صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب اسْتِخْلاَفِ الإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدَرَ عَلَيْهِ وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ:
باب: مرض، سفر یا اور کسی عذر کی وجہ سے امام کا نماز میں کسی کو خلیفہ بنانا، اور اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہو، کیونکہ قیام کی طاقت رکھنے والے مقتدی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 419 ترقیم شاملہ: -- 946
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا.
معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سوموار کا دن آیا ... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 946]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 946]
ترقیم فوادعبدالباقی: 419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 419 ترقیم شاملہ: -- 947
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: بِالْحِجَابِ، فَرَفَعَهُ فَلَمَّا، وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ، كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ وَضَحَ لَنَا، قَالَ: فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ ".
عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کے ایام میں) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے، (انہی دنوں میں سے) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کمرے کے) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا، جب ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے نظارے سے، جو ہمارے سامنے تھا، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو۔ وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 947]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کے ایام میں) تین دن ہمارے پاس تشریف نہیں لائے، (انہی دنوں میں) ایک دن نماز کھڑی کی گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجرہ مبارک کا) پردہ اٹھایا، جب ہمارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ انور ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے (چہرے) مبارک سے زیادہ حسین و پسندیدہ منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہاتھ کے اشارے سے آگے بڑھنے کے لیے فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 947]
ترقیم فوادعبدالباقی: 419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 420 ترقیم شاملہ: -- 948
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ، لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ: " مُرِي أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ "، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ، حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: وہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”(اے عائشہ!) ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ (معاملہ کرنے) والیوں کی طرح ہو۔“ انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 948]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے شدت اختیار کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، وہ نرم دل ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر کو کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ معاملہ کرنے والیوں کی طرح ہو۔“ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 420
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة