن شاہد بھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْحَدَّادُ ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الإِبِلِ، وَأَلْيَاتِ الْغَنَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتٌ" ، قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قَدْ حَدَّثَ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ.
سیدنا ابو واقد لیثی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے، تو وہاں کے لوگ (زندہ) اونٹوں کی کوہانیں اور بکریوں (دنبہ) کی چکلیاں کاٹ لیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور کا جو حصہ کاٹا جائے، وہ حرام ہے۔ یحیی بن معین کہتے ہیں: یحیی قطان نے بھی عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار سے بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 876]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 218/5، سنن أبي داود: 2858، سنن الترمذي: 1480، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب اور امام حاکم رحمہ اللہ (239/4) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 877
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ امْرَأَةً اتَّخَذَتْ خَاتَمًا، وَحَشَتْهُ أَطْيَبَ الطِّيبِ الْمِسْكَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا تذکرہ کیا، جس نے انگوٹھی بنوائی اور اس میں (نگینہ کی جگہ) عمدہ خوشبو یعنی مسک بھروائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 877]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2252/19»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ فِي سَرِيَّةٍ، فَنَفِدَ أَزْوَادُنَا، فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ فَنَهَانَا أَبُو عُبَيْدَةَ، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكُلُوا، فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا" .
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا ابو عبیدہ کے ساتھ ایک سریہ (چھوٹے لشکر) میں بھیجا، ہمارا کھانا ختم ہو گیا، ہم ایک مچھلی کے پاس سے گزرے، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، ہم نے اس میں سے کھانا چاہا، تو سیدنا ابوعبیدہ نے ہمیں منع کر دیا، پھر کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلے ہیں، لہذا اسے کھالیں، چنانچہ ہم کئی دنوں تک اسے کھاتے رہے، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ کو اس کی اطلاع دی، آپ نے فرمایا: اگر آپ کے پاس اس کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے، تو ہمارے ہاں بھیجیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 878]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2483، صحیح مسلم: 1935»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں