صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس وان من صلى خلف إمام جالس لعجزه عن القيام لزمه القيام إذا قدر عليه ونسخ القعود خلف القاعد في حق من قدر على القيام:
باب: مرض، سفر یا اور کسی عذر کی وجہ سے امام کا نماز میں کسی کو خلیفہ بنانا، اور اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہو، کیونکہ قیام کی طاقت رکھنے والے مقتدی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 420 ترقیم شاملہ: -- 948
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ، لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ: " مُرِي أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ "، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ، حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: وہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”(اے عائشہ!) ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ (معاملہ کرنے) والیوں کی طرح ہو۔“ انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 948]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے شدت اختیار کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، وہ نرم دل ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر کو کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ معاملہ کرنے والیوں کی طرح ہو۔“ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 420
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
678
| مروا أبا بكر فليصل بالناس قالت عائشة إنه رجل رقيق إذا قام مقامك لم يستطع أن يصلي بالناس قال مروا أبا بكر فليصل بالناس فعادت فقال مري أبا بكر فليصل بالناس فإنكن صواحب يوسف فأتاه الرسول فصلى بالناس في حياة النبي |
صحيح البخاري |
3385
| مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت عائشة إن أبا بكر رجل كذا فقال مثله فقالت مثله فقال مروا أبا بكر فإنكن صواحب يوسف فأم أبو بكر في حياة رسول الله |
صحيح مسلم |
948
| مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت عائشة يا رسول الله إن أبا بكر رجل رقيق متى يقم مقامك لا يستطع أن يصلي بالناس فقال مري أبا بكر فليصل بالناس فإنكن صواحب يوسف قال فصلى بهم أبو بكر حياة رسول الله |
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري