المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في الأحكام
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ أَخَذَهُ مِنْهُ وَطَلَبَ ذَلِكَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْهُ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی (دیوالیہ آدمی) کے پاس اپنا سامان پہچان لے، تو وہ اس سے لے لے، نیز اگر کسی نے اس سے خریدا ہو تو وہ اس سے واپس لے سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 5/16، سنن أبي داود: 3531، سنن النسائي: 4685، قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کی سند حجاج بن ارطاۃ ”ضعیف و مدلس“ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1027
أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُصِيبُ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلا ذَلِكَ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو پھلوں کی خریداری میں نقصان ہوا جس وجہ سے اس پر بہت زیادہ قرض ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کریں۔ لوگوں نے صدقہ کیا مگر قرض پورا ادا نہ ہو سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ملتا ہے لے لیں، اس کے علاوہ آپ کے لیے کچھ نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1556»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ: ثني عَبَّادُ بْنُ اللَّيْثِ قَالَ: ثني عَبْدُ الْمَجَيدِ هُوَ ابْنُ أَبِي زَيْدٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : أَلا أُقْرِئَكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا، فَإِذَا فِيهِ: " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْدَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً عَبَّادٌ يَشُكُّ لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ وَلا خِبْثَةَ بَيْعِ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ" .
ابو وہب کہتے ہیں کہ سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ نے مجھ سے کہنے لگے: کیا میں آپ کو وہ خط نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ کر دیا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے ایک خط نکالا جس میں لکھا تھا: یہ تحریر اس بارے میں ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ہے، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی خریدی تھی، مسلمانوں کی باہمی تجارت میں دھوکہ، برائی اور حیلہ بازی نہیں ہوتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1028]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 5/30، سنن الترمذي: 1216، سنن ابن ماجه: 2251، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔ اس روایت کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: والحديث حسن فى الجملة (تعليق التغليق: 3/219)۔ عباد بن لیث جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ اس کی متابعت منہال بن بحر (حسن الحدیث) نے کر رکھی ہے۔ المعجم الکبیر للطبرانی (18/12) اور السنن الکبریٰ للبیہقی (5/328) میں اس کا ایک شاہد بھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن