المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في الأحكام
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا، الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُباب ، قَالَ: أنا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: أَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ" ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَلَفٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَانَ عِنْدَنَا ثَابِتًا مِمَّنْ يَصْدُقُ وَيَحْفَظُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرما دیا۔ (کسی فیصلہ کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اگر دو گواہ نہ ہوں، تو ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔) علی بن عبد الله کہتے ہیں: میں نے یحیی بن سعید سے سیف بن سلیمان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ ہمارے نزدیک ثابت تھا، سچے اور حافظ لوگوں میں سے تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1712»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 1007
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ فرما دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح سنن أبي داود: 3610، سنن الترمذي: 1343، سنن ابن ماجه: 2368، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (6015) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5073) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح سنن أبي داود
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور گواہ پر فیصلہ فرما دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 3/305، سنن الترمذي: 1344، سنن ابن ماجه: 2369»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: ثني ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بستی والوں کے خلاف خانہ بدوش کی گواہی جائز نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح سنن أبي داود: 3602، سنن ابن ماجه: 2367»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح سنن أبي داود
حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: ثني عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثُمَّ قَالَ: لَمْ يُحَدِّثْنِي، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ:" كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ؟ قَالَ: فَنَهَاهُ عَنْهَا" .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو إہاب کی بیٹی سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے پھر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ موڑ لیا، تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ تیرے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ پس آپ نے اسے اس (بیوی کے ساتھ رہنے) سے منع کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2659»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ عُقْبَةَ أَيْضًا، قَالَ" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: " فَكَيْفَ يُصْنَعُ بِقَوْلِ هَذِهِ؟ دَعْهَا عَنْكَ" ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ؟.
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا اور عرض کی: وہ جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے دوسری طرف سے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! وہ جھوٹی ہے، فرمایا: اس (عورت) کی بات کا کیا کیا جائے؟ اسے طلاق دے دیں۔ معمر کہتے ہیں: میں نے ایوب سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ آپ کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5104»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ، فَأَسْرَعَ الْفَرِيقَانِ جَمِيعًا، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِينِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں پر قسم پیش کی، تو دونوں ہی گروہ قسم کھانے میں تیزی دکھانے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے کہ قسم کون اٹھائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2674»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1013
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ لِيَقْطَعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لا حَتَّى تَقْطَعَ لإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینا چاہا تو انہوں نے کہا: ہم اس وقت تک نہیں لیں گے، جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو نہ دیں، آپ نے فرمایا: میرے بعد دوسرے لوگوں کو آپ پر ترجیح دی جائے گی، تو آپ مجھ سے ملنے تک صبر کرنا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2376»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ: ثني اللَّيْثُ ، قَالَ: ثني عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أُعْمِرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" ، قَالَ عُرْوَةُ: وَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلافَتِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسی زمین آباد کی جو کسی کی ملکیت نہ تھی، تو وہی اس کا حقدار ہو گا۔ عروہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں یہی فیصلہ کیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2335»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بنجر زمین کے گرد دیوار بنائی (اور اسے آباد کیا)، تو وہ محصور زمین اسی کی ملکیت ہوگی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 5/12-21، سنن أبي داود: 3077، السنن الكبرى للنسائي: 5763، مسند الطيالسي: 906، المعجم الكبير للطبراني (7/209، ح: 6865) میں قتادہ سے شعبہ روایت کر رہے ہیں، لہذا قتادہ کی تدلیس کا اعتراض رفع ہوا، امام حسن بصری رحمہ اللہ کی سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کتاب سے ہوتی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن