المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في الأحكام
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ" .
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: چراگاہ اللہ اور اس کے رسول کی ہی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2370»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1017
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أنا أَبُو عَوَانَةَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، كِلاهُمَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ يُوسُفَ ابْنِ أُخْتِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي طَرِيقٍ فَعَرْضُهُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر راستے کے متعلق جھگڑا ہو جائے تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ ہوگی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1613»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَ أَذْرُعٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستے کا عرض سات ہاتھ رکھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/429، سنن أبي داود: 3633، سنن الترمذي: 1356، سنن ابن ماجه: 2338، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اوپر والی حدیث اس کے لیے اصل ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَرَقَ مِنَ الأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" .
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی کی زمین چھینی (قبضہ کر لیا)، تو اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1019]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2452، صحیح مسلم: 1610»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي حَائِطٍ فَلا يَمْنَعْهُ" ، فَلَمَّا قَضَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثَهُ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ، قَالَ: مَالِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ، وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اپنے پڑوسی سے دیوار پر لکڑی (شہتیر وغیرہ) رکھنے کی اجازت مانگے تو وہ اسے منع نہ کرے، جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث پوری کی تو انہوں (سامعین) نے اپنے سر جھکا لیے، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس سے منہ موڑ رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان ضرور ڈالوں گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1020]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 2463، صحیح مسلم: 1609»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 1021
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلاهُمَا النَّخْلَ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ"، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجِذْرِ" ، وَاسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ أَرَادَ فِيهِ السَّعَةَ لِلزُّبَيْرِ وَلِلأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: مَا أَحْسَبُ هَذِهِ الآيَةَ إِلا نزلت فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 الآيَةَ، وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ.
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ایک انصاری آدمی جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوا تھا، حرہ (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی نالیوں کے بارے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جن سے وہ دونوں اپنی کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے، انصاری کہتا تھا: پانی کو بہنے دیا کریں، روکا نہ کریں، جب کہ (سیدنا زبیر) اس کا انکار کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! کھیتی سیراب کرنے کے بعد پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دیا کریں۔ انصاری ناراض ہو کر کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے آپ نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ (غصے سے) بدل گیا، پھر فرمایا: زبیر! کھیتی کو سیراب کر کے پانی کو روکے رکھنا حتیٰ کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر کو پورا پورا حق دیا، جب کہ پہلے آپ نے سیدنا زبیر کو اپنی طرف سے ایسا مشورہ دیا تھا، جس میں سیدنا زبیر اور انصاری دونوں کے لیے گنجائش موجود تھی، سیدنا زبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ (النساء: 65) (اللہ کی قسم! یہ مؤمن نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ آپ کو اپنے جھگڑوں میں فیصلہ تسلیم کر لیں۔) ایک راوی نے دوسرے کی نسبت لمبا واقعہ بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1021]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2708، صحیح مسلم: 2357»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1022
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَزَّازُ الدَّارِيُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَهْدَى بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي قَصْعَةٍ، فَضَرَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الْقَصْعَةَ بِيَدِهَا، فَأَلْقَتْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَعَامٌ كَطَعَامٍ وَإِنَاءٌ كَإِنَاءٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے پیالے میں آپ کے لیے کھانا بطور تحفہ بھیجا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیالے پر اپنا ہاتھ مار کر اسے گرا دیا (وہ ٹوٹ گیا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے جیسا کھانا اور برتن جیسا برتن دو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2481-5225»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، أَنْ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدِّينُ مَقْضِيُّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ" .
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر فرما رہے تھے: مستعار لی ہوئی چیز ادا کی جائے گی، منحہ (دودھ کے لیے لیا ہوا جانور) لوٹایا جائے گا، قرض ادا کیا جائے گا اور ضامن تاوان ادا کرے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن له شواهد: مسند الإمام أحمد: 5/267، سنن أبي داود: 3565، سنن الترمذي: 670-1265، سنن ابن ماجه: 2398، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن له شواهد
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: ثني سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ" .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جو چیز لیتا ہے، وہ ادا کرنے تک اس کے ذمہ ہوتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1024]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 5/8، سنن أبي داود: 3561، سنن الترمذي: 1266، سنن ابن ماجه: 2400، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2/47) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ سعید بن ابی عروبہ اور اس کا شیخ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي عُروة ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلا يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينَا إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لا يَعْلَمُ، قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس ہیں، مجھے اور بچوں کو اتنا خرچ نہیں دیتے جو ہمیں پورا ہو جائے، الا یہ کہ میں ان کے مال سے خفیہ طور پر لے لوں۔ آپ نے فرمایا: آپ معروف طریقے سے اتنا مال لے لیا کریں جو آپ کو اور آپ کے بچوں کو کافی ہو جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5364، صحیح مسلم: 1714»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح