مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
18. ما قالوا فيه إذا انصرف وقد نقص من صلاته وتكلم
اگر امام کو نماز میں سہو ہو جائے اور وہ سجدہ سہو نہ کرے تو لوگ کیا کریں؟
ترقیم عوامۃ: 4543 ترقیم الشثری: -- 4578
٤٥٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (١) شبابة بن سوار قال: حدثنا (٢) ليث بن سعد عن يزيد بن ابي حبيب ان سويد بن قيس اخبره عن معاوية بن (حديج) (٣) ان النبي ﷺ صلى يوما فسلم وانصرف وقد بقي عليه من الصلاة ركعة فادركه رجل ⦗٤٩٠⦘ فقال: نسيت من الصلاة ركعة فرجع فدخل المسجد وامر بلالا فاقام الصلاة فصلى بالناس ركعة فاخبرت بذلك الناس فقالوا: اتعرف الرجل (فقلت) (٤) : لا، إلا ان اراه فمر بي فقلت: هو هذا، فقالوا: هذا طلحة بن عبيد الله (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) في [جـ، ك]: (نا).
(٣) في [أ، ب]: (جريج)، وفي [هـ]: (خديج)، قال في التقريب: "بمهملة ثم جيم مصغر".
(٤) في [أ، ب]: (فقال).
(٥) صحيح، أخرجه أحمد (٧٢٥٤)، وأبو داود (١٠٢٣)، والنسائي ٢/ ١٨، وابن خزيمة (١٠٥٢)، والطحاوي (١/ ٤٤٨)، والحاكم (١/ ٢٦١)، والبيهقي (٢/ ٣٥٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٤٥٢)، وابن حبان (٢٦٧٤)، والطبراني ١٩ (١٠٤٨).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا شبابة بن سوار ، قال: حدثنا ليث بن سعد ، عن يزيد بن ابي حبيب , ان سويد بن قيس اخبره، عن معاوية بن حديج ," ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم وانصرف، وقد بقي عليه من الصلاة ركعة فادركه رجل، فقال: نسيت من الصلاة ركعة , فرجع فدخل المسجد وامر بلالا فاقام الصلاة، فصلى بالناس ركعة" , فاخبرت بذلك الناس، فقالوا: اتعرف الرجل؟ فقلت: لا إلا ان اراه فمر بي، فقلت: هو هذا , فقالوا: هذا طلحة بن عبيد الله
حضرت معاویہ بن حدیج کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چل دیئے حالانکہ ابھی ایک رکعت باقی رہتی تھی۔ ایک آدمی حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے گئے اور جا کر عرض کیا کہ آپ نماز کی ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کر حضرت بلال کو حکم دیا کہ اقامت کہیں۔ انہوں نے اقامت کہی اور نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ میں نے لوگوں کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا؟ میں نے کہا کہ ویسے تو میں نہیں جانتا لیکن اگر دیکھوں گا تو پہچان لوں گا۔ پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھ کر کہا کہ یہی وہ آدمی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ طلحہ بن عبید اللہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4578]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4578، ترقيم محمد عوامة 4543)
ترقیم عوامۃ: 4544 ترقیم الشثری: -- 4579
٤٥٧٩ - حدثنا شبابة عن ليث عن يزيد (عن) (١) عمران بن (ابي) (٢) انس عن ابي سلمة عن ابي هريرة ان النبي ﷺ صلى يوما فسلم في ركعتين ثم انصرف فادركه (ذو) (٣) الشمالين فقال: يا رسول الله انقصت الصلاة ام نسيت؟ قال:"لم تنقص الصلاة ولم انس" (قال) (٤) : بلى، والذي بعثك بالحق فقال النبي ﷺ:"اصدق ذو اليدين؟" قالوا: نعم يا رسول الله فصلى بالناس ركعتين (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د، هـ]: (بن).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، د، ك، هـ].
(٣) في [أ]: (ذوي).
(٤) في [أ، ب]: (وقال)، وفي [جـ، ك]: (فقال).
(٥) صحيح، أخرجه النسائي ٣/ ٢٣، والطحاوي ١/ ٤٤٥، وأصله عند البخاري (١٢٢٧) وأحمد (٩٤٤٤).
حدثنا شبابة ، عن ليث ، عن يزيد ، عن عمران بن ابي انس ، عن ابي سلمة ، عن ابي هريرة ، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم في ركعتين ثم انصرف، فادركه ذو الشمالين، فقال: يا رسول الله , انقصت الصلاة ام نسيت، قال:" لم تنقص الصلاة ولم انس"، قال: بلى والذي بعثك بالحق , فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" اصدق ذو اليدين"؟ قالوا: نعم يا رسول الله , فصلى بالناس ركعتين
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھ کر غلطی سے سلام پھیر دیا۔ جب آپ چل پڑے تو ذوشمالین نے جاکر عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں نے نماز کو کم کیا ہے اور نہ میں بھولا ہوں! ذوشمالین نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! ایسا کچھ ہوگیا ہے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذو الیدین (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) سچ کہتا ہے؟ انہوں نے تصدیق کی تو رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4579، ترقيم محمد عوامة 4544)
ترقیم عوامۃ: 4545 ترقیم الشثری: -- 4580
٤٥٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن ابي سلمة عن ابي هريرة ان النبي ﷺ صلى الظهر ركعتين ثم سلم فقيل له: انقص من الصلاة؟ فصلى ركعتين اخراوين (وسلم) (١) ثم سجد سجدتين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (فسلم).
(٢) صحيح، أخرجه البخاري (٧١٥)، وأحمد (٩٠١٠).
حدثنا غندر ، عن شعبة ، عن سعد بن إبراهيم ، عن ابي سلمة ، عن ابي هريرة ," ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر ركعتين ثم سلم , فقيل له: انقص من الصلاة؟ فصلى ركعتين اخراوين وسلم ثم سجد سجدتين"
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز میں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر دو سری دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے فرمائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4580]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4580، ترقيم محمد عوامة 4545)
ترقیم عوامۃ: 4546 ترقیم الشثری: -- 4581
٤٥٨١ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عكرمة قال: صلى النبي ﷺ بالناس ثلاث ركعات ثم انصرف فقال له بعض القوم: حدث في الصلاة شيء؟ قال:"وما ذاك؟) قالوا: لم تصل إلا ثلاث ركعات، فقال:"اكذلك يا ذا اليدين؟" وكان يسمى (ذا) (١) الشمالين قال: نعم قال: فصلى ركعة وسجد سجدتين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (ذي)، في [ب، جـ، ك]: (ذا)، وفي [هـ، د]: (ذو).
(٢) مرسل.
حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو تین رکعات نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے صرف تین ہی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا اے ذو الدمین! (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر دو سجدے کئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4581]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4581، ترقيم محمد عوامة 4546)
ترقیم عوامۃ: 4547 ترقیم الشثری: -- 4582
٤٥٨٢ - حدثنا ابن علية عن خالد عن ابي قلابة عن (ابي) (١) المهلب عن عمران بن حصين قال صلى رسول الله ﷺ العصر فسلم في ثلاث ركعات ثم دخل فقام إليه رجل يقال له الخرباق فقال: يا رسول الله فذكر له الذي صنع فخرج مغضبا يجر رداءه حتى انتهى إلى الناس فقال:"صدق هذا؟" قالوا: نعم. قال: فصلى تلك الركعة ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (ابن).
(٢) صحيح، أخرجه مسلم (٥٧٤) وأحمد (١٩٨٢٨).
حدثنا ابن علية ، عن خالد ، عن ابي قلابة ، عن ابي المهلب ، عن عمران بن حصين ، قال: " صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر فسلم في ثلاث ركعات ثم دخل فقام إليه رجل يقال له: الخرباق، فقال: يا رسول الله , فذكر له الذي صنع فخرج مغضبا يجر رداءه حتى انتهى إلى الناس، فقال:" صدق هذا"؟ قالوا: نعم، قال: فصلى تلك الركعة ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلم"
حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر حجرۂ مبارکہ میں تشریف لے گئے۔ خرباق نامی ایک آدمی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آج ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے سے اپنی چادر مبارک گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا یہ سچ کہتا ہے؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4582]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4582، ترقيم محمد عوامة 4547)
ترقیم عوامۃ: 4548 ترقیم الشثری: -- 4583
٤٥٨٣ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا (١) عبيد الله عن نافع عن ابن عمر ان رسول الله ﷺ صلى بالناس ركعتين فسها فسلم فقال له رجل يقال له ذو اليدين، فذكر مثل حديث ابن عون وهشام وحديثهما انه قال: نقصت الصلاة، (فقال) (٢) : لا. فصلى ركعتين اخراوين (ثم سلم) (٣) ثم سجد سجدتين ثم سلم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) في [أ]: (فقالوا).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) صحيح، أخرجه أبو داود (١٠١٧)، وابن ماجه (١٢١٣)، وابن خزيمة (١٠٣٤)، والبيهقي ٢/ ٣٥٩.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور غلطی سے سلام پھیر دیا۔ ذو الیدین نامی ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا پھر دوسجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4583]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4583، ترقيم محمد عوامة 4548)
ترقیم عوامۃ: 4549 ترقیم الشثری: -- 4584
٤٥٨٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عاصم عن المسيب بن رافع ان الزبير ⦗٤٩٢⦘ ابن العوام صلى فتكلم فبنى على صلاته (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ المسيب لم يسمع من الزبير.
حدثنا حدثنا ابن مهدي، عن سفيان، عن عاصم، عن المسيب بن رافع، ان الزبير بن العوام " صلى فتكلم فبنى على صلاته"
حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر بن عوام نے نماز پڑھی، پھر بات کی پھر اسی نماز کو مکمل فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4584]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4584، ترقيم محمد عوامة 4549)
ترقیم عوامۃ: 4550 ترقیم الشثری: -- 4585
٤٥٨٥ - حدثنا يحيى بن سعيد (عن محمد بن عجلان) (١) عن محمد بن يوسف عن ابيه قال: فات ابن الزبير بعض الصلاة فقال لي بيده: كم فاتني؟ قال قلت: لا ادري ما تقول قال: كم (صليتم) (٢) قلت: كذا وكذا قال: فصلى وسجد سجدتين (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [د، هـ].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (صليت).
(٣) حسن، يوسف قال فيه الدارقطني: لا بأس به.
حدثنا حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن عجلان، عن محمد بن يوسف، عن ابيه، قال: فات ابن الزبير بعض الصلاة، فقال لي بيده: كم فاتني؟ قال: قلت: لا ادري ما تقول، قال: كم صليت؟ قلت: كذا وكذا، قال:" فصلى وسجد سجدتين"
حضرت محمد بن یوسف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر کی کچھ نماز فوت ہوگئی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کتنی نماز فوت ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ میں نہیں سمجھ رہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے کتنی نماز پڑھ لی ہے؟ میں نے کہا کہ اتنی نماز پڑھ لی ہے۔ پھر انہوں نے نماز پڑھی اور سہو کے دو سجدے کئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4585]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4585، ترقيم محمد عوامة 4550)
ترقیم عوامۃ: 4551 ترقیم الشثری: -- 4586
٤٥٨٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن مكحول ان ابا الدرداء صلى بهم في سقيفة بالشام وهم خارجون قال: فمطروا مطرا بلغ منهم فلما صلى (وسلم) (١) قال: اما كان في القوم فقيه يقول يا هذا خفف فإنا قد مطرنا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ك]: (أو سلم).
(٢) منقطع؛ لا رواية لمكحول عن أبي الدرداء.
حدثنا حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن عجلان، عن مكحول، ان ابا الدرداء صلى بهم في سقيفة بالشام وهم خارجون، قال: فمطروا مطرا بلغ منهم فلما صلى وسلم، قال: " اما كان في القوم فقيه يقول يا هذا , خفف فإنا قد مطرنا"
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت ابو الددراء نے لوگوں کو شام میں نماز پڑھائی، حضرت ابو الدرداء ایک چھت کے نیچے تھے اور لوگ باہر تھے۔ اتنے میں بارش ہوگئی اور لوگ بھیگ گئے۔ جب حضر ت ابو الدرداء نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے فرمایا کہ کیا لوگوں میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جو یہ کہہ دیتا کہ ”اے امام! نماز کو مختصر کردے ہم پر بارش ہورہی ہے“ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4586]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4586، ترقيم محمد عوامة 4551)
ترقیم عوامۃ: 4552 ترقیم الشثری: -- 4587
٤٥٨٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن ابن الاصبهاني عن عكرمة ان النبي ﷺ صلى (١) العصر ركعتين ثم سلم ودخل فدخل عليه رجل من اصحابه يقال له ذو الشمالين فقال: يا رسول الله قصرت الصلاة؟ قال: ماذا؟ قال: صليت ركعتين فخرج فقال:"ما يقول ذو اليدين؟" فقالوا: يا رسول الله؛ نعم، فصلى بهم ركعتين وسجد سجدتين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (كلمة غير واضحة).
(٢) مرسل.
حدثنا وكيع ، عن إسماعيل ، عن ابن الاصبهاني ، عن عكرمة ، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى العصر ركعتين ثم سلم ودخل فدخل عليه رجل من اصحابه يقال له: ذو الشمالين، فقال: يا رسول الله , قصرت الصلاة؟ قال:" ماذا؟" قال: صليت ركعتين , فخرج فقال:" ما يقول ذو اليدين؟" فقالوا: يا رسول الله , نعم , فصلى بهم ركعتين وسجد سجدتين"
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز میں دو رکعتیں پڑھادیں۔ پھر سلام پھیر کر گھر تشریف لے گئے۔ آپ کے صحابہ میں سے ذوالیدین نامی ایک صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا! انہوں نے کہا کہ آپ نے آج دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا ذو الیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں اور سہو کے دو سجدے کئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4587، ترقيم محمد عوامة 4552)