المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
31. باب الهجرة
ہجرت کا بیان
حدیث نمبر: 1029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: ثني الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: ثني أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ؟ فَقَالَ:" وَيْحَكَ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتُعْطِي صَدَقَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: تَمْنَحُ مِنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتْرُكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ہجرت کے متعلق پوچھا: آپ نے فرمایا: اللہ آپ پر رحم کرے، ہجرت کے تقاضے بہت سخت ہیں، کیا آپ کے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ان کی زکوۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: ان کا دودھ تحفہ بھی کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: پانی کے گھاٹ پر ان کا دودھ دوہ کر دیتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندروں کے پار رہ کر اعمال کرتے رہو، اللہ تعالیٰ آپ کے اعمال (کی جزا میں) میں کمی نہیں کرے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2633، صحیح مسلم: 1865»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا" .
سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت ختم ہو چکی ہے اور جب آپ کو (جہاد کے لیے) نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2783، صحیح مسلم: 1353»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح